پروفیسر فضل تنہا غرشین کی تحاریر

سر سید احمد خان کے مذہبی عقائد/ پروفیسر فضل تنہا غرشین

سرسید احمد خان اپنے زمانے کا ایک نابغہ روزگار کردار تھے۔ انھوں نے زندگی کے تقریباً ہر موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے، لیکن ‏زمانے کو تب سے اب تک ان کے اکثر نظریات سے انکار رہا ہے۔ تاہم اس←  مزید پڑھیے

عمامے سے عمامے تک/ پروفیسر فضل تنہا غرشین

عمامے سے عمامے تک/عماد جب دن بھر کی پرمشقت محنت و مزدوری کے بعد تھکا ماندہ گھر لوٹتا، تو سوچتا: “کاش میں بھی تعلیم یافتہ ہوتا یا کسی ہنر کا مالک ہوتا تو آج آرام کی زندگی بسر کرتا۔” عماد←  مزید پڑھیے

محبت کا نقیب اور جمہوریت کا طالب: حبیب جالب / پروفیسر فضل تنہا غرشین

حبیب جالب 24 مارچ، 1928 کو صوبہ پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ آزادی کے بعد کراچی میں آبسے۔ ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور میں متعدد بار سلاخوں کے پیچھے رہے۔ مارشل لاء کے سخت مخالف←  مزید پڑھیے

اسلام اور علمائے اسلام / فضل تنہا غرشین

نوٹ: زیر نظر تحریر علامہ نیاز فتح پوری کی کتاب “اسلام اور علمائے اسلام” کے پہلے حصے کا خلاصہ ہے۔ ظہور اسلام کی برکت سے جزیرہ عرب سے پستی کے بادل چھٹ گئے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم←  مزید پڑھیے

خود احتسابی: مسائل کا آسان اور سستا ترین حل /پروفیسر فضل تنہا غرشین

عالمی اور ملکی سطح پر رونما ہونے والے مہلک مسائل، موسمی تبد یلیاں، انسان دشمن سماجی منفی رویے، سیاسی چالیں اور معاشی بحرانوں کو حرف آخر رکھنے کے لیے طرح طرح کی حکمت عملیاں اور قانون سازیاں کی جاتی ہیں،←  مزید پڑھیے

پروفیسر فیض محمد شہزاد: ادھوری محبت اور پوری مزاحمت کا شاعر /پروفیسر فضل تنہا غرشین

پروفیسر فیض محمد شہزاد حاجی عبدالکریم کے ہاں بابو محلہ پشین بازار میں 1964 کو پیدا ہوٸے۔ ان کا تعلق توبہ کاکڑی احمد خیل کاکڑ قبیلے سے ہے اور ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی۔ انھوں نے 1980←  مزید پڑھیے

حاجی فارم 47 آکا / پروفیسر فضل تنہا غرشین

عبدالقادر بچپن ہی سے پڑھائی میں کمزور تھا۔ خدا خدا کر کے اس نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا، جب کہ کالج پڑھنا اس کے لیے جوئے  شیر لانے کے مترادف تھا۔ تاہم والدین کے عتاب سے بچنے اور←  مزید پڑھیے

افسانہ “بلا عنوان” پر ایک تنقیدی نظر/پروفیسر فضل تنہا غرشین

بلوچستان میں افسانوی ادب اپنے جغرافیے، سماج اور آب و ہوا سے مکمل ہم مزاج اور مماثل ہونے کی وجہ سے ہم عصر ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کثیر اللسانی ہونے کے باوجود اس خطے نے نہ صرف←  مزید پڑھیے

اقبال کا تصوّرِ خدا /پروفیسر فضل تنہا غرشین

نوٹ: یہ تحریر علی عباس جلال پوری کی کتاب ‘اقبال کا علم کلام’ اور علامہ اقبال کے نجی نوٹ بک ‘سٹرے ریفلیکشنز’ سے ماخوذ ہے۔ لفظ فلسفہ یونانی الاصل ہے۔ فیلو سے مراد محبت اور سوفیا سے مراد دانش ہے،←  مزید پڑھیے

زبان اور کلچر کے عروج و زوال کا راز /پروفیسر فضل تنہا غرشین

زبانیں سماجی ضروریات کے تحت لاشعوری طور پر وجود میں آتی ہیں اور شعوری طور پر معاشی، سیاسی، سائنسی، مذہبی اور قانونی ضروریات کے لیے بامِ عروج پر پہنچا دی جاتی ہیں۔ زبانیں عام طور پر انسانی رابطوں کے لیے←  مزید پڑھیے

راموز /پروفیسر فضل تنہا غرشین

اشاعت سے قبل اس رزمیہ نظم کا نام “نئی آگ کا عہد نامہ” تھا۔ یہ نظم اٹھارہ الواح (ابواب، فصل یا حصوں) پر مشتمل ہے۔ راموز میں الواح کو ترتیب خالد احمد انصاری نے دی ہے اور مصوری دانش رضا←  مزید پڑھیے

معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی کا مختصر تعارف/پروفیسر فضل تنہا غرشین

ڈاکٹر مبارک علی21 اپریل1941 کو ٹونک راجستھان کے محلہ امیر گنج میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان مغلوں کے دور میں پشین سے ہندستان آیا تھا، اور وہ ترین قبیلے کی شاخ طور ترین سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا←  مزید پڑھیے

کافر عشقم /پروفیسر فضل تنہا غرشین

کافر عشقم آغاگل کا تازہ ترین رومانوی ناولٹ ہے، جس میں ملک سے باہر کوئٹہ والوں کی پرخلوص محبت کی عکاسی کی گئی ہے۔ ناولٹ کا ہیرو ‏فرید اور ہیروئین ایک خوب صورت گوری لڑکی کینوی ہے۔ متوازی کرداروں میں←  مزید پڑھیے

اوشو کی باتیں / پروفیسر فضل تنہا غرشین

اوشو (چندر موہن جین) مدھیہ پردیش میں 1931 کو پیدا ہوئے۔ وہ گرو رجنیش کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ انھوں نے غیر معمولی بچپن، رنگین جوانی اور خطرات سے بھرپور فلسفیانہ زندگی گزاری۔ وہ کچھ عرصے تک سکس گرو←  مزید پڑھیے

چھبیسویں ترمیم پر ایک ترچھی نظر/ پروفیسر فضل تنہا غرشین

20 اور 21 اکتوبر 2024 کو ممکنہ طور پر کُل 56 ترامیم میں سے صرف 22 ترامیم پاس ہوگئیں، جو اَب 1973 کے آئین میں چھبیسویں ترمیم کے نام سے محفوظ ہیں۔ عوام میں اس ترمیم کے حوالے سے ملا←  مزید پڑھیے

کمیونزم پر ایک سرسری نظر / فضل تنہا غرشین

نوٹ: زیر نظر تحریر سبط حسن کی کتاب ‘موسی سے مارکس تک’ کا خلاصہ ہے۔ چھ  دنوں کی بنی کائنات میں پہلے سماوی دنیا، پھر جمادات، نباتات، آبی جانور، خشکی جانور اور آخر میں انسان وجود میں آیا ہے۔ انسان←  مزید پڑھیے

فیض احمد فیض کی دنيا/پروفیسر فضل تنہا غرشین

فیض احمد فیض 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی۔ وہ زمانہ طالب علمی ہی میں شعر و سخن کہنے لگے تھے۔ نقش فریادی، دست صبا، میرے دل میرے مسافر، وادئ سینا اور←  مزید پڑھیے

جدیدیت اور غالب: دانیال طریر کی نظر میں / پروفیسر فضل تنہا غرشین

مرزا اسد اللہ خان غالب کی شخصیت اور فن پر کئی ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر دانیال طریر کی کتاب “جدیدیت، مابعد جدیدیت اور غالب” تفہیم غالب کے سلسلے میں ایک نایاب اضافہ ہے۔ یہ کتاب کم و بیش←  مزید پڑھیے

خدا مری نظم کیوں پڑھے گا؟ -پروفیسر فضل تنہا غرشین

ادبی سفر کے دوران میں دانیال طریر نے میر سے رگوں کے اندر دہکتے شعلے بنانا، بانجھ آنکھوں سے اشک بہانا اور اپنی ذات کو فنا کرکے خود کو ریشم بنانا سیکھا۔ غالب سے ذات کی اہمیت، نظیر سے احترام←  مزید پڑھیے

عید الاضحی مبارک ہو/فضل تنہا غرشین

مسلم دنيا کے لیے عید منانا ایک نہایت خوشی کا تہوار ہوتا ہے۔ عید الفطر ہو یا عید البقر، بڑوں کے لیے یہ ایک اسلامی فریضے کی حیثیت رکھتی ہے، جب کہ بچوں کے لیے عیدین کے ایام یادگار اور←  مزید پڑھیے