نظم،مکالمہ،صادقہ نصیر - ٹیگ

آج کی دھمال۔۔صادقہ نصیر

آج کی دھمال۔۔ ہر چیز جو اب جھیلی نہیں جاتی۔ جاو اداسی اب بہت ہوچکی اب دل سے اتر گئی ہو۔ جدائی! اب جدا ہوجاو ۔ وقت جدائی ہے۔ اے زہر کے پیالو! اب زہر کی معیاد بھی ایکسپائر ہوچکی←  مزید پڑھیے