• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ماہ رمضان میں صدقات و خیرات/عبدالرحمٰن عالمگیر کلکتوی(3،آخری حصّہ)

ماہ رمضان میں صدقات و خیرات/عبدالرحمٰن عالمگیر کلکتوی(3،آخری حصّہ)

صدقۃ الفطر
زکاة الفطر ہر مسلمان پر یکساں طور پر واجب ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا چھوٹا، عقل مند ہو یا نا سمجھ۔ اسی لیے یہ نظام رکھا گیا کہ مستطیع شخص اپنے اور اپنے اہل و عیال میں سے غیر مستطیع کی جانب سے بھی ادا کرے گا جن کی کفالت اس پر شرعاً لازم ہے۔

فطرہ کے وجوب کی دلیل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ أَوْ رَجُلٍ أَوْ امْرَأَةٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ
(صحیح بخاری: 1504، صحیح مسلم: 984)
رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں مسلمانوں میں سے ہر انسان پر، آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، کھجوروں کا ایک صاع یا جَو کا ایک صاع، صدقۂ فطر مقرر فرمایا۔

فطرانہ کی مقدار ایک صاع گلہ ہے، جو تقریباً 2.25 کلو گرام گندم، یا 2.5 کلو گرام کے مساوی ہوتا ہے۔

شریعت نے کئی مقاصد کے پیش نظر اسے ہر مسلمان پر فرض قرار دیا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:

روزہ کو لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک کرنا: حالتِ روزہ میں انسان سے بعض دفعہ غلط گوئی، چغلی، فضول و غیر ضروری باتیں، غیر شرعی موضوعات پر گفت و شنید، اور فضول نظروں کی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ زکاة الفطر روزے کو ان کوتاہیوں سے پاک کرتا ہے اور روزے کے اجر و ثواب کو مکمل بناتا ہے۔

عام مسرت کا ذریعہ: صدقۃ الفطر معاشرے میں فرحتِ عامہ کا سبب بنتی ہے۔ یہ بروز عید غریبوں اور محتاجوں کو بھی اچھے کھانے، کپڑے، اور خوشی میں شریک ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ شریعت فطرانہ کے ذریعہ اس بات کو مؤکد بناتی ہے کہ عید کے دن کوئی بھوکا نہ رہے۔ امیروں کی طرح غریبوں کے چہرے پر بھی فرحت و انبساط اور چہل پہل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ فطرانہ عید الفطر سے پہلے پہلے ادا کرنا ضروری ہے، تاکہ ہر کوئی عام خوشی کا حصہ بن سکے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ .
(سنن ابو داؤد:1609)
رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر کو لازم قرار دیا تاکہ روزے دار کی لغو اور بیہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی ہو جائے اور مسکینوں کو کھانا میسر ہو۔ چنانچہ جس نے اسے نماز (عید) سے پہلے پہلے ادا کر دیا تو یہ ایسی زکوٰۃ ہے جو قبول کر لی گئی اور جس نے اسے نماز کے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات کی طرح ایک صدقہ ہے۔

جسم کی زکوٰۃ: اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک سال تک زندہ رکھا اور اسے بقاء کی نعمت عطا کی۔ اس لیے یہ جسم کے لیے صدقہ ہے۔

شکرانِ نعمتِ رمضاں: رمضان کی بابرکت لمحات میسر ہونے، روزہ و عبادات کی توفیق، سحر و افطار میں نوع بنوع ماکولات ومشروبات سے لطف اندوزی جیسی نعمتوں کا شکر صدقۃ الفطر ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ کی تربیت: روزہ جہاں تقوی اور حبسِ نفس کی تربیت کرتا ہے وہیں فطرانہ اجتماعی امداد و تعاون کو پروان چڑھاتا ہے۔ اس نظام کی بدولت ایک امیر غریب کو زکات دیتا ہے، غریب شخص اپنے سے غریب تر شخص کو صدقۃ الفطر دیتا ہے، پھر وہ غریب تر شخص غریب ترین کو فطرانہ دیتا ہے۔ مال کا اتنے بڑے پیمانہ پر تبادلہ معاشرے میں سخاوت، فیاضی اور بانٹنے کے کلچر کو عام کرتا ہے۔ مال کا سرکولیشن معیشت کو مضبوط بناتا ہے۔ مذہبی جذبہ کار فرما ہونے کی وجہ سے یہ روحانیت کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا احساس ہوتا ہے۔ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے شادمانی محسوس کرتے ہیں۔

رمضان کی مناسبت سے زکات کو مؤخر کرنا
زکاۃ کے وجوب کے لیے دو شرطیں ہیں:
نصاب: زکاۃ واجب ہونے کے لیے مال کا ایک متعینہ مقدار تک پہنچنا ضروری ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں نصاب کہا جاتا ہے۔ نصاب کی مقدار مختلف چیزوں کے لیے مختلف ہوتی ہے۔
سال مکمل ہونا: زکاۃ واجب ہونے کے لیے نصاب تک مال پہنچنے کے بعد اس مال پہ مکمل ایک سال کی مدت گزرنا ضروری ہے۔
جب یہ دونوں شرطیں پوری ہو جائیں تو زکاۃ واجب ہوتی ہے۔ زکاۃ کی ادائیگی فوری طور پر لازم ہے۔ زکاۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی شرعی عذر ہو۔ رمضان تک اس کی فضیلت کے پیشِ نظر زکات کو ملتوی کرنا جمہور علماء کے نزدیک ممنوع ہے۔

زکاۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کئی نقصانات ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
وقت کا پانسہ کبھی بھی بدل سکتا ہے: اگر انسان زکاۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرتا ہے، اور کسے کیا معلوم وقت اپنی کروٹ کب بدل لے، تجارت کا رُخ کس طرف تبدیل ہو جائے، مستقبل میں استطاعت ہوگی یا نہیں، یا موت ہی آ جائے اور ورثہ کو ان تفصیلات کا علم ہی نہ ہو۔ اگر کسی بھی صورت میں زکاۃ ادا نہیں کر سکا تو اس پر غریبوں کا قرض ادھار رہ جائے گا جو وبالِ جان ہے۔
مستحقین کو نقصان: زکاۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنے سے مستحقین کو نقصان لاحق ہوتا ہے۔ پورے سال غریب اور مستحق لوگ ان اموال سے محروم رہتے ہیں، جو ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم ہے۔ پھر رمضان میں عطیات کا انبار لگ جاتا ہے۔ جو مستحقِ زکات کو غیر مناسب طریقے سے استعمال کی طرف لے جاتا ہے۔ زکات کی تقسیم میں پامالی ہوتی ہے۔ کہیں اسراف و تبذیر کا مظہر دیکھنے کو ملتا ہے تو کہیں مستحقین راہ تکتے ہی رہ جاتے ہیں۔ پورے سال غرباء ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہی رہتے ہیں۔ زکات کا مقصد ضرورت کو پورا کرنا ہے، اور افضل زکات وہ ہے جو غریب کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔ غریب کا فائدہ وقت اور زمانے پر مقدم ہے۔
بخل اور کاہلی: واجبات کو مؤخر کرنے سے ان کا تہہ بہ تہہ جمع ہونا لازم آتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو شیطان واجب کو ادا کرنے سے روکنے کے لیے مختلف وسوسوں میں مبتلا کرتا ہے۔ اسے شرعی احکام مشکل اور بوجھ معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اسے شریعت نا قابلِ عمل لگتی ہے۔ پھر وہ پہلے نفلی صدقات کو چھوڑتا ہے۔ پھر زکات میں کٹوتی شروع کرتا ہے۔ پھر بخالت پہ اتر آتا ہے۔ بخل اس کو زکات کی ادائیگی میں کوتاہ بنا دیتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک روز وہ عملاً منکرِ زکات کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جو کہ کفریہ عمل ہے۔ منکرین زکات کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جنگ کیا تھا اور آج تارکینِ زکات کی کثرت انہیں انکار کی اُور لے جا رہی ہے۔ جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے مترادف ہے۔
ہمارے بھائیوں کو چاہیے کہ وہ زکاۃ کی ادائیگی میں رمضان تک تاخیر کی عادت کو تبدیل کریں، وقت پر زکاۃ ادا کریں۔ تاکہ مسکینوں تک رزق رسانی کا سلسلہ پورے سال جاری رہے، ان کی معاشی حالت ٹھیک رہے، وہ دستِ سوال دراز کرنے اور بھیک منگئی سے دور رہیں، اور غریب و امیر دونوں طبقہ شیطان کے وسوسوں سے بچ سکے۔

شبِ قدر میں صدقات
رمضان خود با برکت ماہ ہے۔ پھر آخری عشرہ کی راتیں باقی راتوں سے زیادہ فضیلت کی حامل ہیں، پھر ان ہی میں کوئی ایک رات، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پورے رمضان میں عموماً اور شبِ قدر میں خصوصا زیادہ سے زیادہ صدقہ کا اہتمام ہو۔ اس طرح صدقہ کے عمل کو مسلسل 83 سال اور 4 ماہ کی عبادت سے ضرب دینے کا سنہرا موقع پا سکتے ہیں۔

روزہ دار کو افطار کروانا
قربتِ الٰہی اور جود و سخا کا بہترین مظہر روزہ داروں کو افطار کروانا ہے۔ انسان دوسرے کو افطار کروا کر اپنے روزہ کے ثواب کو دگنا کر سکتا ہے۔ ایک ہی رمضان میں وہ کئی کئی روزوں کا اجر پا سکتا ہے۔ اس سے روزے دار کے اجر میں کوئی فرق نہیں پڑے گا؛ یہ وہم نہ ہو کہ افطار کرانے والے کو روزہ دار کے اجر سے شیئر مل رہا ہے تو دوسری جانب کوئی کمی آئے۔ اللہ بادشاہ ہے، اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے۔ وہ پورا پورا دونوں کو اجر دینے کا وعدہ کرتا ہے اور وہ اس پہ قادر ہے۔ حدیث نبوی ہے:
مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا
(سنن ترمذی: 807)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں سے ذرا بھی کمی آئے“۔

کھانا کھلانا
اللہ تعالیٰ سورہ دہر کے آدھے حصے کو لوگوں کی شکم سیری کروانے والے کی فضیلت اور ان کو جنت میں ملنے والی نعمتوں کا ذکر کیا ہے کہ جو یہاں بندوں کا پیٹ بھرے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں ایسی نعمتیں عطا فرمائے، ایسی ایسی ماکولات ومشروبات سے نوازے گا کہ جس کا تصور بھی انسانی عقل کے لیے محال ہے۔ سورت میں نیکوکاروں کی صفات اور جذبۂ انفاق اور اخلاص کا ملاحظہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا
إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا
إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا
فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا
وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا
(الإنسان: 8-12)
اللہ تعالیٰ کی محبت میں وہ مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں۔
(اور کہتے ہیں) ہمارا یہ کھلانا اس کے سوا کچھ نہیں کہ محض اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ ہم تم سے نہ تو بدلہ چاہتے ہیں نہ کسی طرح کی شکرگزاری۔
ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا۔
اللہ ایسے لوگوں کو اس دن کے برے اثرات سے بچا لے گا، اور ان کو شادابی اور سرور سے نوازے گا۔
اور ان کے صبر و استقلال کے صلے میں انہی جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔

اگر آپ ان خوش نصیب جنتیوں میں سے بننا چاہتے ہیں تو آئیے، اپنے بھائیوں کو کھانا کھلائیں۔ ہمارے ملک میں بہت سے مسلمان، محتاج، غریب، مسکین، یتیم اور بہت سے بلا وجہ جیل کی چکی پِس رہے ہیں، جن کے گھر والے بھوکے اور پیاسے ہیں۔ ان کے چولہے روشن کر سکتے ہیں۔ ان کی معیشت کا ہاتھ تھام سکتے ہیں۔ آپ ان کی بھوک مٹا کر ان کے چہروں پر مسکراہٹ لا سکتے ہیں۔ جب آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں، تو آپ اس کے ساتھ اخوتِ ایمانی استوار کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر اس سے مسلمانوں میں محبت کی عام فضا پروان چڑھتی ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو آپ کو جنت میں جانے میں مدد کر سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “لا تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا، ولا تؤمنوا حتى تحابوا”
(صحیح مسلم: 54)
تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے۔ یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ، اور تم مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو ۔

صدقات کی دیگر صورتیں
عام طور پر لوگ صدقے کو صرف مال خرچ کرنے کے ساتھ ہی مختص سمجھتے ہیں۔ لیکن صدقے کو صرف مال دینے تک محدود جاننا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ مختلف احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صدقے کی کئی صورتیں ہیں اور ان نیک کام کے ذریعہ صدقے کا اجر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ان میں سے چند تعلیمات کچھ اس طرح ہیں:
خود پر، اپنے گھر والوں اور بچوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔
اپنی بیوی کے منہ میں محبت ڈالا جانے والا نوالہ بھی صدقات زمرہ میں آتا ہے۔
کسی کو قرض دینا۔
اللہ تعالیٰ کی تسبیح، تحمید، اور تکبیر بیان کرنا۔
اچھے کاموں کی ترغیب دینا اور برے کاموں سے روکنا۔
کسی سے مسکرا کر ملنا، خوش اخلاقی سے پیش آنا۔
کسی کو برے راستے سے ہٹا کر سیدھے راستے پہ لگا دینا، بھلائی کی اُور رہنمائی کر دینا۔
کسی شریر کے شر سے لوگوں کو بچانا صدقہ ہے۔
اپنے قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں کی مدد کرنا صدقہ ہے۔
کسی کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا بھی صدقہ ہے۔
سلام کو عام کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں ہٹانا، بیمار کی عیادت کرنا، مدد طلب کرنے والے کی مدد کرنا، بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ دکھانا، اسی طرح ہر وہ اچھا کام کرنا جو لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو، یہ سب صدقے کے وسیع مفہوم میں شامل ہے۔
بعینہٖ صدقہ جاریہ کے عام مفہوم کے علاوہ، بہت سی ایسی نیکیاں ہیں جن کے اثرات انسان کی موت کے بعد بھی دراز رہتے ہیں۔ یہ بھی صدقۂ جاریہ کے وسیع مفہوم میں سے شمار ہوگا۔ ان شاءاللہ۔ جیسے کہ:
دو روٹھے ہوئے لوگوں میں صلح جوئی اور تعلقات کو دوبارہ استوار کروا دینا۔
جہالت اور غفلت میں مبتلا لوگوں کو نصیحت کرنا اور ان کو صراط مستقیم پہ لانا۔
صبر و تحمل سے کام لینا اور لوگوں کی غلطیوں کو معاف کر دینا۔
لوگوں کے بارے میں بہتر خیالات رکھنا۔
نیک دعائیں کرنا۔
اہل خانہ اور بچوں کی اسلامی تربیت اور ان کو نفع بخش تعلیم دلوانا۔
خدمت گاروں اور مزدوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔
حقوق کو کمال درجہ میں ادا کرنا۔
اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرنا۔
جانوروں کے ساتھ رحم و شفقت سے پیش آنا۔
یتیموں کی کفالت کرنا اور ان کی مدد کرنا۔

ان نیک اعمال کا صدقات کے باب میں ہونا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اللہ کی رحمت کا غماز ہے، گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے، درجات کی بلندی کا سبب، جنت الفردوس میں داخلے کی سیڑھی، اور ربِ کائنات کی رضا کا باعث ہیں۔ غریبوں کے لیے سعادت کا موقع ہے۔ اس طرح شریعت نے ہر ایک کے لیے صدقہ کو قابلِ عمل اور کافی آسان بنا دیا ہے۔ ان چیزوں پہ عمل کرتے ہوئے مسلمان ہر روز اور ہر لمحے صدقہ کر سکتا ہے۔ کبھی پیسے سے صدقہ کرے، کبھی میٹھے بول سے صدقہ کرے اور کبھی اپنی ایکٹیویٹیس سے صدقات و خیرات میں حصہ لے۔ حدیث پاک ہے:
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ قَالَ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ قَالَ قِيلَ لَهُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ الْخَيْرِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ يُمْسِكُ عَنْ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ
(صحیح بخاری: 6088، صحیح مسلم: 1008)
نبی ﷺ نے فرمایا :’’ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے‘‘ ان سے پوچھا گیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر اسے (صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز) میسر نہ ہو؟ فرمایا: کہ پھر اپنے ہاتھ سے (محنت و مزدوری کا) کام کرے اور اس سے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ صحابہ کرام نے عرض کی اگر اس میں اس کی بھی طاقت نہ ہو تو؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پھر کسی حاجت مند پریشان حال کی مدد کر دے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے۔ فرمایا کہ پھر بھلائی کی طرف لوگوں کو رغبت دلائے۔ پھر پوچھا اگر یہ بھی نہ کر سکے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پھر برائی سے رکا رہے کہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔

julia rana solicitors london

اخیر میں عرض ہے کہ اپنے رشتہ داروں، پڑوسیوں، اور ضرورت مندوں کی خبر لیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حقدار بنیں۔ ہر قول و عمل میں اللہ کی رضا کی نیّت کریں، اسے صدقہ اور عبادت سمجھ کر انجام دیں۔ مسلمان کسی بھی نیک کام کو حقیر اور چھوٹا نہیں سمجھتا، بلکہ وہ ہر نیک کام کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ اور امید میں لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا یہ عمل اللہ کو پسند آ جائے اور یہی میرے جنت میں داخلہ کا سبب بن جائے، آخرت میں نجات دلا دے، جہنم کی آگ سے بچا لے۔ اللہ تعالیٰ رحیم ہے، وہ اپنے رحم دل بندوں سے محبت کرتا ہے۔ وہ کریم ہے، وہ کرم فرماؤں سے محبت کرتا ہے۔ وہ سخی ہے، وہ سخاوت کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ وہ غفار ہے، وہ عفو و درگزر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے کسی بھی عمل سے راضی ہو کر آپ کو جنت کا مژدۂ جاں فزا کا حکم دے سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے صدقات کا پہاڑ آپ کے لیے وبالِ جان بن جائے۔ ریا کاری آپ کی نیّا ڈبو دے۔ لہذا مقصدِ رمضان کا پاس رکھتے ہوئے ہوئے، خود کو تربیت یافتہ بنائیں کہ اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل میں تقوی و اخلاص کو مقدم رکھیں گے۔

Facebook Comments

عبد الرحمن عالمگیر کلکتوی
ایک ادنی سا طالب علم جو تجربہ کار لوگوں کے درمیان رہ کر کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply