تدوینِ قرآن: بائبل اور رابرٹ اسپنسر/سلیم زمان خان

آج کے دور میں فکری فتنہ پروری کا ایک نیا سیلاب رابرٹ اسپنسر جیسے کٹر اسلام دشمن مصنفین اور یوال نوح ہراری جیسے “ڈیٹا کے پجاری” ملحدین کی صورت میں امڈ آیا ہے۔ اسپنسر اپنی کتاب “Did Muhammad Exist?” میں وہی زہر اگلتا ہے جو مستشرقین کی پرانی روش رہی ہے۔ اس کا مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ معاذ اللہ اسلام کی بنیادیں اور قرآن کی تدوین بعد کی ایجادات ہیں۔ دوسری طرف یوال نوح ہراری، جو ادبی اور فکری حلقوں میں ایک ملحدانہ دانشور کے طور پر بدنام ہے، اپنی کتاب Nexus میں الہامی کتب کو “انسانی خطرات سے بچنے کی ایک ٹیکنالوجی” قرار دیتا ہے۔ اس کی تحریریں مذہب کی روحانی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے اور الہامی کتب کو محض قدیم انسانوں کی گھڑی ہوئی ‘کہانیاں’ ثابت کرنے کی مذموم کوششوں پر مبنی ہیں۔ یہ لوگ دراصل اپنی کتب کی تحریف اور انسانی مداخلت پر پردہ ڈالنے کے لیے قرآنِ پاک پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔
بائبل کی تاریخ کا حال تو یہ ہے کہ اس کے “مقدس” ہونے کا فیصلہ بھی انسانی کونسلوں کی ووٹنگ سے ہوا۔ GotQuestions.org جیسے عیسائی ذرائع معترف ہیں کہ بائبل کی موجودہ شکل انسانی انتخاب کا نتیجہ ہے۔ بائبل کی تدوین آقا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے کئی دہائیوں بعد شروع ہوئی اور تقریباً 300 سال تک مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ اس تدوین میں سینٹ پال (St. Paul) کا کردار انتہائی کلیدی اور متنازعہ ہے۔ پال نے، جو کبھی عیسیٰ علیہ السلام کا پیروکار نہیں رہا تھا، مسیحیت کی بنیادیں ہی بدل دیں اور اپنی “تبلیغی خطوط” (Epistles) کے ذریعے اناجیل کے متن اور عقائد پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ پروٹسٹنٹ فرقے نے بعد ازاں ترامیم کے بعد بائبل کی 81 کتب کو گھٹا کر 66 کر دیا۔ یہ کیسی “الہامی کتاب” ہے جس کی فہرست ہر صدی میں بدل جاتی ہے؟ بائبل کے “Revised Standard Version” میں آج بھی ایسی سینکڑوں آیات ہیں جنہیں “مشکوک” قرار دے کر نکال دیا گیا ہے۔
اسی بائبلی تاریخ کو سامنے رکھ کر اسپنسر، ہراری اور دیگر مستشرقین یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن بھی اسی طرح کی انسانی ترتیب و تدوین سے گزرا ہوگا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں تو بائبل کی تدوین سے کہیں زیادہ محتاط اور کڑے اصول “تدوینِ حدیث” کے لیے اپنائے گئے تھے۔ علمِ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کے وہ پیمانے جو حدیث کی چھان پھٹک کے لیے استعمال ہوئے، ان کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جب حدیث کی حفاظت کا معیار اتنا بلند ہے، تو اس قرآن کا عالم کیا ہوگا جو براہِ راست وحیِ الٰہی ہے!
اسپنسر کی ایک ہرزہ سرائی یہ ہے کہ وہ مختلف “قراتوں” اور صحابہ کے پاس موجود الگ نسخوں کو بنیاد بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ قرآن کے کئی نسخے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ چند کبار صحابہ کے پاس اپنی اپنی سورتوں کے لکھے ہوئے جو مخطوطات تھے، وہ انہوں نے وحی کی اصل کتابت کے دوران اپنی یادداشت کے لیے نقل کیے تھے، جن میں انہوں نے آقاﷺ سے کیے گئے سوالات اور آپﷺ کی فراہم کردہ تشریحات کو بھی متن کے ساتھ ہی تحریر کر لیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فتنہ پروری کا راستہ روکنے کے لیے ان تمام نجی مخطوطات کو منگوا کر زائل کر دیا تاکہ وحی اور تفسیر میں فرق رہے، اور صرف وہ “رسمِ عثمانی” باقی رہنے دیا جو قریشی لہجے اور خالص وحی پر مشتمل تھا۔
یہاں ایک اور اہم تاریخی نکتہ قابلِ غور ہے: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اموی خاندان سے تھے اور ان کے دور میں اکثر اہم عہدوں پر اموی حضرات فائز تھے۔ اگر (معاذ اللہ) آقاﷺ کی ہستی یا قرآن کا معاملہ محض سیاسی ہوتا، تو حضرت عثمانؓ قرآن کا رسم الخط اور قرات ہاشمی یا قریشی کیوں رکھتے؟ جبکہ اموی اور ہاشمی قبائلی طور پر ایک دوسرے کے سخت حریف تھے۔ حضرت عثمانؓ کا قرآن کو اس لہجے پر محفوظ کرنا، جس میں وہ نازل ہوا (یعنی لہجہ نبویﷺ)، اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ کام سیاست سے پاک اور سراسر منشائے الٰہی کے تابع تھا۔
اسی لہجے کے تنوع کو، جو اصحابِ رسول کے درمیان تھا، آرمینیا کی جنگ کے دوران حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو متوجہ کیا، جس کے بعد آقاﷺ کے لہجہ اقدس (قریشی) کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔ یہ دعویٰ کہ قرآن کا وجود ساتویں صدی میں نہیں تھا، جدید آثارِ قدیمہ کے ایک طمانچے سے پاش پاش ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب کے پہاڑوں، خاص طور پر مدینہ منورہ کے قریب جبلِ سلع اور وادیِ مکہ کے پتھروں پر پہلی صدی ہجری کے کتبات موجود ہیں جن میں قرآنی آیات بالکل اسی ترتیب سے درج ہیں جو آج ہمارے پاس موجود ہیں۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی بے مثال تحقیق نے ثابت کیا کہ رسولِ کریمﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ہی قرآن کو کاتبینِ وحی کے ذریعے لکھوا لیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہی اصل نبوی نسخہ طلب کیا جو آقاﷺ کی زیرِ نگرانی مرتب ہوا تھا اور جو ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بحفاظت موجود تھا۔
جو شخص یہ مانتا ہے کہ قرآنِ پاک کی تکمیل آقاﷺ کے بعد ہوئی، وہ دراصل اللہ اور رسولِ کریمﷺ پر بہتانِ عظیم لگاتا ہے۔ جس کلام کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ کریم نے تا قیامت لے رکھا ہو (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ)، اس میں کوئی کیسے تحریف کر سکتا ہے؟ آقاﷺ کے مشن کی تکمیل کی گواہی ایک لاکھ چوبیس ہزار قدسی صفات ہستیوں نے دی جو انسانی تاریخ کی سب سے معتبر “تاریخی سند” ہے۔ یہ ایک ایسا عالمگیر اور ناقابلِ تردید تاریخی ایونٹ ہے جو لاتعداد کتبِ تاریخ میں تواتر کے ساتھ موجود ہے، جو آقاﷺ کی ہستی کے وجود اور قرآن کے مکمل ہونے کی گواہی 124,000 افراد کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
میدانِ عرفات میں حجۃ الوداع کے موقع پر آقاﷺ نے پوچھا: “کیا میں نے تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟” تو سب نے بلاغ کی گواہی دی (صحیح بخاری: 1741)۔ اسی موقع پر ربِ کائنات نے وہ آیت نازل فرمائی جس میں دین کی کاملیت کا اعلان تھا:
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔” (سورہ المائدہ: 3)
پس ثابت ہوا کہ قرآنِ کریم کی ترتیب و تدوین کسی انسانی کمیٹی کی محتاج نہ تھی، بلکہ یہ وہ الہامی پراجیکٹ تھا جو صاحبِ قرآنﷺ کی نظرِ مبارک کے سامنے مکمل ہوا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
سلیم زمان خان
فروری 2026

مستند حوالہ جات:
* صحیح بخاری (کتاب فضائل القرآن): حدیث نمبر 4987، جس میں اصل نبوی نسخے کی نقل اور قریشی لہجے پر امت کو متحد کرنے کی تفصیل موجود ہے۔
* کتاب المصاحف (ابن ابی داؤد السجستانی): صحابہ کے ذاتی نسخوں کی حقیقت اور رسمِ عثمانی کی تدوین کا قدیم ترین تاریخی ماخذ۔
* البرہان فی علوم القرآن (امام زرکشی) / الاتقان (امام سیوطی): علومِ قرآن کی امہات الکتب جن میں تدوینِ قرآن کے مراحل درج ہیں۔
* خطباتِ بہاولپور (ڈاکٹر محمد حمید اللہ): مستشرقین کے اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب اور رسمِ عثمانی کی اہمیت۔
* Did Muhammad Exist? by Robert Spencer.
* Nexus: A Brief History of Information Networks by Yuval Noah Harari.

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply