ساری دُنیا اپنا گھر ہے مل کر اسے سجائیں۔۔۔ محسن علی

زمین بدلتی رہتی ہے کل کو سرکار قبرستان ختم کرکے آبادی بڑھنے کیوجہ سے وہاں عمارت تعمیر کروادیگی، دھرتی کیسے بنتی ہے کہ بجائے یہ سوچنا چاہئے انسانیت کیسے بچتی ہے۔ انسانوں کی ضروریات کیا ہیں ، دھرتی سے محبت آدم کو آدم خور بنادیتی ہے اُسکے لئے لڑتا مرتا ہے جب کہ انسان ،انسان کو زندہ بچانے کی کوشش و تگ و دو نہیں کرتا ، دھرتی پنجاب کی تقسیم ہوئی ، سندھ کی تقسیم ایک بار ہوچکی ، تاریخ بتاتی ہے دھرتی زمین کسی کی نہیں ہوتی ، جو کل برصغیر کا حصہ تھا بنگال اب وہ بنگلہ دیش ہے۔۔

ہزاروں سال ساتھ رہ کر الگ اور جُدا اسلئے ہونا پڑتا ہے کہ انسان بہتر زندگی گزار سکے ، میرے نانا ، نانی ، دادی تایا ، چچا ،سخی حسن قبرستان میں ہیں مگر وہ وہاں دفن نہیں میں نے انہیں اپنے دل کے قبرستان میں دفن کر رکھا ہے انہیں دل سے یاد کرلیتا ہوں عرصہ ہوا قبرستان نہیں جاتا ، اسلئے نہیں مجھے خوف یا محبت اُمڈ آتی ہے اسلئے کیونکہ مرنے کے بعد تو سکون لینے دو ،خیر دوسرا قبرستان کی حالت زار کا کیا کہیں کہ قبریں غائب کردی گئیں۔ ابو کے باقاعدہ جانے کے باوجود اور چچا کے بچوں کے ماہانہ جانے کے باوجود آگے پیچھے کردیں ، زندہ رہنے  والےلوگوں کے لئے زمین نہیں اور مُردوں کے لئے زمین ، آپ زمین کو تقدس کی چادر اوڑھادیں مگر وہ پھر بھی آپ کو نگل لے گی انسان کو محبت کی چادر دیں تو وہ ایک بہت انسان بنے گا ۔

دھرتی ماں بن جائے مگر جو لڑکی ، عورت خاتون ہو ، اسکے ساتھ بلوچ کی سرزمین پر کیا ہوا دفنا دی گئیں کیا ہوا اُس کیس کا؟ اپنی دھرتی کے لئے جتنا انسان لڑتا ہے اتنا انسان کی زندگی کے لئے کیوں نہیں لڑتا ؟بلوچستان و پشتون میں کتنی لہو لہو ہے زمین، مگر اُس کو بچانے کے لئے نہیں۔۔ مگر ہاں زمین کے ٹکڑے کے لئے لڑتے ہیں ۔ جب کہ بچپن میں پڑھا تھا کہ ساری دنیا ہی اپنا گھر ہے مل کر اسے بناو اور سجاو۔ جب بڑے ہوئے تو محب الوطنی کا اتنا چورن بیچا کہ اب زمین کے لئے ایک دوسرے کی تذلیل اور قتل کرسکتے ہیں مگر جان بچانے کے لئے یہی لوگ خاموش۔۔ جیسا  کہ مشعال خان کیس ایک تازہ مثال ہے ۔ کاش انسان اتنی محبت انسانوں سے اتنا احترام زندہ انسانوں کا کرلے تو کیا بات ہے ۔ آخر کب انسانوں سے محبت کرنا سیکھیں گے آخرکب تک ؟؟

محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *