ٹک ٹاک اور سٹھیائی ہوئی ساسوں کا ناچ/اختر شہاب

رقص یا ناچ کا سنتے ہی ذہن میں ایک ردھم ، ایک خوبصورتی اور ایک دل خوش کن سا منظر آ جاتا ہے۔۔ لوگ رقص کے لیے ریاض کرتے ہیں استادوں سے سیکھتے ہیں تب ہی جا کے کامل ہوتے ہیں۔۔تاہم کچھ مرد و زن میں ناچنے کی اور تال پر لے دینے کی خداداد صلاحیت بھی ہوتی ہے جبکہ مجھ جیسے بہت سے لوگ جب کوشش کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ناچ نہیں رہے ہیں بلکہ کوئی مصیبت اگئی ہے۔
یہ بات اصل میں مجھے سوشل میڈیا پر ایک ٹک ٹاک ویڈیو دیکھ کے یاد آگئی جس میں ایک اچھی خاصی عمر کی خاتون پورے خشوع خضوع سے اچھل اچھل کر انجمن کی طرح زبردست ڈانس کر رہی ہیں جبکہ ان کے ساتھ موجود خواتین اچھے ردھم میں ہیں اور ہلکا پھلکا سا رقص کر رہی ہیں۔مجھے تو یہ ڈانس دیکھ کے یوں لگا کہ شاید یہ دولہا کی ماں ہے جو اپنے بیٹے کی شادی پر اپنے ارمان نکال رہی ہے۔۔ یا پھر یہ وہ عورت ہے جسے کبھی کبھی ناچنے کا موقع ملتا ہے اور وہ پوری دل جمعی سے ناچتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ڈانس کے بعد وہ مہینہ بھرگھٹنوں کا درد لے کے گھر پڑی رہے۔

شادی بیاہ چونکہ خوشی کا موقع ہے تو گانا اور رقص کرنا خاص طور پر شادی بیاہ کے موقع پر ہر عورت کا حق ہوتا ہے اور جس جس عورت یا لڑکی کا دل کرتا ہے اپنی  بھونڈی یا سریلی آواز سے گانا بھی گاتی ہے اور اچھا اور برا رقص بھی کرتی ہے اور خوش بھی ہوتی ہے۔۔پہلے یہ ناچ صرف خواتین کی محفلوں میں ہوتا تھا اور علاقائی ناچ جیسے جھومر اور لڈی وغیرہ ناچے جاتے تھے اور خواتین آپس میں اپنا دل خوش کر لیتی تھی جبکہ مردوں کو ان محفلوں میں آنے کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی ۔۔لیکن آج کل انڈین فلموں کی دیکھا دیکھی اب ناچ صرف زنانہ نہیں رہا بلکہ مردانہ زنانہ مکس ناچ محفلوں کا کلچر بن گیا ہے اور اس کی خاطر شادی کے کئی دن پہلے سے اس کی باقاعدہ پریکٹس بھی کی جاتی ہے اور محفلوں میں اس ناچ کا باقاعدہ اظہار بھی ہوتا ہے۔ پر افسوس کی بات یہ ہے کہ جب سے یہ لعنتی ٹک ٹاک آیا ہے تو صرف خواتین کی محفلوں میں ہونے والا ذاتی ناچ بھی دنیا بھر کے لوگوں کی نظروں میں آنا شروع ہو گیاہے۔

بقول ہمارے ایک دوست کے کہ ہر دور میں کچھ خواتین ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں اپنی عمر اور وقت کا احساس نہیں ہوتا اور وہ ضرورت سے زیادہ خوش طبع اور سوشل بننے کی کوشش کرتی ہیں اور چاہے وہ ناچ گانے کا پروگرام ہو یا دولہا دلہن پہ اوازیں کسنے کا یا ان سے مذاق کرنے کا۔۔۔ وہ نہ تو اپنی عمر دیکھتی ہیں نہ وقت نہ موقع۔۔۔ایسی ہی خواتین کو اس نے *سٹھیائی ہوئی ساسوں*کا خطاب دیا ہے۔۔یہ سٹھیائی ہوئی ساسیں جب دولہا دلہن سے مذاق کرتی ہیں یا اپنے بھونڈےانداز میں بھیگی ہوئی بطخوں کی طرح اچھل کر ناچنے کی کوشش کرتی ہیں تو ایک مضحکہ خیز صورتحال بن جاتی ہے۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ شادی کے پروگرام میں کئی لوگ ان بھونڈی بطخوں کے ڈانس سے تنگ آ کر شادی کے فنکشن ہی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں مگر ان خواتین کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی اور ان تمام باتوں کو نظر انداز کر کے جب تک ان میں دم ہوتا ہے ناچتی ہی رہتی ہیں۔۔۔ بقول اس کے کہ شہر سےآئی ہوئی ایک بارات میں جب ان سٹھیائی ہوئی ساسوں اور ان کے مردوں نے ناچ گانا شروع کیا تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک  بزرگ کو بہت برا لگا اور یہ کہتے ہوئے کہ ’’ایہہ کیہہ   بے حیائی شروع ہو گئی  اے۔‘‘ اس نے اٹھ کر جانے کی کوشش کی تو اس کے نزدیک بیٹھی ہوئی بیوی نے اس کا ہاتھ دبا کر اس سے بیٹھنے کو کہا۔۔لیکن جب یہ بھونڈا بھدا اور بے ہنگم ناچ گانا بند نہ ہوا اور کافی دیر مزید جاری رہا تو وہ بڑے میاں دو تین مرتبہ بڑی بی کے روکنے کے بعد پھر نہ رکے اور بڑبڑاتے ہوئے چلے گئے۔

لوگ ان خواتین کے پیچھے جو کہتے ہیں شاید انہیں اس کا اندازہ نہیں ہے یا پھر لگتا ہے انہیں کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے لہٰذا وہ اس کی پرواہ نہیں کرتیں اور نہ سننا چاہتی ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔ گو اپنے ان کاموں سے وہ وقتی طور پر اپنے نمبر تو ضرور بڑھا لیتی ہیں لیکن در حقیقت وہ اپنی بیٹیوں سے زیادتی کر رہی ہوتی ہیں کہ دولہا دلہن سے مذاق کا اور اس قسم کے ناچ گانے کا ایسے موقعوں  پر حق دولہا دلہن کے ہم عمر بچوں اور بچیوں کا ہے، ان کی بیٹیوں کا ہے۔ یہی موقع ہوتا ہے جب بہت سی خواتین اپنے بچوں اور بچیوں کے لیے رشتوں کی تلاش کرتی ہیں لیکن رشتوں کی تلاش میں آئی ہوئی خواتین جب  ان سٹھیائی ہوئی ساسوں کا رقص دیکھتی ہیں تو اپنا مقصد بھول جاتی ہیں۔ ۔ ویسے ان سٹھیائی ہوئیں ساسوں کو اپ کہیں بھی ملیں گے تو پہچان لیں گے کہ ایسی عورتوں کی بیٹیاں سہمی سہمی سی ہوتی ہیں اور ایسی کسی سرگرمی میں زور شور سے حصہ نہیں لیتیں۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply