ہومی جہانگیر بھابھا (30 اکتوبر، 1909 – 24 جنوری، 1966) نہ صرف انڈیا کے جوہری پروگرام کے معمار تھے بلکہ ان کا وژن انڈیا کو توانائی کے میدان میں خود کفیل اور خودمختار بنانے پر مرکوز تھا۔ انھیں آج بھی انڈیا کا “بابائے نیوکلیئر سائنس” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا جوہری توانائی کا نظریہ انڈیا کے وسائل، خاص طور پر محدود یورینیم اور وافر تھوریم کے ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا تھا۔
بھابھا کے وژن میں تھوریم کو بنیادی اہمیت حاصل تھی کیونکہ اس کے ذریعے بھارت طویل مدتی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا تھا، بجائے اس کے کہ وہ درآمد شدہ یورینیم پر زیادہ انحصار کرے۔ چونکہ انڈیا میں یورینیم کے ذخائر محدود ہیں جبکہ تھوریم کے ذخائر بہت زیادہ ہیں، اس لیے تین مرحلوں پر مشتمل جوہری توانائی کا پروگرام ترتیب دیا گیا تاکہ تھوریم کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لایا جا سکے اور انڈیا توانائی کے میدان میں خود کفیل ہو سکے۔
بھابھا کے منصوبے کا بنیادی مقصد دستیاب وسائل کو مرحلہ وار استعمال کرنا تھا: پہلے قدرتی یورینیم، پھر فاسٹ ری ایکٹرز میں پلوٹونیم کی تیاری، اور آخر میں پائیدار تھوریم سائیکل کے ذریعے تھوریم کا مؤثر استعمال۔ یہ حکمت عملی انڈیا کے جوہری توانائی کے پروگرام کو خود کفیل بنانے اور توانائی کے تحفظ و وسائل کے مقتدر اور آزاد انتظام کے لحاظ سے قومی مفادات سے ہم آہنگ تھی۔
امریکہ-انڈیا جوہری معاہدہ اور تھوریم پروگرام
2005 میں انڈیا اور امریکہ کے درمیان ہونے والا جوہری معاہدہ، جس پر منموہن سنگھ اور جارج بش نے دستخط کیے تھے، کچھ انڈین قوم پرست تجزیہ کاروں کے نزدیک انڈیا کے روایتی تھوریم پر مبنی جوہری توانائی کے وژن سے انحراف سمجھا جاتا ہے، جو ہومی بھابھا نے پیش کیا تھا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس معاہدے نے، جو انڈیا کو غیر ملکی جوہری ٹیکنالوجی اور یورینیم ایندھن تک رسائی دیتا ہے، ممکنہ طور پر انڈیا کے مقامی تھوریم وسائل کی ترقی سے توجہ اور وسائل کو ہٹا دیا۔
مگر انڈو۔امیریکا معاہدے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ انڈیا کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے اور ملکی یورینیم کو فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز میں استعمال کے لیے موقع فراہم کرتا ہے، جو تین مرحلوں پر مشتمل جوہری پروگرام کی مجموعی حکمت عملی کو سہارا دیتا ہے۔ مزید برآں بین الاقوامی تعاون میں اضافہ طویل مدتی طور پر انڈیا کے تھوریم پروگرام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
اگرچہ یہ معاہدہ انڈیا کی جوہری توانائی کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی تھی، لیکن انڈیا اب بھی اپنے تھوریم پر مبنی پروگرام میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، جو اس کے توانائی کے تحفظ کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر انڈیا کا تھوریم پر مبنی جوہری پروگرام نمایاں طور پر سست ہو چکا ہے۔ اگر ہومی بھابھا آج زندہ ہوتے، تو وہ 2005 کے جوہری معاہدے کو توانائی کے تحفظ کے لیے ایک “سٹریٹجک اقدام” کے طور پر دیکھتے، لیکن ساتھ ہی انہیں اس کے انڈیا کے مقامی تھوریم پر مبنی جوہری پروگرام پر پڑنے والے اثرات پر تشویش بھی ہو سکتی تھی۔
مجھے یاد ہے کہ جب انڈین وزیراعظم منموہن سنگھ اور امریکی صدر جارج بش نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے تو اگلے دن یعنی /19 جولائی 2005 کو بی بی سی اردو کے کرنٹ افیئر کےپروگرام “جہاں نما” میں میں نے ہومی بھابھا کے تھوریم والے جوہری منصوبے کے ویژن پر بات کرنے کے لیے ایک دو ماہرین سے انڈیا میں رابطہ کیا۔ جوہری معاملات کے تجزیہ کاروں نے تو کہا تھا کہ انڈیا نے بھابھا کے ویژن سے انحراف کیا ہے، لیکن ایک انڈین ڈپلومیٹ نے اس موضوع پر بات کرنے کے بجائے مجھے گالیاں دینی شروع کردی تھیں۔
ہومی بھابھا کی پراسرار موت
ہومی جہانگیر بھابھا کی موت ایک پر اسرار حادثے میں ہوئی، جس نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ 24 جنوری 1966 کو، وہ ایئر انڈیا کی پرواز 101 کے ذریعے ویانا جا رہے تھے جب طیارہ مونٹ بلانک (فرانس اور اٹلی کی سرحد پر واقع بلند ترین پہاڑ) سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ سرکاری طور پر اسے ایک حادثہ قرار دیا گیا، لیکن کچھ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ کوئی عام حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سازش کے تحت ہوا تھا۔
کچھ تجزیہ سازوں کا خیال ہے کہ ہومی بھابھا انڈیا کے جوہری پروگرام کو انتہائی ترقی یافتہ سطح پر لے جا رہے تھے، اور ان کی قیادت میں انڈیا جلد ہی جوہری ہتھیار تیار کر سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بعض غیر ملکی طاقتیں، خصوصاً امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں، انہیں راستے سے ہٹانا چاہتی تھیں۔ مشہور امریکی صحافی گریگوری ڈگلس نے دعویٰ کیا تھا کہ سی آئی اے نے انڈین جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانے کے لیے اس طیارے کو تباہ کیا۔
اگرچہ ان دعوؤں کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھابھا کی موت کے بعد انڈیا کا تھوریم-بیسڈ جوہری پروگرام کئی سال تک سست روی کا شکار رہا اور اب اُس پر کام نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ عملی طور پر یہ منصوبہ ختم ہو چکا ہے۔ اگر وہ زندہ رہتے تو شاید انڈیا کا تھوریم پر مبنی جوہری منصوبہ آج کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہوتا۔
بشکریہ فیسبک وال
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں