ایک انگریزی اخبار نے ذہنی صحت کے موضوع پر ایک تحریر کے لیے رابطہ کیا جس کے لیے میں نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا، کچھ شائع شدہ مضامین دیکھے، کچھ اپنے پراگندہ ذہن کی ورق گردانی کی۔۔۔ یقین کیجیے ان نتائج پر پہنچا جس نے ایک مرتبہ دہلا کر رکھ دیا۔
میرا تعلق اس نسل سے ہے جس نے ضیاء الحق کا مارشل لا اپنے آب و تاب میں دیکھا ہے۔ والد صاحب وکیل تھے۔ سیاست میں حصہ تو کم ہی لیا مگر سیاسی سوجھ بوجھ خوب رکھتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھے۔ ان کے تختہ الٹے جانے پر خوش تو تھے مگر نوے دن میں ہونے والے انتخابات ملتوی ہونے پر ملول بھی بہت ہوئے۔ جلد ہی ان کو اندازہ ہو گیا کہ یہ وہ سحر نہیں ہے جس کا وعدہ تھا۔۔۔۔
وہ پی این اے کی تحریک سے دلی ہمدردی رکھتے تھے مگر جب میں نے ان کے سامنے وہ تحریر رکھی جس میں ثبوتوں کے ساتھ یہ بیان کیا گیا تھا کہ وہ تحریک سی ائی اے نے سپانسر کی تھی تو وہ ایک گہری اداسی کے ساتھ چپ ہو گئے۔ شاید یہی وہ دن تھا جس کے بعد انہوں نے سیاست میں دلچسپی لینا تو ایک طرف ٹی وی پر خبرنامہ بھی سننا چھوڑ دیا۔ نفسیات کی تعلیم نے مجھے یہ بتایا کہ اسے اقتصادی بے بسی Learned Helplessness کہتے ہیں۔ انسان اپنے تجربات سے یہ سیکھ لیتا ہے کہ معاملات اس کے کنٹرول سے باہر اور بصیرت سے ماورا ہے۔ طاقتور یا پاور کے سینٹرز جب چاہتے ہیں اسے دھوکہ دیتے ہیں۔ اسے غلط باتوں، نعروں، اور شخصیات پر ایمان اور یقین دلاتے ہیں۔ جو نظریات اس کے ذہنوں میں انڈیلے جاتے ہیں پاور سینٹر ایک خاص وقت میں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر ان کو تشکیل دیتا اور پھر ان کی تبلیغ کرتا ہے۔بعد ازاں ضرورت پڑنے پر ان خیالات، نظریات، نعروں اور شخصیات پر اس طرح یوٹرن لے لیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی اور دشمن دین و دنیا تھا جو کبھی ان کا پرچارک تھا۔
کیا ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے؟ میرے مرحوم والد کی طرح لوگ اپنے سیاسی نظریات سے پہلی مرتبہ اس طرح مایوس ہوئے ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔۔۔۔ یہ ملک کی تاریخ ہے۔ تو پھر اس مرثیہ خوانی کا کیا فائدہ؟ تو کیا پاور سینٹر کی اس کارگزاری کا تذکرہ تکرار عبث ہے؟ ان سوالوں کا جواب اس لیے نفی میں ہے کیونکہ یہ کارگزاری اپنی نئی انتہاؤں کو چھو رہی ہے اور ماضی کی نسبت امید کی کرنیں اپنی پست ترین پستیوں کو۔۔
ضیاء الحق کے ناقابل دفاع، بدترین اور بہیمانہ مارشل لا کے بعد پاور سینٹر کے لیے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ سامنے سے ہٹ جائے تاکہ اسے عوامی غیض و غضب کا مزید سامنا نہ کرنا پڑے اور پس پردہ رہ کر معاملات کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کو اختیار کرے۔ اسی لیے سیاست پر اس کا تسلط اسی کے اواخر اور نوے کی دہائی کی تاریخ کا حصہ ہے۔ آئی جے ائی کی تشکیل، اس سے پہلے سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ، سیاسی کارکنوں پر تشدد، نظام اسلام کے نفاذ کے نعرے، اور عوام کو سیاست دانوں سے برگشتہ کرنے کی کوششیں۔۔۔۔سب حافظوں میں محفوظ اور تاریخ میں موجود ہیں۔ تاہم ایک عشرے کی سیاست ازمائی کے بعد پاور سینٹر پھر آ دھمکا۔ مگر اس مرتبہ نئے پیراہن میں ملبوس۔۔۔ جس طرح 1975 کے مارشلہ کو امریکہ کے افقان پروجیکٹ نے مدد فراہم کی تھی اسی طرح سن 2000 کے مارشل لاء کو نو ستمبر سن 2001 کے واقعات نے حیات بخشی۔ سیاستدان پھر مورد الزام ٹھہرائے گئے۔ ان میں ہر طرح کی سیاست دان تھے۔ وہ جو باغی تھے مگر سمجھوتوں پر تیار تھے۔ وہ بھی تھے جو اپنے ہاتھوں سے بنائے گئے تھے مگر اب ڈکٹیشن لینے سے انکاری تھے۔ سب کو بیک جنبش زبان و قلم سے مردود ٹھہرایا گیا۔ کوئی جیل یاترا پر گیا اور ملک بدری کسی کے نصیب میں آئی۔ لیکن انسانی فطرت ازادی کی جویا ہے۔ پابندی کو مسترد کرتی ہے۔ خود پر اپنا کنٹرول مانگتی ہے۔۔۔۔ استبداد خواہ کتنے ہی مقدس اور منفرد لباس پہنے اسے مسترد کرتی ہے۔۔۔ ایسے میں 80 کی دہائی کے اواخر میں استعمال کی گئی حکمت عملی کے معمار اور ائی جی ائی کے خالق حمید گل مرحوم نے ایک نئی قیادت پر نوے کی دہائی میں طبع آزمائی کی۔ کچھ دور ساتھ چلنے کے بعد اس نئی قیادت نے حمید گل کو تو مسترد کیا کہ تب تک وہ اختیار سے محروم ہو چکے تھے تاہم اسی قیادت نے 2000 کے عشرے میں پاور سینٹر کی نئے عہدیداروں کی سرپرستی قبول کی۔ بس پھر کیا تھا۔۔۔نئی قیادت کے قصیدہ خانوں میں ایسا اضافہ دیکھنے کو ملا جو اس سے پہلے شاید ہی کسی اور کے نصیب میں آیا ہو۔ ہما شما کیا بیچتے ہیں انور مقصود اور نعیم بخاری جیسوں کے قصیدے بھی آج ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ صرف قصیدہ خانوں کی تعداد ہی نہیں بلکہ قصیدوں کی شدت بھی نئے آسمانوں کو چھو رہی تھی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اور اس میں پاور سینٹر کے تخلیق کردہ کرداروں اور نعروں سے ناواقف نوجوانوں کو ہانکا لگا کر جلسوں میں لایا گیا جہاں رات کو وہ رقص کرتے اور صبح اٹھ کر ریاست مدینہ کے حق میں کف بہاتے۔
یہ بات سماجی علوم کے ہم ایسے طالب علموں سے پہلے ملک میں موجود مٹھی بھر دانشور پہلے ہی بتا چکے تھے کہ اس نئی سیاسی قیادت اور پاور سینٹر کی محبت کی اس کہانی کا انجام کیا ہوگا۔ ایسی تحریریں 2018 کے انتخابات سے پہلے شائع ہوئی تھیں اور آج ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ہر واقعہ تاریخ کی روشنی میں متوقع تھا اور اس کی پیشن گوئی کی جا سکتی تھی تو اب نیا کیا ہے؟
اب نیا یہ ہے کہ پاور سینٹر کے خلاف مزاحمت کرنے والی سیاست نہیں رہی۔۔۔۔ جیل میں قید سیاستدان ہمیشہ کی طرح سیاسی مقدمات کے سبب غیر قانونی طور پر قید ہے۔ مگر وہ مانگتا کیا ہے؟؟؟ وہ پاور سینٹر سے وہ التفات اور محبت مانگتا ہے جو ماضی میں اس پر نچھاور کی گئی تھی۔ وہ باقی تمام سیاست دانوں کا قلع قمع مانگتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ پاور سینٹر اب یہ کر نہیں سکتا۔۔۔۔۔ پاور سینٹر ایک تو آزمائے ہوئے بازو پہلے کی طرح دوبارہ نہیں آزماتا۔ دوسرے جو ایک مرتبہ اعتماد کھو دے اسے اپنے پہلے جیسے اعتماد سے دوبارہ نہیں نوازتا۔ اور تیسرے وہ اپنے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھتا۔ خراب موسموں کے لیے اسے اور بھی پناہ گاہیں چاہیے ہوتی ہیں۔ ایک سیاست دان کے چون و چرا کرنے کی صورت میں اسے ہر گھڑی تیار سیاستدان چاہیے ہوتے ہیں۔ لہذا اپ کھیلنے کو چاند نہیں دیا جا سکتا۔ یہ پاور سینٹر کا اختیار نہیں بلکہ اس کی مجبوری ہے۔
جیل میں بند سیاستدان پاور سینٹر کو گفتگو کی اس سطح پر لے ایا ہے جو ہمیشہ سے اس کا خاصہ رہی ہے۔ سیاست دان نے کچھ عہدے داروں کی ذہنی صحت پہ سوال اٹھایا جواب میں پاور سینٹر نے اس کو ذہنی مریض قرار دے دیا۔ اس سیاستدان کی پوری تاریخ اسی طرح کی گفتگو سے عبارت ہے۔ مگر یہ پاور سینٹر کو کیا ہوا؟
بے اختیار خواجہ حیدر علی آتش یاد آئے
لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
گفتگو کی یہ سطح میرے حافظے میں موجود نہیں ہے۔ یہ قید سیاستدان تو کبھی بھی کسی کو کچھ بھی کہنے کا عادی تھا۔
آپ کو کیا ہوا؟ اس کی اسی طلاقت لسانی پر پاور سینٹر صدقے واری ہوتا تھا۔ اور پھر ذہنی مریض؟ جواب میں پوچھا جا سکتا ہے “تم ہو کون؟” اور کس بنیاد پر کسی کو ذہنی مریض قرار دے سکتے ہو؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی کو ذہنی مریض قرار دینے کے لوازمات کیا ہیں؟ پاور سینٹر کی اسی سابقہ محبت کے بارے میں برطانوی ماہر نفسیات کا ایک 90 کی دہائی میں دیا گیا انٹرویو پاور سینٹر کے پاس موجود تھا۔ اس کے علاوہ کچھ اور ماہرین نے بھی ایسی ہی رپورٹس مرتب کی تھیں اور یہ سب کچھ کم از کم ایک ڈیڑھ عشرہ پرانا ہے جس کو آج وائرل کیا جا رہا ہے۔ مگر آپ جانتے ہیں محبت جوان ہو تو ہر عیب خوبی لگتا ہے۔
سوال نہ تو قید سیاستدان کا ہے اور نہ پاور سینٹر کا۔۔۔۔ نفسیات کے طالب علم کے لیے سوال اس نوجوان کا ہے جس کو یہ یقین ہے کہ یہ قید سیاستدان جس دن جیل سے نکلے گا ملک کی تقدیر بدل دے گا۔ سوال اس مایوسی کا ہے جس کا یہ نوجوان میرے والد کی طرح اس وقت سامنا کرے گا جب اس کے خواب اس کی انکھوں کے سامنے ٹوٹیں گے اور یہ بھی سیاست سے میرے والد کی طرح مایوس ہو کر خبریں بھی سننا چھوڑ دے گا۔ سوال اس سیاست کا ہے جس کے موجودہ کھلاڑی قید سیاستدان کے خوف سے پوری طرح پاور سینٹر کے شکنجے میں کسے جا چکے اور صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی بجائے طول اور استحکام اقتدار کی روش پر چل نکلے ہیں۔ مشکل صورتحال میں راستے نکالنے والے مصلحت کی گود میں سوچکے۔۔۔ نئے سے نئے عہدے، نئی سے نئی آئینی ترامیم، نئی سے نئی قانونی موشگافی سب مزاحمت کرنے والوں کی ہمت پست کرنے کے سامان ہیں۔ لیکن لوگوں کو آج بھی امید اس سے ہے جو پاور سینٹر کی غیر مشروط حمایت کے لیے مذاکرات مانگ رہا ہے۔
تاریکی دبیز ہے اور امیدیں موہوم۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں