مسلمانوں کی کچھ نمائندہ فکری تحریکیں۔۔عظیم الرحمن عثمانی

صحابہ اکرام رضی اللہ اجمعین کی جماعت جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت یافتہ تھی وہاں نہایت سادہ طبیعت بھی تھی. ان پر جب ایک بار کفر اور ایمان واضح ہوگیا تو انہوں نے منطقی مباحث یا فلسفیانہ استدلال میں وقت نہیں لگایا بلکہ ہر اس بات پر عمل کی کوشش میں لگے رہے جو ان کی اخروی نجات کا سبب بن سکتی تھی. ان کا یہ سادہ مزاج اس صحرائی عرب کی ثقافت بھی تھا جو قران حکیم کے اولین مخاطب تھے. البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے جب فتوحات کا سلسلہ بڑھا اور اسلام کا پیغام غیرمعمولی رفتار سے آدھی دنیا پر چھانے لگا تو مسلمانوں کی فکری بنیادوں کو نئے چیلنجز درپیش ہوئے. رومن اور گریک فلسفہ اپنا اپنا منفرد ڈھانچہ اور نہایت بلیغ انداز رکھتا تھا. اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج کوئی ڈیڑھ دو ہزار سال بعد بھی ہماری درس گاہیں ان فلسفیوں جیسے فیثاغورث، سقراط، افلاطون، ارسطو وغیرہ کی تعلیمات پر ڈاکٹریٹ کرتے ہیں.

آپ اندازہ کرسکتے ہیں؟ کہ جب ان فلاسفاء کی تعلیمات ان سادہ اذہان عربوں اور دیگر مسلمانوں تک پہنچی ہوں گی تو کیسے کیسے سوالات و موضوعات نے جنم لیا ہوگا؟ اس پر طرہ یہ کہ عیسائی مذہبی جماعتوں نے اسی فلسفے کے ذریعے اپنا مقدمہ تیار کررکھا تھا اور اسی کے ذریعے وہ اسلامی تعلیمات کی بنیادوں پر بڑی مہارت سے ذک پہنچانے میں کوشاں تھے. دور خلافت میں جب حکومتی سطح پر سائنس اور فلسفے کی بیشمار کتب کا عربی ترجمہ کیا گیا تو جہاں اس سے تحقیق و علم میں مسلمان آگے آئے وہاں ان فلسفوں کے ذریعے وہ وہ سوال اٹھائے جانے لگے جو پہلے کبھی پیدا ہی نہ ہوئے تھے. فلسفہ جبر و قدر، مسئلہ نقل و عقل، صفات خداوندی عین ذات ہیں یا نہیں، عالم امثال، کائنات محدود یا لامحدود، خدا محدود یا لامحدود، موجود شر میں خدائی انصاف اور اسی طرح دیگر سوالات مسلم اذہان کو متاثر کرنے لگے. کچھ مسلم اہل علم ان گریک اور رومن فلسفوں سے اس درجے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اگر مکمل نہیں تو اس کا بیشتر حصہ اختیار کرلیا. نئی اصطلاحات پیش کی گئی مگر ان کے پیچھے فلسفہ ارسطو یا افلاطون ہی کا ہوا کرتا. گو کچھ فلسفیانہ نتائج ان کے ذاتی بھی تھے۔ ان مسلم اہل علم کو تاریخ میں مسلم فلاسفاء پکارا جاتا ہے. الکندی، الفاربی، ابو سینا وغیرہ اسی سوچ کے نمائندہ ہیں. اسی المیے کا ذکر علامہ اقبال نے بھی اپنے الہ آباد کے خطبات کے ابتدائیہ میں کیا ہے.

ایسے میں ضرورت تھی کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں جو عقلی و علمی سطح پر ان جدید فلسفوں کا جواب دے سکیں. اسی مقصد کو لے کر دوسری صدی ھجرہ میں ایک نیا گروہ سامنے آیا جنہیں تاریخ میں ‘معتزلہ’ کے نام سے جانا جاتا ہے. ‘حسن بصری رح’ کی بصرہ ہی کی علمی نشست میں ان سے ان کے ایک شاگرد ‘واصل ابن عطا’ نے اختلاف کیا. اس کے بقول گناہ کبیرہ کا مرتکب شخص نہ حالت ایمان میں رہتا ہے اور نہ حالت کفر میں. اس اختلاف کی بناء پر وہ نشست چھوڑ گیا جس پر حسن بصری رح نے فرمایا کہ واصل نے خود کو ہم سے الگ کرلیا. اسی بنیاد پر واصل اور اس کے نئے گروہ کو معتزلہ پکارا گیا. معتزلہ لفظ اعتزال سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں خود کو الگ کرلینا.

دھیان رہے کہ معتزلہ خود کو معتزلہ نہیں کہتے تھے بلکہ وہ خود کو ‘اهل التوحيد و العدل’ کے لقب سے موسوم کرتے تھے. یہیں سے صحیح معنوں میں علم الکلام یا مسلم متکلمین کا آغاز ہوا. متکلم اور فلسفی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ فسلفی آخری ہدف متعین نہیں کرتا بلکہ عقل کے گھوڑے دوڑانے سے جو بھی نتیجہ اسے قرین قیاس لگے اسے اختیار کرلیتا ہے. جبکہ متکلم بنیادی اہداف وحی کی روشنی میں پہلے سے متعین کیا  ہوتا ہے اور وہ عقل یا فکری استدلال سے اس متعین شدہ ہدف کا دفاع پیش کرتا ہے. معتزلہ کی یہ تحریک واصل ابن عطا کے علاوہ بھی بہت سے اہل علم سے تقویت پاتی رہی جن میں میں ‘عامر ابن عبید’ اور ‘ابوالحدید الالطاف’ شہر بصرہ میں جبکہ ‘بشر ابن المتعمر’ شہر بغداد میں سرفہرست ہیں. معتزلہ نے نہ صرف غیرمسلم فلسفے کا موثر ترین جواب دیا بلکہ ان سیاسی سوالات کے بھی جواب دیئے جو اس وقت عوام کی دل کی آواز تھے. معتزلہ ریشنلسٹ یعنی عقل پسند تھے اور ان کے کئی عقائد و نتائج اس عقل پسندی کو وحی و سنت پر فوقیت دیتے محسوس ہوتے تھے.

معتزلہ کی اس تحریک نے کئی سرد و گرم دیکھے  مگر مجموعی اعتبار سے ان کی مقبولیت بڑھتی گئی. یہاں تک کہ خلیفہ مامون کی خلافت میں انہیں سرکاری فکر کا درجہ حاصل ہوگیا. عباسی دور میں ایک عقیدہ معتزلہ کا یہ بھی اپنایا گیا کہ قران حکیم ‘مخلوق’ ہے. ساتھ ہی یہ اعلان ہوا کہ جو اس سرکاری فکر کو نہیں مانے گا اسے سخت ترین سزا دی جائے گی. ایسے میں اکثر اہل علم خاموش ہوگئے مگر امام احمد بن حنبل رح نے پوری قوت سے تن تنہا حق کی صدا بلند کی اور قران حکیم کو مخلوق ماننے سے انکار کردیا. وہ جانتے تھے کہ قرآن  کو مخلوق ماننا دراصل اسے ناقص منوانا ہے جو مستقبل میں تباہ کن ثابت ہوگا. اس کی پاداش میں انہیں زندان میں ڈالا گیا، کوڑے لگائے گئے مگر وہ اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے. معتزلہ کے زیر اثر اس استبداد نے عوام و خاص میں ان سے دوری پیدا کردی.

بصرہ میں معتزلہ فکر ہی کے ایک علمی گھرانے میں ایک ذہین بچے نے آنکھ کھولی. جن کا نام ‘ابو الحسن علي ابن إسماعيل اﻷشعري’ رکھا گیا. آپ مشہور صحابی ‘ابو موسیٰ الاشعری رض’ کی نسل سے تھے. ابوالحسن الاشعری چالیس برس کی عمر تک معتزلہ فکر سے ہی وابستہ رہے. قوی امکان ہے کہ ابتداء ہی سے آپ کو معتزلہ کی فکر سے علمی اختلاف ہونے لگے تھے. مگر پھر آپ نے چالیس سال کی عمر میں دوران رمضان تین بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت کی جس میں آپ کو کہا گیا کہ طریق رسول یعنی احادیث و سنت کی حمایت کرو. اس تجربے کا اثر یہ ہوا کہ آپ نے معتزلہ کی فکر سے جدائی اختیار کی اور پورے زور و شور سے معتزلہ کا علمی رد پیش کیا. آپ نہ صرف معتزلہ فکر میں موجود خامیوں سے باخوبی آگاہ تھے بلکہ دیگر موجود عقائد پر بھی آپ کی گہری نظر تھی.

لہٰذا جہاں آپ نے معتزلہ کی عقل پسندی اور علم الکلام کا پردہ چاک کیا، وہاں امام احمد بن حنبل رح کے حامیان کی اس سوچ کو بھی چیلنج کیا جو عقل و کلام کے استعمال کے مکمل مخالف محسوس ہونے لگے تھے. اسی طرح خارجیوں کی اس سمجھ کو انہوں نے غلط قرار دیا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے. ابوالحسن الاشعری کی اس برپا تحریک سے بعد میں بہت سے اہل علم جڑتے چلے گئے. جن کی بڑی تعداد شافعی تھی. اسی دور میں ثمرقند کے گاؤں ماترید میں ایک اور صاحب علم نے مقبولیت حاصل کی جن کا نام ‘أبو منصور ماتریدی’ تھا. آپ ابو ایوب الانصاری رض کی نسل سے تھے. آپ سے جڑنے والے علماء کی اکثریت حنفی مکتب سے منسلک تھی. آپ نے بھی معتزلہ فکر کا بھرپور علمی رد پیش کیا جیسے معتزلہ کی اسماء و صفات الہی کی سمجھ کو آپ نے غلط ثابت کیا. ‘أبو منصور ماتریدی’ اور ‘ابوالحسن الاشعری’ دونوں ہی کی فکر معتزلہ کی بیخ کنی کرتی تھی اور دونوں ہی قران کے ساتھ سنت کو بھی سینے سے لگانے والے تھے.

ان دونوں صاحبان علم کی تعلیمات میں بھی کچھ ایک دوسرے سے اختلافات موجود تھے مگر ان کی نوعیت سنجیدہ نا تھی. لہٰذا جلد ہی ان دونوں بزرگان کی فکر نے مل کر سنی فکر کی نمائندگی شروع کردی. جسے آج تک ‘جماعت اہل السنہ’ کے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے. دیوبندی بریلوی سب خود کو جماعت اہل السنہ ہی کہتے ہیں. خود کو عقائد میں اشعری اور ماتریدی کہہ کر پکارتے ہیں. یہاں ‘امام ابو حامد غزالی’ کا ذکر لازمی ہے جو بعد کے ادوار میں جماعت اہل السنہ یا اشعری فکر کے نمائندہ بن کر ابھرے. آپ ایک زمانے تک فلسفے کے عالم رہے اور اسی طرز استدلال سے وہ مختلف فلسفوں پر جیسے امامیہ، اسماعیلیہ وغیرہ پر نقد کرتے رہے. پھر اہل تصوف سے جڑ کر ان کی فکر میں انقلاب آیا اور انہوں نے علم فلسفہ ہی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا. آپ کی مقبول ترین تصنیف اس ضمن میں ‘تہافت الفلسفہ’ کے نام سے موجود ہے. اس کتاب نے علمی حلقوں میں ہلچل مچا دی اور فلسفے کے استعمال پرجیسے روک سی پیدا کردی. یہاں تک کہ ایک دوسرے بڑے صاحب علم مسلم فلسفی ‘ابن رشد’ نے اس کتاب کا بھرپور رد ‘تہافت التہافت’ کے نام سے پیش کیا. جس نے کسی حد تک علم فلسفہ کا دفاع کیا. دین کے سنجیدہ طالبعلموں کیلئے یہ دونوں کتب آج بھی حصول علم کا بہترین ذریعہ ہیں.

اس کے ساتھ ساتھ سنیوں یعنی جماعت اہل السنہ ہی میں ایک اور فکر بھی برقرار رہی جو قرآن  حکیم کے ظاہری معنوں ہی کو درست ماننے پر اصرار کرتے ہیں اور کسی اصطلاحی یا مخفی معنی کے ہونے کا انکار کرتے ہیں. اس گروہ کو ‘ظاہری’ کہا گیا. اسی اپروچ پر قائم گروہوں کو آج سلفی، اہل حدیث وغیرہ بھی کہہ دیا جاتا ہے. گو درحقیقت آج موجود اہل حدیث یا سلفی فکر کے نتائج کچھ حوالوں سے اور کمتر درجے میں اصل ‘ظاہری’ سوچ سے مختلف ہیں. جیسے سلفی/اہل حدیث اصول الفقہ میں ‘قیاس’ کے قائل ہیں جبکہ ظاہری قائل نہیں ہیں. گو کہ ان کے اکثر عقائد میں بڑی حد تک مماثلت ہے اور یہ سب محدثین ہی کی جماعت سے نکلے ہیں. ظاہری سمجھ کے علمبردار علماء میں امام داؤد ظاہری، حافظ ابن حزم وغیرہ شامل ہیں. جبکہ سلفی/ اہل حدیث فکر کے لئے امام ابن تیمیہ، حافظ ابن القیم، شیخ ناصر الدین البانی، عبدالعزیز ابن باز وغیرہ شامل ہیں. کچھ محققین سلفی اور اہل حدیث فکر کو مماثل سمجھتے ہیں جبکہ کچھ کہ نزدیک ان میں بھی کچھ معمولی اختلافات موجود ہیں.

اس سب کے ساتھ ساتھ اہل السنہ کے علاوہ بھی مسلم تاریخ میں ایک بہت بڑا اختلاف واقع ہوا اور ارتقاء پاتا رہا. حضرت علی رض کی وفات کے بعد مسمانوں کا ایک گروہ ایسا پیدا ہوا جو خود کو ‘شیعان علی’ یعنی علی کے چاہنے والے کہہ کر پکارتا تھا اور جنہیں آج شیعہ یا اہل تشیع کہا جاتا ہے. ان کا حقیقی اختلاف سیاسی نوعیت کا تھا. ان کے نزدیک خلافت کے جائز حقدار امام علی رض تھے. وقت کے ساتھ ساتھ یہ اختلاف صرف سیاسی نہ رہا بلکہ فکری جدائی کا بھی سبب بننے لگا. جس طرح سنی مسلمان ابتداء میں گریک و رومن فلسفے سے متاثر ہوئے تھے. ویسے ہی مسلمانوں کا یہ گروہ فارس یعنی موجودہ ایران کی تہذیب و فلسفے سے متاثر ہوا. سنی مسلمانوں کے مرکزی دھارے سے ان کے کئی فکری اختلافات واقع ہوئے جن میں سرفہرست امامت کا تصور ہے.

ان مسلسل مباحث، مکالموں، فکری اختلاف، فسلفوں، علم الکلام وغیرہ نے دین کے بہت سے طالبعلموں کو ظاہری منطق میں الجھا دیا تھا. لہٰذا یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ احکام کی روحانیت کو واپس لایا جائے. یہاں سے تصوف کا آغاز ہوا. یہ تحریک اپنے مقصد کے لحاظ سے ایک عمدہ کاوش تھی اور اگر فقط تذکیر نفس تک محدود رہتی تو کوئی معترض نہ ہوتا مگر تصوف نے اپنا پورا فکری ڈسپلن عقائد سمیت پیش کیا. دیگر علمی تحریکوں کی طرح یہ بھی بیرونی فلسفوں سے محفوظ نہ رہی. ارسطو، افلاطون، فیثاغورث کے صدیوں پہلے پیش کردہ تصورات کی بھرپور جھلک تصوف کے نام پر پیش کردہ کئی نظریات میں نظر آتی ہے. علم تصوف کے اوائل آثار دور تابعین کے فوری بعد نظر آتے ہیں مگر علمی منظم سطح پر اسے شائد سب سے پہلے ‘شیخ ابن العربی’ نے پیش کیا. ان سے ایک نمایاں بڑا اختلاف ‘شیخ احمد سرہندی عرف مجدد الف ثانی’ نے وحدت الوجود کے مقابل وحدت الشہود کا نظریہ پیش کرکے کیا۔ بعد میں ‘شاہ ولی اللہ محدث دھلوی’ نے ان دونوں نظریات میں تطبیق کی کوشش کی۔ جسے اہل علم کے ایک حلقے نے قبول اور دوسرے نے رد کردیا۔ اہل تصوف میں بھی بہت سے افراد ایک اور تحریک سے متاثر ہوئے جسے ‘باطنیہ’ کہا جاتا تھا. باطنیہ دراصل اسماعیلی عقائد کے بہت قریب تھے۔ اور عام طور پر تاریخ میں فرقہ اسماعیلی، آغا خانی، رافضی اور خوجا کے لیے باطنیہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ قرآن حکیم کے معروف الفاظ کے بھی باطنی معنی پیش کرتے.

ان کا دعویٰ تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں کے ظاہری معنی کچھ اور ہیں اور اصلی باطنی کچھ اور. گویا جس طرح ‘ظاہری’ فکر کے مبلغ قرآن کے ظاہری معنوں ہی کو قبول کرنے پر مصر تھے. وہاں ‘باطنیہ’ تحریک سے متاثر یہ اہل تصوف قران حکیم کے معروف سادہ معنوں کا بھی باطنی ترجمہ کرنے لگے. جیسے لفظ ‘جبال’ کا سادہ و معروف معنی پہاڑ ہے مگر باطنیہ سے منسلک افراد لفظ جبال کوپہاڑ کی بجائے اولیاء اللہ سے تعبیر کرتے. ان کے بقول یہ وہ غوث و ابدال ہیں جو رب کی جانب سے زمین کی مختلف ذمہ داریوں پرجبال کی مانند مامور ہیں اور توازن قائم رکھتے ہیں. باقی تفصیل سے ہم دانستہ اجتناب کررہے ہیں کہ یہ موضوع اپنے آپ میں طوالت کا متقاضی ہے.

(نوٹ: یہ مضمون اس وقت ناقص ہے اور ایک ‘رف ڈرافٹ’ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے. ان کے علاوہ بھی بہت سے فلسفے مسلم تاریخ کا حصہ ہیں. مستقبل قریب میں راقم اس کی تصحیح اور اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے. فی الوقت اسے موجود نقائص کے ساتھ قبول کیجیئے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *