گاؤں - ٹیگ

میں بھی میلادی ہوں ۔۔۔۔خان مظفر

میرا تعلق ضلع گجرات کے  ایک مذہبی قصبے چوہددوال سے ہے یہ قصبہ یونیورسٹی آف گجرات سے محض چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے گاوں کی آبادی مشکل سے سات ہزار افراد پر مشتمل جہاں بچے اور بچیوں کے دو←  مزید پڑھیے

پریشان حال چھوٹے کسان۔۔۔۔ذوالقرنین ہندل

’روٹی بندہ کھا جاندی اے‘ پنجابی کا یہ مشہور فقرہ آپ کو سچ نظر آئے گا۔ اگر آپ بے چارے چھوٹے کسانوں کی حالت زار کا اندازہ لگائیں گے۔گزشتہ ادوار میں بھی شاید ایسا ہی ہوتا ہو ۔مگر موجودہ دور←  مزید پڑھیے

دیہاتوں کےجے کانت شِکرے۔۔۔۔مظفر خان

اپنی تمام زندگی میں دو اقسام کے لوگوں کا انجام بخیر نہیں دیکھا, ایک وہ جس نے کسی غریب پر ظلم کیا ہو اور ناحق کسی کو مارا پیٹا ہو, دوسرا وہ جس نے کسی غریب, یتیم , بیوہ ,←  مزید پڑھیے

نانا کا گھر، نواسوں کا حق اور میری شرارتیں۔۔۔۔عمار کاظمی/حصہ اول

نانا جی کوئی بہت بڑے عالم نہیں تھے بمشکل چند مذہبی کتب پڑھ رکھی ہونگی، لیکن بڑے عزادار ضرور  تھے۔ وہ صاحبِ حیثیت ہونے کیساتھ ساتھ بہت مذہبی اور با کردار انسان تھے۔ نماز تہجد اور پنجگانہ نماز پڑھتے تھے۔←  مزید پڑھیے

اِتِّی ذرا سی محبت۔۔۔۔شکور پٹھان

یہ گاؤں نہیں تھا لیکن گاؤں ہی لگتا تھا۔۔۔۔۔ یہ شہر کاحصہ تھا لیکن ماحول پر دیہاتی رنگ غالب تھا۔ یا شاید ہمیں یوں ہی لگتا تھا۔ ہم اس سے پہلے بہارکالوںی جیسی گنجان آبادی میں رہتے تھے۔ جہاں دومنزلہ←  مزید پڑھیے

بابے دا جہاز۔۔۔۔محمود چوہدری/سچی کہانی

سن تھا 1947ء۔ گاﺅں کے اوپر سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر گزرا۔بچے شور مچانا شروع ہوگئے ”وہ دیکھو بابے دا جہاز“۔ ”بابے کا جہاز“ کی آوازرضیہ کے کانوں میں پڑی تووہ آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ بیٹھی، اس نے پاگلوں کی←  مزید پڑھیے

میرا گاؤں اور پاکستان۔۔۔برہم مروت

زیادہ پرانی یادیں نہیں بس میرے بچپن کی یادیں ہیں. اپنے پرانے گھر سے نکلتے ہی سب سے پہلی نظر مسجد پر پڑتی تھی اس وقت گارے اور مٹی کی تھی لیکن زمانے کی چال چلتے ہوئے اب وہ مسجد←  مزید پڑھیے

گھر جاندی نے ڈرنا۔۔۔شہزاد حنیف سجاول

یہ 19 دسمبر 1997 کی خوشگوار صبح ہے ہلکے ہلکے بادل،تیز ہوا اور کبھی کبھی آسمان کی کوکھ سے ٹپکتی بوندیں۔ جہاز کے پہیوں نے زمین کو چھوا تو چشم تخیل میں یادوں کے پے در پے دریچے کھلتے چلے←  مزید پڑھیے

ایہہ جھگڑا تائیوں مُکنا جِدوں جہلم پانی سُکنا۔۔۔حافظ یاسر

آج رات کچھ زیادہ ہی بھاری تھی. سرِشام سے بمباری ہو رہی تھی. گولوں کی رینج بھی آج زیادہ تھی. عشاء کی نماز کے کوئی ایک گھنٹے بعد جب تین بم گاؤں کے بالکل پاس گِرے تو لوگ بے چین←  مزید پڑھیے

مڑھیاں دا دیوا۔۔۔مریم مجیدڈار

شکر دوپہری سروٹاں دے ذخیرے دے اندرو اندر کوئی ٹریا جاندا سی۔ ہاڑ دی دھپ تے ساہ پھٹ گم دا چار چفیری پہرہ سی ۔ او جو وی کوئی سی، اوہدے پیراں دی آواز توں شاید اس ذخیرے دے سارے←  مزید پڑھیے

برادری مذہب اور ملٹری فارمز کے کسانوں کی سیاست ۔حصہ دوم/مترجم اسد رحمان

یہ مضمون انجمن مزارعین پنجاب میں شائع ہونے والے  احمد یوسف کے مضمون کا ترجمہ ہے جو کہ انجمن مزارعین پنجاب کی تحریک کے اتار چڑھاؤ کا احاطہ  کرتا ہے یونس اقبال خاص طور پہ بائیں بازو سے اپنی شناخت←  مزید پڑھیے

چوہدری۔۔ اصغر محمود چوہدری

میرے ابا جی میرے آئیڈیل نہیں تھے، میرے خاندان والوں کے نزدیک بھی وہ زندگی کی دوڑ میں   ایک ناکام شخص تھے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے خاندان میں آنکھ کھولی جس میں ان کے کزن اور قریبی رشتہ←  مزید پڑھیے

لوک رنگ۔۔سائرہ ممتاز/حصہ دوم

زندگی کی رفتار کا مقابلہ کرنا اس صدی میں مشکل تر ہو گیا ہے. لیکن باجرے کا سٹہ  تلی پر رکھ مروڑا تو اب بھی جا سکتا ہے۔ ہاتھ پر بنی اون کی جرسیوں کی بات ہو رہی تھی. بس←  مزید پڑھیے

کھڑکیاں سمندر کی طرف کھلتی ہیں۔محمد اظہار الحق

میں تو ایک جھیل ہوں ۔جاڑا آتا ہے تو کونجیں اترتی ہیں ،دور دور سے آئی ہوئی،سائبیریاسے،صحرائے گوبھی کے اس پار سے برف سے، مستقل ڈھکے پہاڑوں سے،آکر میرے کناروں پر بیٹھتی ہیں ، باتیں کرتی ہیں ۔میرے ترسے ہوئے←  مزید پڑھیے

پینڈو کا فسانہء دل۔عظمت نواز

اسلام آباد  شہر میں موجود ایک بینک کے تہہ خانے میں موجود ایک شعبے میں داخل ہونے کے بعد تیسری قطار کی  دوسری کرسی پر موجود چہرہ ایک ہی بار اوپر کی جانب اٹھتا ہے اور شدید قسم کا پینڈو←  مزید پڑھیے

پرائیویٹ سکول مافیا ،کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ۔رانا اورنگزیب

تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں  فرق ←  مزید پڑھیے

پنجاب رنگ۔رانا اورنگزیب

 سردیوں کے دن ٹھنڈی ہوا۔چاروں طرف لہلہاتے گندم کے سبز کھیت۔خشک چھوئی سے ڈھکے میٹھے اور لمبے گنے۔ایک طرف بہتا شفاف نہری پانی کا کھال۔کھال کے ساتھ ہی کماد کے کھیت کے درمیان چلتا ہوا بیلنا۔بیلوں کے گلے میں بندھی←  مزید پڑھیے

بیل گاڑی کے مقابلے۔رانا اورنگزیب

بیل اور کسان کا جنموں کا ساتھ ہے۔انسانی تاریخ میں بیل اور گائے کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے اور اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ یونان ، مصر ، نینوا اور بابل اور سندھ کی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی،نیا روپ .ڈاکٹر ستیہ پال آنند۔ قسط4

1945ء تک نوشہرہ ایک برس، پھر دو برس راولپنڈی، پھر ایک برس نوشہرہ اور پھر آخری دو برس راولپنڈی۔۔اس طرح یہ ہجرتوں کا سلسلہ جاری رہا۔تین برسوں کے اس عرصے کے دوران میں کوٹ سارنگ صرف دو بار جا سکا،←  مزید پڑھیے

فرسٹ کزن۔محمد خان قلندر بابا

ہاں جی ! یہ نیم چڑھی سچی واردات ہے، جی ! ایسا ہوتا تو سب کے ساتھ ہے،لیکن کوئی  بتاتا نہیں ، تو لیجیئے ہم بتلائے دیتے ہیں ،کہ سب کے سارے کزن کتنے کمینے ہو سکتے ہیں، نہیں  ؟←  مزید پڑھیے