گھر - ٹیگ

داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط30

پیش لفظ۔ پچھلی قسط میں اِنکم ٹیکس کی وکالت کا اپنا مشہور کیس لکھتے ہوئے  شاید نظر لگ گئی، داستان زیست لکھنے کو بریک لگی۔ وقفہ طویل ہو گیا۔ ہم 1990 میں تھے، اسلام آباد کے سیکٹر جی۔ سکس ٹو←  مزید پڑھیے

بدصورت۔۔۔بشریٰ نواز

رشید کی پیدائش پہ اماں، جان کی بازی ہار گئی تو گھر پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی. رشید کی نانی اور دادی    آپس میں بہنیں تھیں. رشید سے بڑا حمید اور پھر مجید ۔۔تین بچوں کو سنبھالنا معمو لی←  مزید پڑھیے

مکان کو گھر بنائیں ۔۔۔بشریٰ نواز

کمینی کم عقل ذلیل عورت ! تیری ہمت کیسی ہوئی اپنی ماں کو فون کرنے کی میں نے تمہیں سمجھایا بھی تھا کہ مجھے وہ لوگ پسند نہیں تو پھر تو نے ان کو فون کیوں کیا ؟ یاسر !←  مزید پڑھیے

دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم۔۔۔سریندر پرکاش

سمندر پھلانگ کر ہم نے جب میدان عبور کیے  تو دیکھا کہ پگڈنڈیاں ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہاڑوں پر پھیل گئیں۔ میں اک ذرا رُکا اور ان پر نظر ڈالی جو بوجھل سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلے←  مزید پڑھیے

زاویہ(ایک حکایت)نیا رنگ۔۔۔۔۔جواد بشیر

آج کا دن قیامت جیسا طویل معلوم ہوتا تھا،ناچاہتے ہوئے بھی کچھ کاموں کو کرنا،طبعیت پہ بوجھ کا سبب بنتا ہے۔۔خیر آج بھی کچھ ایسا ہی تھا،شادی کے لیے کروایا ہوا کمرے کی دیواروں کا رنگ شادی کے بعد محبت←  مزید پڑھیے

کھیر، رات کی رانی اور ماں جی کی یاد ۔۔۔عامر عثمان عادل

آج سکول سے واپس گھر آیا ،کچھ کھانے کی تلاش میں فریج کھولا تو بڑے سلیقے سے سجائی  گئی کسٹرڈ کی پلیٹ پر نظر کیا پڑی، دل سے ایک ہوک اٹھی اور جیسے یادوں کے منہ زور دریا کا بند←  مزید پڑھیے

گھروندے۔۔۔بشریٰ نواز

ایک آ م ،ساتھ دو جا من کے درخت، اسی قطا ر میں امرود اور انا ر بھی، سامنے کچھ پو دے لیموں،ہری مرچ، ٹماٹر کے بھی تھے ۔تیسری سمت میں ٹھنڈی اور پرسکون دھریک کا گھنا درخت اور چوتھی ←  مزید پڑھیے

احمقوں کی بستی کے مکین۔۔۔ولائیت حسین اعوان

میری یہ تحریر کوئی باقاعدہ جامع مضمون نہیں۔کوئی کالم کوئی بلاگ نہیں۔شاید کوئی ربط آپ اس میں نہ پائیں گے۔نہ ہی الفاظ کی خوبصورتی۔نہ گرائمر کا درست استعمال آپ کو ملے۔اسکی نہ تمہید متاثر کُن ہو گی نہ اسکا اختتام←  مزید پڑھیے

کچی آبادی میں بسنے والا ایک شخص ۔۔۔محمد فیاض حسرت

میرے پاس کیا تھا ؟ ایک کچا ، ٹوٹا سا گھر تھا ۔ ایسا گھر جس کے اندر سے دن میں سورج صاف دکھائی دیتا تھا اور رات میں چاند بھی ایسے دکھتا تھا جیسے وہ اس گھر کو ہی←  مزید پڑھیے

پچاس لاکھ مکانات کا منصوبہ یا گہری کھائی ۔۔۔۔سلیم فاروقی

ملک شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ڈالر اور غربت ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے، اگر کوئی چیز کمی کی جانب مسلسل گامزن ہے تو وہ روپے کی قیمت ہی ہے۔ اور یہ کوئی آج←  مزید پڑھیے

منحوس کہیں کا۔۔۔رابعہ الربا

جب سے اس نے یہ واقعہ پڑھا تھا وہ آپ ہی آپ تلملا رہی تھی۔ اس کے اندر کی آگ بڑھتی جا رہی تھی۔ پہلے والا وکیل بھی مسلسل آئیں بائیں شائیں کر رہا تھا۔ شاید کیس اس کی پکڑ←  مزید پڑھیے

ٹوائلٹ۔۔۔۔ ایک pain کتھا/محمد اشفاق

ویسے مجھے بند جگہوں کا خوف (claustrophobia) بالکل نہیں ہے، بلکہ الحمدللہ فوبیا کوئی بھی نہیں لیکن کل پرسوں اکشے کمار کی “ٹوائلٹ ایک پریم کتھا” دیکھتے ہوئے خیال آیا کہ زندگی میں جن چند جگہوں پر اپنا دم گھٹتا←  مزید پڑھیے

میکس اور میرا تقسیم شدہ وجود ۔۔۔فوزیہ قریشی

پورے پانچ برس بعد لندن میں شدید برف باری ہو ئی جس کی وجہ سے  موسم آئے دن  خراب رہنے لگا تھا۔۔۔راستوں پر جمی ٹھوس برف  کا شیشے کی مانند  سخت ہوجانا   میرے جیسے  روزانہ  نوکری  پر جانے  والوں کے←  مزید پڑھیے

نفسیاتی طاقت۔۔۔ مبشر علی زیدی

سونے سے مجھے بہت محبت ہے۔ یعنی نیند سے۔ پیلی دھات سے نہیں، جس کی زنجیریں بناکر مرد خواتین کو قابو کرلیتے ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ زیور پہنا ہے۔ ہمارے ایک بہت سینئر اور محترم ساتھی ذاکر نسیم کہتے←  مزید پڑھیے

سوہانجنا ،ایک کرشماتی پودا۔۔۔۔مریم مجید ڈار

کائنات میں موجود ہر جاندار و بے جان شے کی پیدائش کا مقصد صرف اور صرف بنی نوع انسان کی خدمت بجا لانا ہے۔ دیوہیکل معدنیات اگلتے پہاڑ ہوں یا نظر نہ آنے والے جرثومے، چرند پرند حیوانات و نباتات←  مزید پڑھیے

پہلے عورت کو انسان تو سمجھیں۔۔محمود اصغر چوہدری

روم ٹرین سٹیشن سے باہر نکلا تو ٹیکسی  سٹینڈ پر مسافروں کی لمبی قطار تھی۔ ٹیکسیاں تو تیزی سے آرہی تھیں لیکن مسافر بہت زیادہ تھے ۔میری آدھے گھنٹے بعدسفارت خانہ میں پاکستانی سفیر تسنیم اسلم سے میٹنگ تھی ۔←  مزید پڑھیے

دس ضرب دو برابر صفر ۔۔آدم شیر

لاہور کے شمال میں ایک پرانی بستی ہے جس کی ایک تنگ اور بند گلی میں موجود اکلوتے کمرے کے مکان میں بلو کرائے پر رہتی تھی۔ اِس شہر کی ٹیڑھی میڑھی تنگ گلیاں اندر سے بڑی کھلی ہوتی تھیں←  مزید پڑھیے

گمنام سفر۔محمد اعزاز /پہلی قسط

‎اپنے دوست کا میسج پڑھتے ہی عبداللہ نے کھڑکی کے پردے ہٹائے اور باہر کی جانب نظریں  مرکوز کردیں ، اُسے پہلے ہی ایکڑینڑن کی شامیں بہت خوبصورت لگتی تھیں، صاف ستھرا شہر کم آبادی، خاموشی، سکون اور یہ بارہ←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ کاغذ

وہ  گھر میں اپنے مخصوص  کمرےمیں آئی۔ ہرچیز جوں کی توں تھی  جیسے ابھی بھی یہیں رہ رہی ہو۔ اس نے اپنی الماری کامقفل  دراز کھولا۔وہ محبت نامے جن میں آج بھی   خوشبو رچی ہوئی تھی،یونہی  پڑے تھے۔ رومانوی←  مزید پڑھیے