غزہ جنگ کے تیسرے مرحلے کے اعلان کی تیاری/علی ہلال

عبرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل رفح میں چھ ہفتوں سے جاری جنگ لپیٹتے ہوئے القسام بریگیڈ کو شکست دینے کا اعلان کرنے کی تیاری کررہاہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوب میں رفح میں مزید جنگ بند کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔جس کے ساتھ غزہ کی پٹی میں بھی بڑے حملوں کا سلسلہ روک دیا جائے گا۔ اس پلان کو صیہونی فوج نے تشکیل دیاہے جسے ابھی وزیراعظم نیتن یاہو کو پیش کرکے ان کی منظوری   لی جائے گی۔

اسرائیلی سرکاری ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ اسرائیل عنقریب رفح میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کو شکست دجے جانے کا اعلان کرنے والا ہے۔ جس کے ساتھ ہی رفح میں جاری جنگ ختم کردی جائے گی۔ تاہم اس وقت تک اسرائیل رفح پر مکمل قبضہ کرچکا ہوگا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے 6 مئی سے رفح پر زمینی حملہ کیاہے۔ جہاں 15 لاکھ پناہ گزین پناہ لیے ہوئے تھے۔ اسرائیلی فورسز کو رفح میں خاصی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بھاری نقصان اٹھاچکاہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ رفح کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کرچکی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا دعوی ہے کہ رفح میں القسام کے دو بریگیڈ ختم ہونے کے قریب ہوچکے ہیں اور وہ عنقریب کمزور ہو جائیں گے۔جبکہ دو بریگیڈز کافی حد تک فعال ہیں۔ جس کے باعث وہ بہت جلدی کے ساتھ خود کود دوبارہ از سر نو تشکیل دینے کے لئے سرگرم ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوجی ترجمان دانیال ہاگاری نے دو دن قبل بیان دیا تھا کہ حماس کے خاتمے کا بیان آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ حماس ایک آیڈیالوجیا ہے ایک فکر اور نظریہ ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس بیان پر اسرائیلی وزیردفاع اور وزیراعظم نے شدید ردعمل دیا تھا اور صہیونی فوج کے سربراہ سے وضاحت مانگی تھی۔

دوسری جانب فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ اسپین ،ناروے اور آئرلینڈ کے بعد آرمینیا نے بھی فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرلیا ہے ۔ جس پر سعودی عرب نے آرمینیا کے فیصلے کا خیر مقدم کیاہے۔

نیویارک ٹائمز نے اسرائیلی وزیر مالیات اور متشدد یہودی بتسلییل سموتریش کی آڈیو جاری کی ہے جس میں انتہا پسند یہودی وزیر کی جانب سے مغربی کنارے جو فلسطینی ریاست میں شامل ہونے سے بچانے کے لئے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کا منصوبہ بے نقاب کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر نے ایک تقریب سے خطاب میں مکمل منصوبے کی وضاحت اور منظر کشی کی ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ مغربی کنارے میں صیہونی فوج کی کارروائیوں کے ساتھ ایک سویلین انتظامیہ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جو صیہونی فوج کی کارروائیوں سے ہٹ کر مغربی کنارے میں انتظامی معاملات کو سنبھالے گی۔

julia rana solicitors

دنیا کی نظریں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں پر ہوں گی۔ لیکن اسرائیل سویلین انتظامیہ کی شکل میں مغربی کنارے کو اسرائیل کے مکمل قبضے میں لائے گی۔ اس منصوبے کے لئے اسرائیلی حکومت نے قانون سازی بھی کردی ہے اور کچھ اختیارات کو فوج سے لے کر وزارت خزانہ کو سونپ دیے ہیں۔ جس کے بعد وہ مغربی کنارے جو مکمل طور پر اسرائیل کے قبضے میں لانے کے لئے عمل پیرا ہے ۔ یاد رہے کہ اسرائیل کا انتہاپسند وزیر خزانہ سموتریش خود بھی مغربی کنارے کی ایک غیر قانونی یہودی کالونی میں رہتاہے۔ وہ اور اس کی جماعت کی بنیاد ہی اس نظریہ پر قائم ہے کہ مغربی کنارے کو خالی کرکے یہاں کے فلسطینیوں کو اردن بھجوادیا جائے اور اس کی جگہ یہودی ابادی قائم کی جائے۔

Facebook Comments

علی ہلال
لکھاری عربی مترجم، ریسرچر صحافی ہیں ۔عرب ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply