شام کی سرخی ابھی اندھیرے میں نہیں بدلی تھی، درختوں پہ دن بھر تھک کے لوٹ آتے پرندوں کا شور تھا- کہتے ہیں شور آلودگی ہوتا ہے، مگر پرندوں کا یہ شور آلودگی نہیں تھا، یہ ان کے لوٹ آنے← مزید پڑھیے
سرد رات کے اس پہر صحرا میں چلنے والی تیز ہواؤں کا شور عجیب بے چینی پیدا کر رہا ہے- کبھی سوچتا ہوں کہ انھیں نظر انداز کروں اور لحاف اوڑھ کر سو جاؤں، لیکن پھر خیال آتا ہے کہ← مزید پڑھیے
Whose woods these are I think I know…. برف سے ڈھکے جنگل کی طرف رکے ہوئے مسافر کی یہ بات یقیناً ایک لمحے کا بیان نہیں، بلکہ پوری انسانی تاریخ کا یہ ایک گہرا، تہہ در تہہ استعارہ ہے۔← مزید پڑھیے
میں اپنی بلڈنگ کی دوسری منزل پر کھڑا کھڑکی سے باہر جھانک رہا ہوں، اور میرے سامنے چمکتے سورج اور خاموش صحرا کے سوا کچھ نہیں ہے- اس ویران صحرا کے بیچوں بیچ ہمیشہ کی طرح چند آوارہ سراب محو← مزید پڑھیے
فراز نے کہا تھا، “اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں”, فیض نے کہا تھا، “اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا”, اور ناصر کاظمی نے لکھا تھا، “دل تو میرا اداس ہے ناصر، شہر کیوں← مزید پڑھیے
یہ سلسلۂ خطوط منطق الطیر کے جدید فکری مطالعے پر مشتمل ایک تخلیقی و علمی مکالمہ ہے، جو عبداللہ اور زہرہ کے درمیان خطوط کی صورت میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں فریدالدین عطار کی صوفیانہ تمثیل کو محض← مزید پڑھیے
یہ سلسلہ Charles Dickens کے ناول Great Expectations پر ایک مکمل ادبی مکالمہ ہے — خط اوّل — عبداللہ کی طرف سے زہرہ! آج میں نے پھر پپ کو اسی ویران قبرستان میں کھڑا دیکھا- وہ اپنے ماں باپ کے← مزید پڑھیے
(یہ خطوط کا سلسلہ دراصل Ode to a Nightingale کی محض تشریح نہیں، بلکہ اس کے فکری، جمالیاتی اور وجودی مضمرات کے ساتھ ایک گہرا مکالمہ ہے، جس میں John Keats کی رومانوی حسّاسیت، انسانی فنائیت کا کرب، حسن کے← مزید پڑھیے
بچپن میں سمندر اور صحرا سے ہونے والی وہ پہلی ملاقاتیں میرے لیے محض مناظر نہیں تھیں، بلکہ یہ میرے باطن میں دو متوازی جہانوں کی بنیاد تھیں۔ ساحل کی موجیں کبھی پاؤں سے ٹکراتیں تو کبھی دل سے؛ اور← مزید پڑھیے
ان الفاظ سے آغاز جو عاشقوں کے سینوں میں نہیں، زمانے کی نبض میں پھڑپھڑاتے ہیں؛ وہ الفاظ جو کبھی کسی صوفی کی خلوت میں اترتے ہیں، کبھی کسی فلسفی کے تصور سے دھول بن کر اٹھتے ہیں، اور کبھی← مزید پڑھیے
عبداللہ کا خط زہرہ، میں اب بھی اسی صحرا میں ہوں مگر اب یہ صحرا اجنبی نہیں لگتا۔ ریت کے ذروں میں بھی ایک ترتیب ہے، ہوا کے بہاؤ میں بھی ایک طمانیت سی ہے۔ پہلے میں راستہ ڈھونڈتا تھا،← مزید پڑھیے
زہرہ کا پہلا خط عبداللہ، کچھ دن ہوئے، میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ نہ الفاظ بلاتے ہیں، نہ خیال جاگتے ہیں۔ شاید میں لفظوں سے باہر آ گئی ہوں، یا لفظ مجھ سے خفا ہو گئے ہیں۔ کبھی سوچتی← مزید پڑھیے
زہرہ کا پہلا خط عبداللہ! آپ نے جو تحریر بھیجی تھی، اس پر میں کچھ کہہ نہیں پائی۔ نہ تعریف، نہ تنقید، بس ایک خلا سا محسوس ہوا۔ گویا لفظ میرے اندر اترنے سے پہلے ہی تحلیل ہو گئے ہوں۔← مزید پڑھیے
محبت کو اکثر لوگ ایک نجی، نرم و رومانوی تجربہ سمجھتے ہیں- مگر کیا محبت صرف دو افراد کا باہمی تعلق ہے؟ یا یہ معاشرت، روایت اور طاقت کے ڈھانچوں کے خلاف ایک خاموش مگر گہری مزاحمت بھی ہو سکتی← مزید پڑھیے
میرے دوستِ خردمند! سورج غروب ہو چکا ہے اور اندھیرا دھیرے دھیرے اپنا سیاہ چوغہ پھیلانے لگا ہے۔ فضا میں ایک ٹھہراؤ سا اتر آیا ہے؛ جیسے ہر شے نے کسی پراسرار خاموشی میں پناہ لے لی ہو۔ زندگی کے← مزید پڑھیے
رات کا یہ وہ لمحہ ہے جب بیرونی دنیا کا شور اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے اور صرف اندرونی صداؤں کا ہجوم باقی رہ جاتا ہے- ایک بار پھر رات کا ساحر خاموشی کی بانسری پہ تنہائی کا ساز چھیڑ← مزید پڑھیے
ایک کمرہ ہے۔۔ خاموش، بظاہر خالی، مگر دیواروں کے اندر کہیں الفاظ سانس لے رہے ہیں۔ میں ان کے بیچ بیٹھا ہوں، ایک قلم کے سہارے، جو کبھی میرا نہیں رہا۔ سنو! تمہارے بغیر یہ کمرہ سانس نہیں لیتا۔ اور← مزید پڑھیے
رات کا ساحر اندھیرے کے دھاگوں پر خاموشی کا سحر پھونک کر مجھے ماضی کے مسحور کن قلعوں میں قید کرنے کی بھرپور کوشش میں ہے- گو کہ ابھی جاڑا نہیں اترا، مگر خنکی اب جاڑے کا پتا دینے لگی← مزید پڑھیے
(فنبقا ایک لمحے کا نام ہے، جہاں فنا اپنی آنکھیں بند کرتی ہے اور بقا کا خواب جاگ اٹھتا ہے۔ یہ عشق کی وہ زمین ہے جہاں صبر پھول بن کر کھلتا ہے، اور وصال کی روشنی اندھیروں سے جنم← مزید پڑھیے
لوگ کہتے ہیں: “لکھو!” میں پوچھتا ہوں: “کیا لکھوں؟” جواب آتا ہے: “محبت لکھو!” میں پھر پوچھتا ہوں: “محبت پر کیا لکھوں؟” وہ اپنی بات دہراتے ہیں، “یہی لکھو کہ محبت ہر زمانے میں زندہ رہتی ہے- محبت اپنا روپ← مزید پڑھیے