ضیاء الحق کا مارشل لا تھا۔ سخت پابندیاں تھیں۔ جلسہ جلوس، تقریر تحریر، اورتنظیم سیاست سب ضیا کے بوٹوں تلے۔ سارے سیاسی کارکن جیلوں میں۔ کوڑے سرِ عام مارے جارہے تھے۔اخبارات پہ بدترین سنسر شپ جاری تھا۔ ہر روز اخبار← مزید پڑھیے
لارڈز لندن ہے۔۔۔اس اگست2020 میں اس بات کو پورے دس سال ہو جائیں گے، ہو سکے تو اس بدنامی کی سالگرہ منالیں اور اُس وقت کے صدر ِ پاکستان آصف زرداری کے وژن کے مطابق،” مل کے کھاؤ اور مٹی← مزید پڑھیے
آج کل ایک مرتبہ پھر ہر طرف فیس ایپ کے چرچے ہیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے؟ اگرچہ فیس ایپ کی طرف سے یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ وہ کیا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ مگر مجھے← مزید پڑھیے
“یہ قبولیت کی جگہ ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر جس چیز کی ضرورت ہو مانگ لو۔ دعا قبول ہوگی۔ بس شرط یہ ہے کہ توجہ سے مانگنا۔” کسی نے اپنے لیے اولاد کی دعا کی، کسی نے ترقی کا سوال← مزید پڑھیے
کورونا نے دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے۔ روزانہ بے شمار لوگ مرنے لگے، خاندان برباد ہوئے۔ پسماندگان کی چیخوں نے دھرتی ہلا کر رکھ دی۔ موبائل فون تعزیتوں کا لاؤڈ سپیکر بنے اور تازہ قبروں سے قبرستانوں کے پیٹ← مزید پڑھیے
بیانیہ دماغوں کو جکڑ لیتا ہے اور دماغ افراد کو قابو کرتے ہیں، دماغوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی گرفت میں لیا جاتا ہے۔ یعنی ذرائع ابلاغ اُس طاقت کا نام ہے، جو انسانی اذہان کو بنانے، سنوارنے اور← مزید پڑھیے
ایران کی تاریخ شریعت محمدی سے بھی ہزاروں سال پرانی ہے، اس میں پارسی مذہب کا بھی بہت عمل دخل ہے، بلکہ اسلام سے پہلے ایران میں پارسی مذہب ہی سرکاری مذہب کی حیثیت کا حامل تھا، لہذا اقبال کے← مزید پڑھیے
سنتھیا رچی کے ملک امریکہ کا بجٹ خسارہ لگ بھگ سترہ کھرب ڈالر ہوگیا ہے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے باعث امریکہ کا← مزید پڑھیے
مرزا ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر جو اکبر شاہ ثانی کا دوسرا بیٹا تھا لال بائی کے بطن سے 24 اکتوبر 1775ء کو دہلی میں پیدا ہوا۔ ان کا سلسلہ نسب گیارھویں پشت میں شہنشاہ بابر سے← مزید پڑھیے
وہ نورانی چہرے والا دکاندار ہم دونوں کا واقف نہیں تھا ۔اسی لئے سیدھے سبھاؤ ہی مُکر گیا۔گوجرانوالہ کی سٹیل مارکیٹ میں اچھے بھلے گودام کا مالک اپنا گودام چھوڑ کر کھوتی ریڑھی پہ رکھے آموں کے کریٹ میں سے← مزید پڑھیے
نوے کی دہائی میں ہمارے گاؤں میں کبھی کسی نے پنٹ شرٹ نہیں پہنی تھی یا کم سے کم گاؤں میں پہن کر اپنا مذاق بنوانے کا رسک نہیں لیا تھا۔ ہم نے بھی نہیں پہنی لیکن کالج میں فوجی← مزید پڑھیے
کورونا کے وبائی مرض نے قریب نصف سال مکمل کر لیا ہے۔ اس دوران اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کو گوشہ نشینی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ گوشہ نشینی کی اس زندگی میں جہاں ایک طرف انسانی← مزید پڑھیے
پاکستان کی موجودہ نااہل، نالائق اور نکمی حکومت کی کارکردگی کے بعد پوری دنیا کے اکانومسٹ اور سوشیالوجسٹ اب یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کرپشن یا نااہلی میں سے کون سی چیز زیادہ خطرناک ہے، آپ کس← مزید پڑھیے
اب یہ کہیں ممکن تھا کہ جادُو اور وہ بھی عشق کا بھلا سر چڑھ کر نہ بولے گا تو پھر کیا قدموں میں آہ وزاریاں کرتا پھرے گا۔ وہ اِس میدان کی کوئی تجربہ کار کھلاڑی تو تھی نہیں← مزید پڑھیے
یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آ ٓرائیاں لیکن اب نقش و نگار ِ طاق ِ نسیاں ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آ نند یاد ، یعنی حافظہ، رفت و گذشت و بے خودی یہ سبھی کچھ تھا← مزید پڑھیے
سعودی محکمہ سیاحت و قومی ورثے کے مطابق سعودی وژن 2030 کے تصور کی تکمیل کے لئے جو منصوبے سیاحت اور ثقافت کے حوالے سے بنائے گئے ہیں ان میں کئی تاریخی اور بڑے شہروں میں عجائب گھر کے قیام← مزید پڑھیے
میری یاداشت اتنی شاندار ہے کہ میں نہ صرف لوگوں کے نام ہی بھول جاتا ہوں بلکہ،چہرے بھی یاد نہیں رہتے ۔جس مفکر نے کہا تھا کہ ” انسان ہونے کیلئے نسیان کا ہونا اشد ضروری ہے “میں اس کانام← مزید پڑھیے
رات آدھی سے زیادہ بیت چکی ہے مگر آج نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے، بارہا آنکھوں میں پروفیسر نثار احمد صدیقی صاحب کا ہنستا مسکراتا چہرہ اور عاجزی سے بھرپور شخصیت ہی نظر آتی ہے۔ خبر ملی کہ پروفیسر← مزید پڑھیے
پوچھتے ہو کیا یارو ! مُغَنّیہ کے بارے میں اُس حسیں پری زادی مطربہ کے بارے میں وہ پری تو جیسے اک ساز کا سراپا ہے نغمۂ مجسم ہے، رشک ہائے مینا ہے، وہ سراسوتی دیوی راگ جب لگاتی← مزید پڑھیے
روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ بچے کو اس کے والدین غصہ ہوں تو وہ انہی کی گود کی طرف پناہ لینے کے لئے بھاگتا ہے اور اپنے والدین ہی سے لپٹ لپٹ جاتا ہے۔ والدین کی گود اس کے لئے← مزید پڑھیے