عمران خان غدار نہیں، قومی ہیرو ہے/ گل بخشالوی

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 2024 کاالیکشن     جس نے جیتا ،وہ سب کو معلوم ہے،لیکن پاکستانی عوام یہ الیکشن ہار گئی۔ دیس دشمن بھی ہم دیسیوں کے قومی کردار کا مذاق اڑا رہا ہے ، قوم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتی کہ جو کچھ ہوا وہ پہلی با ر نہیں ہوا ،پہلے بھی یہ ایسا ہی کچھ ہوتا رہا ہے  لیکن پہلے الیکشن رانی پردے میں تھی اب بے پردہ ہو گئی ہے۔

کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افواج پاکستان نے دیے گئے مینڈیٹ کے مطابق عام انتخابات کے انعقاد کے لیے عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا ،اس سے زیادہ افواج پاکستان کا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ 9 مئی کے منصوبہ سازوں، اشتعال دلانے والوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں ، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنے والوں اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو یقینی طور پر قانون اور آئین کی متعلقہ دفعات کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اس اعلامیہ پر  سینٹ میں جماعت ِ اسلامی ترجمان سینیٹر مشتاق احمد نے کہا  کہ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے انہوں نے پاک فوج کے جنرل صاحبان کو مشورہ دیا گفتار کے غازی نہیں کردار کے غازی بن کر دکھاؤ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتیں بنانے کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا  ہوتا ہے، لیکن 9 مئی کے واقعات کی آڑ میں پاکستان دوست عوام پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے، لیکن 8 فروری کا الیکشن   تحریک ِ انصاف کی مرکزی قیادت اور کارکنان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوا اور9 مئی کا بیانیہ طاقت کے سر چشمہ عوام نے ووٹ کی طاقت سے دفن کر کے ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان دیس کے غدار نہیں وفا دار ہیں۔

تحریک ِ انصاف کا کہنا ہے ہم بھی چاہتے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث لوگوں کو عبرتناک سزا دی جائے ، سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔ امریکہ میں کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے میں ملوث افراد کو بھی سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا لیکن تعجب ہے کہ سانحہ 9 مئی پر ابھی تک جوڈیشل کمیشن  نہیں بنایا گیا۔ لگتا ہے سانحہ 9 مئی کی آزادانہ انکوائری میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں۔

کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ ، اعلانیہ کہہ رہا ہے کہ فوجی افسر شا ہی مکمل طور پر قومی سیاست میں ملوث ہے اس لئے تو سلیکشن کے ڈسے مولانا فضل الرحمان کہہ رہے ہیں کہ ہمارے نظام انصاف کا معیار یہ ہے کہ ’ جب کسی کو اقتدار میں لانا ہو تو اس کے ایک سو مقدمات ایک ہفتے میں ختم اور جس کو اقتدار سے نکالنا ہو تو ایک ہفتے میں اس کے خلاف ایک سو مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں۔ فوج ہماری دفاعی قوت ہے دفاعی قوت ہونے کے ناطے مجھے حق نہیں پہنچتا کہ میں دفاعی ادارے پر تنقید کروں لیکن وہ سیاسی ادارہ بننے کی کوشش کرتا ہے تو کوئی کور کمانڈرز کانفرنس کی قرارداد مجھے تنقید سے نہیں روک سکتی۔‘

محمود خان اچکزئی کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ پاکستان   کسی کے باپ کی میراث نہیں ،اگر تم بارڈر اور بیرکس میں نہیں جاؤ گے تو ہم تمہیں دھکے دے کر بھجوائیں گے جس کو تم غدار کہتے ہو وہ قوم کا اصل ہیرو ہے اس کا نام عمران خان ہے۔

ایمل ولی خان کہہ رہا ہے ، میں کسی کو زمینی خدا نہیں مانتا ، چوکیدار کو چوکیداری کرنی ہے 1947  سے آج تک کوئی بھی جنگ نہ جیتنے والے قومی خزانہ چوس رہے ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ افواج پاکستان کے خلاف اس قدر نفرت کیوں ؟ یہ ہی فوج تھی 1965، کی جنگ میں پوری قوم اس کے شانہ بشانہ تھی اور جنگ کے بعد اسی پاکستان کا بچہ بچہ فوجی وردی کو سلامی دیا کرتا تھا ، لیکن آج اگر اسی پاکستان کا بچہ بچہ   فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہا ہے تو کیوں ؟ پاک فو ج آج بھی ہر پاکستانی کے لئے قابل صد احترام ہے لیکن پاک فوج کی قیادت کو بھی سوچنا ہوگا ، حلف کی پاسداری اور خاکی وردی پاک فوج کی شان اور پہچان ہے ، جانے پاک فوج کے جرنیل اپنی پہچان کا احترام کیوں بھول گئے ؟

julia rana solicitors london

 نوٹ:تحریر میں بیان کردہ  خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، مکالمہ  ویب کا ان سے اتفاق  ضروری نہیں  اور نہ ہی یہ خیالات ادارے کی پالیسی کا اظہار ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply