افغانی پشتون والد کا سروقد دیکھ محسور ہو جاتے تھے۔ان کے چہرے پر ایک منفرد خوبصورتی چھائی رہتی تھی
اب مجھے تورابورا کے پہاڑو ں پر رہائش اختیار کرنے کے حوالے سے ہونے والی باتوں سے اکتاہٹ ہونے لگی تھی۔ اس زمانے میں جلال آباد میں امن وامان کی صورتحال نسبتاً بہتر تھی۔ لیکن ملک کے دیگر حصوں میں وار لارڈز کے درمیان پورے ملک پر کنٹرول کے حصول کے لئے رسہ کشی ابھی تھمی نہیں تھی ۔ جس کے باعث ملک میں بدامنی بدستور قائم تھی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ تورابورا میں امن وامان کی صورتحال کیا ہوگی۔ وہاں پر بھی خانہ جنگی کے بادل چھائے ہوئے ہیں یا اس کے پہلو میں امن وآشتی ہے۔
تورا بورا میں اگر امن قائم بھی ہو تب بھی وہ ایک خوفناک پہاڑ کے سوا کچھ نہیں تھا۔ جہاں بھیانک غاروں کی ایک پراسرار دنیا قائم تھی ۔میں سوچتا تھا کہ میرے لئے والد کس طرح اپنی فیملی کو اس پہاڑ پر لیجاکر بسا ئیں گے۔
اگر ضرورت پڑی اور حالات مزید سخت ہوگئے تو ہم بڑے بھائی تو پھر بھی اس پر مشقت زندگی کو قبول کرلیں گے۔ مگر میری والدہ ،دیگر خالائیں (سوتیلی مائیں)اور چھوٹے بچے کس طرح سے پہاڑ کی یہ پر مشقت زندگی گزار سکیں گے۔ کیونکہ پہاڑ کی زندگی خواتین اور بچوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔
لیکن میں اپنے والد کو جانتا تھا ۔ مجھے یقین تھا کہ انہیں کوئی بھی اپنے فیصلے سے روک نہیں سکے گا۔ وہ ہمیں افغانستان کے اس خوفناک پہاڑ پر لیجاکر ہی رہیں گے۔ یہی وہ گھڑی تھی جب مجھے ادراک ہوگیا کہ ہم بن لادن خاندان ایک پست ترین معیار زندگی کی جانب بڑھنے لگے ہیں۔
والد کی ان باتوں کے بعد مجھےشدید مایوسی نے گھیر لیا تھا۔ ابھی میں اس مایوسی میں گھرا ہوا تھا کہ ملانور۔۔۔ اور میرے والد نے جلال آباد شہر کو گھومنے پھرنے کے لئے مناسب اور پرامن قراردینے کی خوش نوید سنائی۔ مجھے ان دو ہفتوں نے اس شہر میں گھومتے ہوئے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔
جلال آباد میں گھومتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ اس شہر کی پشاور شہر سے مشابہت ہے۔ جسے ہم نے موسم گرما میں متعدد دفعہ دیکھا تھا۔ اس زمانے میں پشاور میں بھی افغان مہاجرین کا بسیرا تھا۔جس کے باعث دونوں شہروں کی ثقافت کے ایک جیسے رنگ تھے۔ سڑکوں پر جابجا پھیلے ہوئے خوانچہ فروش اور کھانے پینے کی فروخت ہونے والی چیزیں ایک جیسی تھیں۔
نقل وحرکت کے قدیم ذرائع سے لیکر بہت ساری چیزوں میں یکسانیت تھی۔ مجھے دونوں شہروں میں پختونوں کی خوبصورتی نے بہت متاثر کیا۔ کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود بھی جلال آباد اور پشاور ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔ اور دونوں کی فضاء میں بہت مماثلت پائی جاتی تھی۔ دونوں شہروں سے مجھے ایک منفرد قسم کی اپنائیت کی خوشبو محسوس ہورہی تھی۔مجھے دونوں شہر بہت پسند تھے۔
جلال آباد شہر میں گھومتے ہوئے اپنے والد کی ایک عادت نے میری توجہ غیرمعمولی طور پر اپنی جانب کھینچ لی۔ میرے والد گھر سے باہر نکل کر ہمیشہ اپنا چہرہ چھپائے رکھتے تھے۔وہ بہت شرمیلے انسان تھے۔ (عربی رومال کو دونوں جانب سے لٹکاکر رکھتے تھے ) وہ ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ کسی اجنبی عورت پر نظر نہ پڑے۔
میرے دل میں بارہا یہ خیال آیا کہ میں انہیں بتاؤں کہ وہ جہاں چاہے دیکھیں۔ نظریں دور تلک دوڑائیں۔جی بھر کر ہر سمت کو نظریں اٹھاکر دیکھیں ۔ چہرہ چھپانے اور آنکھیں جھکانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کوئی چاہے بھی تو جلال آباد شہر میں کسی اجنبی عورت کا کھلا چہرہ نظر آنا ممکن نہیں ہے۔
افغان خواتین اپنے جسموں کو انتہائی تیز رنگ کے بڑے برقع میں لپیٹ کر رکھتی تھیں۔ یہ چادر نما برقع ایک خیمے کی طرح ان کے جسموں کو ڈھانپ کر رکھتا تھا۔ جو چلتے وقت بادبانی کشتی کی طرح پھول جاتا تھا جس سے ان خواتین کے سر سے لیکر جسم کے تمام اعضاء کی ساخت مکمل طور پر چھپ جاتی تھی۔
افغانستان کی صرف ایسی سن رسیدہ خواتین یہ برقع نہیں پہنتی تھیں۔ جن کے چہروں پر سن رسیدگی کے باعث جھریاں پڑگئی تھیں۔
ایسی خواتین اس منفرد برقع کے بجائے بڑی بڑی آستینوں والی کھلی اور پیروں تک لمبی قمیضیں پہنتی تھیں۔ جن کے ساتھ وہ بڑی بڑی چادروں سے سر کو ڈھانپے رکھتی تھیں۔ یہ خواتین جیسے ہی کسی اجنبی کو دیکھتیں ۔اپنے چہروں کو اس چادر کے نقاب سے چھپا لیتی تھیں۔
جلال آباد آباد شہر میں ہرسمت پھیلے ہوئے دلکش مناظر نے مجھے حیرت زدہ کیا تھا۔ شہر میں گھومنے کے دوران ایک چیز نے مجھے اپنی جانب بہت متوجہ کیا۔ سڑک پر چلتے لوگ بڑے غورو انہماک کے ساتھ میرے والد کو دیکھتے تھے۔ بعض راہگیر تو چلتے ہوئے باقاعدہ رک جاتے تھے اور ٹکٹکی باندھے انہیں دیکھنے لگ جاتے تھے۔
لوگوں کی اس غیرمعمولی توجہ اور دلچسپی کی وجہ میرے والد کا غیر معمولی طویل سروقد کاٹ تھا۔ میرے والد غیرمعمولی دراز قد کے مالک اور طویل مرد تھے۔ ان کے چہرے پر ایک منفرد خوبصورتی اور شگفتگی چھائی رہتی تھی۔ دلکش رعنائی نے ہالہ بنا کر ان کے سراپا کو ایک سحرانگیز حصار میں لے رکھا تھا۔ ان کی شخصیت کی یہی دلکشی انہیں دیکھنے والوں کی دلچسپی کو دو آتشہ کرتی تھی۔ اور ان کی جاذبیت دیکھنے والوں کی توجہ کو اپنی جانب کھینچ لیتی تھی۔
میرے والد کے بعد ان کے گروپ میں ابو حفص بہت نمایاں تھے۔ جو ود میں میرے والد کے قریب تھے۔ اس کے بعد ۔۔۔ کی باری آتی تھی۔ جو سیکورٹی چیف کی حیثیت سے ہر چیز پر انتہائی کڑی اور باریک نظر رکھتے تھے۔ اور ہروقت میرے والد کے اردگرد رہتے تھے۔
وہ کسی بھی غیرمعمولی حرکت پر بڑی گہرائی سے نظر رکھتے تھے اور ہر چیز کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیتے تھے۔
ان سخت اور سنجیدہ مردوں کے گروپ میں میں واحد اکلوتا کم سن بچی تھا ۔ میرے چہرے پر ابھی داڑھی کے بال بھی نہیں آئے تھے۔
مجھے یقین تھا کہ ٹھہرٹھہر کر ہمیں دیکھنے والے یہ افغان ضرور سوچتے ہوں گے کہ منفرد خوبصورتی کے حامل عرب مردوں کے اس گروپ کی اب تک افغانستان میں موجودگی کا کیا راز ہے۔ کیونکہ عربوں کی اکثریت سوویت یونین کے انخلاء کے ساتھ افغان اراضی سے رخصت ہوگئی تھی۔ پھر یہ لوگ یہاں رہ کر کیا کررہے ہیں۔
جلال آباد میں رہ کر میرے والد کو سوویت دور کے اپنے دیرینہ دوستوں سے ملاقاتیں کرنے کا شوق تھا۔ وہ مختلف دوستوں کے پاس جاتے تھے۔ مجھے جو لوگ اچھی طرح سے یاد ہیں ان میں ایک یونس خالص نامی شخص تھا۔ وہ ماضی میں افغانستان میں ایک مشہور شیخ تھا۔ ان کی عمر ستر سے اوپرتھی۔ ان کی سرخ داڑھی تھی جو انہیں بالکل منفرد بنارہی تھی۔ یہ شخص مجھے افغانستان کی دیگر شخصیات میں سب سے عجیب اور منفرد لگے۔
ہم ان سے ملنے گئے تو موسم بہار کے آخری ایام تھے مگر راتیں ابھی تک غیرمعمولی خنک اور ٹھنڈی تھیں۔ ان کے قدیم طرز کا کا گھر مٹی اور پتھر سے بنا ہوا تھا۔ جس کی فرش سیمنٹ سے اٹھائی گئی تھی۔
ان کے سپاہی نہایت وفادار اور چوبند تھے۔ جو ان کی خدمت کے لئے ہمہ وقت مستعد رہتے تھے۔ جب شیخ نے سردی کی شکایت کی تو ان کے سپاہی دوڑے ۔ اور مزید انگارے لاکر فرش کے نیچے بچھادیے۔ وہ بار بار یہ عمل دھراتے ۔ جس سے سیمنٹ کا فرش توے کی مانند گرم رہتا تھا۔
مجھے سردی سے بچاؤ اور گھر کو گرم رکھنے کا یہ طریقہ بہت پسند آگیا اور دل میں آیا کہ میرے والد کو بھی اپنے اہل خانہ کو سردی سے بچاؤ کے لئے اسی طرح کی تدبیر کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر میرے والد اس حوالے سے مختلف تھے۔
وہ الیکٹرک توانائی (ہیٹر) سے گھر کو گرم رکھنے کے سخت مخالف تھے ۔ جس کے باعث تورابورا کے پہاڑوں پر ٹھنڈ سے ٹھٹھرتی یخ بستہ شب وروز کا تصور آتے ہی مجھ پر کپکی طاری ہوجاتی تھی ۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں