راجہ ناصر محمود کی تحاریر
راجہ ناصر محمود
راجا ناصر محمود قطر میں مقیم ایک کہنہ مشق اور وسیع المطالعہ فیچر رائٹر ہیں جو گزشتہ تین دہائیوں سے وہاں آباد ہیں۔ وہ پاکستان اور عالمی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں اور معاشرتی مسائل پر اپنے بصیرت افروز اور شائستہ اسلوب میں اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ ان کے کالم طنز، مزاح اور سنجیدہ فکری تجزیے کا حسین امتزاج ہوتے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مطالعہ، سفر اور مشاہدہ ان کے ذوق کا حصہ ہیں جن سے اُن کے خیالات کی گہرائی اور تحریر کا حسن مزید نکھرتا ہے۔ راجا ناصر محمود ایک متوازن، سنجیدہ اور شگفتہ قلم کار ہیں جو انسانی رویّوں اور روزمرہ حقیقتوں کو فکرانگیز اور دیرپا تاثر میں ڈھالتے ہیں۔

کھیت کی مُولی/ راجا ناصر محمود

تم کِس کھیت کی مُولی ہو؟ آج کل سوشل میڈیا کے آسرے پر جینے والا ہر شہری یہ سوال صرف مُولی سے نہیں پوچھ رہا بلکہ کسی بھی قسم کا پھل یا سبزی خریدنے سے پہلے اُس کی تاریخِ پیدائش،←  مزید پڑھیے

پہلے قومیت یا پھر معاشرت ؟-راجا ناصر محمود

قومیت وہ سیاسی اور نظریاتی شناخت ہے جو افراد کو ایک قوم یا ریاست کے طور پر متحد کرتی ہے جب کہ معاشرت لوگوں کے رویّوں، رسوم و رواج اور سماجی تعلقات کا مجموعہ ہے ۔ یوں کہا جا سکتا←  مزید پڑھیے

مصنوعی ذہانت (AI) کا اساتذہ کو کُھلا چیلنج /راجا ناصر محمود

Google Gemini، Microsoft Copilot اور Khanmigo جیسے آلات نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح تعلیمی میدان میں بھی ایک انقلاب برپا کر دیا ہے، دنیا بھر میں طلباء کی ایک بڑی تعداد تعلیمی مقاصد کے لیے ChatGPT جیسے کئی←  مزید پڑھیے

حیوانِ ناطق اور حیوان/راجہ ناصر محمود

مشہور یونانی فلاسفر ارسطو نے حضرتِ انسان کو حیوانِ ناطق یعنی سمجھ بوجھ اور عقل و شعور رکھنے والا حیوان کہہ کر گویا انسانوں اور حیوانوں کے درمیان دیوارِ چین کھڑی کر دی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر کچھ←  مزید پڑھیے

چاہت، چادر اور چاردیواری / راجہ ناصر محمود

معاشرتی زندگی کی بنیادی اکائی گھر دراصل چاہت، چادر اور چاردیواری کا نام ہے۔ اس کی بنیاد ایک مرد اور عورت اس وقت رکھتے ہیں جب وہ نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھتے ہیں۔ میاں بیوی کے روپ میں دونوں←  مزید پڑھیے