حکمت اور شعور کی خصوصیات ایک دوسرے کے متضاد ہیں کیونکہ ان کا تعلق دو مختلف زبانوں سے ہے، حکمت انسان کے سنہری دور کی اس غیر کلامی زبان سے جڑی ہے جسے ٹیلی پیتھک زبان کہا جا سکتا ہے، اس زبان میں الفاظ کے بغیر فرد صرف اپنے لمحۂ موجود کی کیفیت دوسرے تک پہنچا سکتا ہے، اس زبان کے جاننے والے اہل حکمت ہیں/تھے ، مگر ماضی کے تجربات اور مستقبل کی منصوبہ بندی اس ٹیلی پیتھک زبان کی مدد سے شیئر کرنا ممکن نہیں تھا ، اس کیلئے باقاعدہ ایک کلامی زبان کی ضرورت تھی جو وقت کے ساتھ نمودار ہوئی، کلامی زبان کیسے سامنے آئی اس بارے اختلاف ہے، ایک رائے یہ ہے کہ جانوروں کی آوازوں، اعضاء کی حرکات اور فطرت کے شور شرابے کی نقل کرتے ہوئے انسان نے آہستہ آہستہ کلامی زبان کی بنیاد ڈالی ، دوسری رائے میں خدا نے آدم کو جو اشیاء کے نام سکھائے یہی پہلی باقاعدہ زبان تھی جسے Meta language کہا جا سکتا ہے، باقی زبانیں پھر اسی کی بنیاد پر آگے بڑھیں، معاملہ جو بھی ہو واقعہ یہ ہے کہ ایک باقاعدہ کلامی زبان نے ہی شعور کی بنیاد ڈالی ، اس سے پہلے شعور انسانوں میں ناپید تھا۔
اہلِ حکمت اس کلامی زبان کے خلاف تھے جبکہ اہل شعور اس کے حامی، یہیں سے دو مختلف انسانی مزاج سامنے آئے، وہ جو ٹیلی پیتھک زبان کو ہی انسان کی اصل مانتے تھے ان کی اکثریت introvert مزاج رکھتی ہے، اور اہل شعور کی اکثریت extrovert مزاج کے حامل ہیں، یعنی اہل حکمت انسان کی اندرونی دنیا اور اہل شعور بیرونی دنیا پر زیادہ غور وفکر کرتے ہیں۔
اہلِ شعور نے البتہ زبان کی مدد سے اس خوف پہ قابو پا لیا جو مظاہر فطرت کی جانب سے انہیں درپیش تھا، جبکہ اہل حکمت ذرائع ابلاغ کے محدود ہونے سے اس خوف سے باہر نہ آسکے، ماحولیاتی خطرات اور مظاہر فطرت کے خوف نے اہل حکمت کو معاشرے کی داغ بیل ڈالنے پہ مجبور کیا کہ مل جل کر ان خطرات اور خوف سے لڑا جائے، سماج کی ابتداء اہل حکمت کا کارنامہ ہے نہ کہ اہلِ شعور کا، اب سماج کی جب باقاعدہ بنیاد رکھ دی گئی تو تبادلۂ خیال اور اجتماعی زندگی کیلئے اہل حکمت کو کلامی زبان مجبوراََ سیکھنا پڑی کہ اس کے بغیر کوئی دوسرا حل موجود نہ تھا، لیکن لفظ کے وہ ہمیشہ دشمن رہے کہ الفاظ اندرونی کیفیات کی پاکیزگی کو متاثر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بدھا سے لے کر کرشنا مورتی اور اوشو تک یہ سب لوگ الفاظ کو غیر ضروری سمجھتے تھے اور مراقبے اور وحدت الوجودی اپروچ کی مدد سے mindless state کی ترویج کرتے رہے، کیونکہ حکمت کی تعریف ہی یہی ہے کہ حکمت کائنات کی تمام حالتوں کی بیک وقت حالت کا نام ہے، اگرچہ یہ سب سمجھانے کیلئے انہیں اسی کلامی زبان کی ضرورت رہی کہ اس کے بغیر چارہ نہ تھا۔
ہر فرد اپنے اندر وہ ٹیلی پیتھک خصوصیات لے کر پیدا ہوتا ہے جو زبان کے ارتقاء سے قبل اس کے پرکھوں میں موجود تھیں ، اسی لئے اوائل عمر میں بچہ ماں کی زبان سے سنے گئے الفاظ کے معانی بغیر کسی لغت کے فورا سمجھ لیتا ہے کہ بچے میں مضمرات کی ٹیلی پیتھک گرفت موجود ہوتی ہے ۔ یعنی آج ہر انسان پیدائشی طور پر پرکھوں سے حکمت کا ایک عنصر لے کر پیدا ہوتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ زبان کی مدد سے شعور کی منازل طے کرتا ہے، زبان جتنی فصیح و بلیغ ہوگی شعور اتنا بلند ہوگا، اگرچہ انفرادی قابلیت بھی اس میں کار فرما ہے، بچہ اگر کسی جنگل یا بیاباں میں پروان چڑھے جیسے ٹارزن یا maugli وغیرہ تو ایسے میں حکمت کا عنصر تو اس میں پایا جا سکتا ہے لیکن شعور نہیں ہوگا۔
آج سماج میں کلامی زبان کے حامی اور مخالفین( لاشعوری سطح پر) چونکہ اکٹھے رہ رہے ہیں تو حکمت اور شعور دونوں عناصر ان میں موجود ہیں، اسی لئے ہم شعور و حکمت کو اکٹھا بطور اصطلاح استعمال کرتے ہیں، اگرچہ فرد کا کسی ایک طرف جھکاؤ واضح محسوس ہوگا، یعنی خالص حکمت یا خالص شعور کا کسی ایک فرد میں ہونا آج ممکن نہیں ۔
غیر کلامی ٹیلی پیتھک زبان یعنی حکمت کی زبان کا آج اعلی ترین اظہار فنون لطیفہ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے، جیسے موسیقی، موسیقی میں الفاظ کی آمیزش تو بعد میں سامنے آئی ، اصل موسیقی وہی ہے جو آلات کی مدد سے بجائی جاتی ہے، موسیقی کو سنتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کچھ جان رہے ہوں، جیسے کسی اندرونی راز کے بند دروازے کی چابی آپ پا لیتے ہیں، یہی معاملہ مصوری کا ہے کہ ایک تصویر کی مدد سے کوئی اہم اور گھمبیر پیغام آپ سمجھ رہے ہوتے ہیں، شاعری کی نثر پہ فتح حاصل کرنے کی کوشش بھی اہل حکمت کی جدوجہد ہے کہ ایک مصرعے میں گویا کوئی اچھوتی اور اندرونی کہانی بیان کر دی جائے، جمالیاتی حس کی سرشاری اسی کا نام ہے، نثر البتہ اہل شعور کا شیوہ ہے، اگرچہ ان فنون میں اب حکمت اور شعور کی آمیزش ایسے ہو چکی ہے کہ کسی واحد عنصر کا پایا جانا ممکن نہیں رہا، لیکن واضح جھکاؤ پھر بھی محسوس ہوتا ہے۔
تھوڑا سا غور کرنے پر معلوم ہوگا آج فنونِ لطیفہ کا جھنڈا عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے، جبکہ اکیڈمک علوم جیسے سائنس وغیرہ میں یہودی ماہرین پیش پیش ہیں، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ عیسائیوں کی اکثریت مزاجاً اہل حکمت والے گروہ سے تعلق رکھتی ہے، عیسائی مذہب اصل میں ایسا ہے یا اس میں انحراف ہوا، یہ بحث اس وقت ثانوی ہے، لیکن آج مروج عیسائی اقدار کا جھکاؤ حکمت کی طرف ہے اسی لئے گزشتہ کئی صدیوں میں فنونِ لطیفہ کو عروج دینے میں عیسائیوں کا کردار نمایاں ہے، دوسری طرف اکیڈمک علوم ، نئی ایجادات اور دریافتوں کا سہرا بلاشبہ یہودیوں کے سر ہے کہ وہ مزاجاً حکمت کی بجائے شعور کو ترجیح دیتے آئے ہیں کہ ان کی مذہبی اقدار شعور پہ زور دیتی ہیں، یہاں ایک اور دلچسپ حقیقت بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ یہودی وہ واحد قوم ہے جن کی مذہبی کتاب کی زبان اور عام بول چال کی زبان ( domestic language ) ایک ہی ہے، یعنی تورات اور گھریلو زبان کو انہوں نے یک جان رکھا ہوا ہے۔ مسلمان، عیسائی اور ہندو اس ضمن میں ناکام ہوئے ہیں ۔
جیسا کہ عرض کیا کہ سماج کی داغ بیل اہل حکمت نے ڈالی اور یہی صاحبانِ حکمت زبان یعنی Logus کے خلاف ہیں، اور پھر شعور کا دارومدار اسی لوگس پر ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ سماج بحیثیت مجموعی شعور مخالف ہے، جوں جوں یہ سماج بڑھتے ہوئے ریاست کی شکل اختیار کرتا گیا، عام آدمی کیلئے ریاست کے پیغام کو سمجھنا مشکل تر ہوتا گیا کیونکہ کلامی زبان کو سماج نے فقط سمجھوتے کے طور پر قبول کیا، نتیجے میں زبان اب غوروفکر کی بجائے صرف ذرائع ابلاغ تک محدود ہو رہی تو فرد اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے گئے ، امریکی صدر کے پریس سیکرٹری کی کوئی بھی پریس کانفرنس کسی کی سمجھ میں آتی ہے؟ شہباز شریف کا کوئی انٹرویو آج تک یہ خاکسار نہ سمجھ پایا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں، قومی ترانے، آئین، قوانین، یہ سب چیزیں عام آدمی کے فہم سے دور کی چیزیں ہیں، کیا کسی دوست کو ساحل عدیم کی بات سمجھ آتی ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہوتے ہیں؟ پورے ایک گھنٹے کا لیکچر ان کا سن لیں ، کوئی لفظ ایسا نہ ہوگا جس کا مطلب آپ کو نہ آتا ہو، لیکن وہ کہنا کیا چاہتے ہیں ککھ پلے نہیں پڑتا ۔ یعنی زبان اب کمیونیکیشن سے پوسٹ کمیونیکیشن والی سٹیج پہ آ چکی ہے ۔
حکمت اور شعور وہ بند دروازے ہیں جنہیں کھولنے کیلئے چابیوں کی ضرورت پڑتی ہے، ان دو کی باقاعدہ decoding کی سب سے بڑی معلوم کوشش افلاطون نے کی، اور بڑی حد تک کامیاب ہوئے، لیکن چونکہ وہ مزاجاً اہل حکمت کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے تو حکمت کو بڑی حد تک وہ ڈیکوڈ کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن شعور کی ڈیکوڈنگ جزوی ہی کر پائے، کئی صدیوں تک ایسا لگا کہ وہ حکمت و شعور دونوں کو افشاں کر پائے ہیں، لیکن نویں اور دسویں صدی میں مسلمانوں نے اس چیز کو محسوس کیا کہ شعور کو وہ مکمل طور پر افشاں نہیں کر پائے اس لئے اس سمت بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے، لیکن اس راز کو پا لینے کے بعد کچھ ایسے فکری مغالطوں کی ابتداء ہوئی کہ مسلمان نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے، اس کے بعد صلیبی جنگوں اور منگول حملوں نے انہیں مہلت ہی نہ دی،،،، ہندوستان کی تاریخ میں شعور کے بند دروازوں تک مولانا ابوالکلام آزاد پہنچے ضرور لیکن چابیاں ڈھونڈھنے میں وہ ناکام اس لئے رہے کہ افلاطون کی طرح وہ بھی صاحبانِ حکمت میں سے تھے، اس میدان میں کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو صاحبانِ شعور کے گروہ سے تعلق رکھتا ہو، مولانا مودودی اپنے مزاج کے اعتبار سے اسی گروہ کے علمبردار تھے اور وہ جان بھی چکے تھے کہ شعور کو ابھی پوری طرح افشاں نہیں کیا جا سکا، لیکن چابیاں ڈھونڈھنے کی بجائے وہ عملی سیاست میں کود پڑے۔
واللہ اعلم باالصواب
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں