• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • حافظ سعید کی رہائی،امریکی مطالبہ اور پاکستان کی مشکلات۔۔۔طاہر یاسین طاہر

حافظ سعید کی رہائی،امریکی مطالبہ اور پاکستان کی مشکلات۔۔۔طاہر یاسین طاہر

خطے میں انگڑائی لیتی تازہ صورتحال کے بیچ ظاہر ہے پاکستان کی پوزیشن خاصی مشکل ہے مگر کمزور نہیں۔ایک طرف بھارت ہے جو ہمہ وقت عالمی سفارتی دبائو کو بروئے کار لانے کی سعی کرتا ہے اور عالمی برادری کو یہ باور کراتا رہتا ہے کہ پاکستانی سرزمین سے لشکر طیبہ جیسے شدت پسند گروہوں کو سپورٹ ملتی ہے اور یہ گروہ دیگر شدت پسندوں کے ساتھ مل کر بھارت میں در اندازی کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہی بھارت ،افغانستان کے راستے،افغان اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنے کے لیے، بلوچستان،کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں میں تخریب کاری و دہشت گردی بھی کروا رہا ہے۔
اس تکلیف دہ صورتحال میں پاکستان دنیا کو یہ باور کرانے میں اگرچہ کامیاب ہوا کہ پاکستانی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوتی بلکہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ملک ہے اوریہ کہ پاکستان گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔لشکر طیبہ کو ریاست پاکستان کالعدم تنظیم قرار دے چکی ہے۔بھارت افغانستان میں بیٹھی ہوئی دہشت گردوں کی مختلف تنظیموں کا پشتی بان ہے۔یہ امر واقعی ہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کو داخلی طور پہ مصروف رکھنے کی پالیسیوں پر گامزن رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و ستم کے خلاف پاکستان کھل کر بیان دیتا ہے اور زور دار آواز اٹھاتا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کا باعث مسئلہ کشمیر ہی ہے جسے بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کبھی بھی حل کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ ستم یہ کہ دنیا کے فیصلہ ساز اور طاقت ور ممالک نے بھی کبھی بھارت کو اس امر پہ مجبور نہیں کیا کہ بھارت کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے ۔
امر واقعی یہ ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں مصروف کار تنظیموں میں سے ایک مسلح تنظیم لشکر طیبہ بھی ہے جس پہ کہ بھارت کے اندر حملے کرنے کا الزام ہے۔اس تنظیم کے سربراہ حافظ سعید ہیں، جنھیں اقوام متحدہ اور امریکہ عالمی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ لشکر طیبہ کو جب کالعدم قرار دیا گیا اور عالمی اداروں نےا س تنظیم کو دہشت گرد ڈیکلیئیر کیا تو،اسی لشکر طیبہ کے سربراہ نے ایک فلاحی تنظیم جماعۃالدعوہ کی بنیاد رکھی،اور بلاشبہ یہ تنظیم اپنے رفاعی و فلاحی کاموں میں بے نظیر ہے، دنیا مگر ان رفاعی و فلاحی کاموں والی تنظیم کے سربراہ کا مائنڈ سیٹ پڑھ چکی ہے اور اپنے خدشات کا اظہار بھی کھل کر کرتی ہے۔یہ کوئی راز نہیں کہ امریکہ و بھارت کئی مرتبہ حافظ سعید اور مولانا اظہر کے خلاف کارروائی کا کہہ چکے ہیں۔مبینہ طور پر حافظ سعید کی حالیہ نظر بندی بھی عالمی دبائو کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔صوبائی حکومت کے ذمہ داران عدالت میں کہہ چکے ہیں کہ حافظ سعید کے خلاف جو ثبوت ہیں وہ کھلی عدالت میں پیش کرنے سے معذور ہیں۔
اب جبکہ حافظ سعید کی نظر بندی میں توسیع نہیں ہوئی اور عدالت نے صوبائی حکومت کی درخواست مسترد کر دی تو حافظ سعید صاحب نے نظر بندی سے آزادی پاتے ہی کہا کہ وہ پاکستان اور کشمیر کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی بات تو سمجھ آتی ہے، مگر پاکستان کی آزادی کی بات انھوں نے کس پیرائے میں کی، یہ سمجھ سے بالاتر ہے، کہ وہ پاکستان کو کس سے آزادی دلوانا چاہتے ہیں۔جبکہ ان کی رہائی پر امریکہ نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور حافظ سعید کی دوبارہ نظر بندی کا مطالبہ کر دیا۔ ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ کچھ عرصہ قبل خواجہ آصف جب وزیر پانی و بجلی تھے تو انھوں نے اسمبلی میں کہا تھا کہ حافط سعید کون سے انڈے دیتے ہیں جو ہم انھیں پال رہے ہیں۔یہ امر درست معلوم ہوتا ہے کہ حافظ سعید اور مولانا اظہر جیسے افراد اور ان کی تنظیموں نے تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچایا ہے۔ حافظ سعید صاحب اپنی تنظیم کے ذریعے فلاحی و رفاعی کام ضرور کریں مگر جس طرح وہ فرماتے ہیں کہ وہ پاکستان کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں تو ان کا یہ کہنا کسی بھی طور درست اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ریاست اور اس کے متعلقہ اداروں کو بھی اب سوچنا چاہیے کہ ایسے افراد اور تنظیمیں جو پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ندامت و پسپائی کا باعث بنیں ایسی تنظیموں اور ان کے متعلقین و سربراہان کو کم از کم نظر بند اور کالعدم ہی رکھا جائے تو بہتر اور پاکستان کے مفاد میں ہے۔بالخصوص موجودہ عالمی و علاقائی سیاسی ،عسکری اور معاشی حالات کے تناظر میں۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *