ڈاکٹر مختیار ملغانی، - ٹیگ

کتاب دوستی ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

قرونِ وسطی میں کتاب کو مقدس مانا جاتا تھا کہ اسے ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ بعض اوقات کسی ایک کتاب کی تکمیل میں پوری زندگی صَرف ہو جایا کرتی تھی، گویا کہ کتاب کےاوراق پر سیاہی نہیں بلکہ زندگی←  مزید پڑھیے

صارفیت ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

سماج کو پیروی کیلئے ایک مثالی پیکر درکار ہوتا ہے، ایک وقت تھا جب مثالی شخصیت ایسی ہستیاں ہوا کرتی تھیں جو علم و ہنر میں ید طولی رکھتے تھے، آج ارب پتی افراد کو مثالی سمجھ کر ان کی←  مزید پڑھیے

حقیقت اور افسانہ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

حقیقت کیا ہے اور کیا افسانہ ہے؟ اس سوال پہ لمبی بحثیں ہو سکتی ہیں اور ہوتی آئی ہیں، کسی محقق کا کہنا ہے کہ حقیقت کی ایسی کوئی شکل نہیں جو عقل سے پرے ہو، سائنس کے مطابق حقیقت←  مزید پڑھیے

سماجی ارتقاء کا سفر۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

معاشرے میں سائنسی انقلاب نے مذہبی بیانئے کا متبادل پیش کیا، اب امام یا پادری کی جگہ سائنسدان کی بات کو ذیادہ اہمیت دی جانے لگی، دانشور اشرافیہ کا جھکاؤ سائنسی محققین کی طرف ہونے لگا، یہ اور بات کہ←  مزید پڑھیے

سپردگی ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

سپردگی کا عمل فرد کی کامل زندگی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، اس عمل کا ظہور صرف انفرادیت تک محدود نہیں بلکہ یہ سماج کی اجتماعی معاشرت میں بھی جڑ پکڑ سکتا ہے، مایوس کن بات یہ ہے کہ ایسے مظاہر ایک نسل سے اگلی نسل میں بھی منتقل ہوسکتے ہیں ۔←  مزید پڑھیے

اَنا اور عقلی شعور۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسان کی انا اور اس کا عقلی شعور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے آگے چلتے ہیں، البتہ ان دونوں میں واضح فرق یہ ہے کہ عقلی شعور مکمل طور پر حواس خمسہ کا محتاج ہے، اور اسی کو←  مزید پڑھیے

وقت اور انسانی شعور۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

صبح کا وقت نصابی کاروائیوں کیلئے معین ہے، غیر نصابی سرگرمیاں شام کو عمل میں لائی جاتی ہیں، نصابیات اپنی فطرت میں ثقیل، بدمزہ، غیر دلچسپ بلکہ کسی حد تک ڈراؤنی واقع ہوئی ہیں کیونکہ ان کا تعلق روزمرہ زندگی←  مزید پڑھیے

طناب گیر۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

منفی سوچ رکھنے والا فرد سمجھتا ہے کہ حالات کبھی بھی انسان کے قابو میں نہیں رہتے، زندگی کے نشیب و فراز میں ایسا شخص کامیابی کے کسی ٹیلے پر چڑھ بھی جائے تو اس کی نظر نیچے بچھی دلدل←  مزید پڑھیے

مذہبی معیارات ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

رِیت یہی ہے کہ مذہب پسند افراد کو اعلی اقدار و اخلاق کا علمبردار گردانا جاتا ہے اور مذہب بیزار پر تمام تصور کردہ گناہوں و کوتاہیوں کا لیبل لگانا عمومی رویہ ہے، یہ تصور مذہب پسند کا اپنا پھیلایا←  مزید پڑھیے

فلسفۂ منشیات۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

آبجیکٹیو ریئیلیٹی وہ ہے جو حقیقت میں ہے، اس کا انحصار کسی کی رائے یا کسی کے احساس سے نہیں، یہ حقیقت فی الواقع موجود ہے، جبکہ سبجیکٹیو ( موضوعی ) ریئیلیٹی سے مراد وہ ہے جسے آپ حقیقت سمجھتے←  مزید پڑھیے

خوشی کیا ہے ؟ (پہلی قسط )۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

آغاز میں یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں(سوائے ایک کے) اور جتنے بھی فلسفہ ہائے زندگی ہیں (سوائے ایک کے)، یہ سب خوشی کی تعریف میں انسان کے احساسات کے قائل نہیں، بلکہ یہ←  مزید پڑھیے

دماغ و ہستی کی جدوجہد۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسان کی اصل حقیقت، اس کا وجود، اس کی ہستی ہے اور اپنے ہی وجود تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا اپنا دماغ ہے، یہ بات مخلتف مذاہب نے اپنے اپنے رنگ میں انسان تک پہنچانے کی←  مزید پڑھیے

پرواز کی کوتاہی۔۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

چالیس سالہ منیر بلوچ لگ بھگ دس سال اسلام آباد ائیر پورٹ پر پرندے مارنے , Bird shooter , کی ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد اب گلگت بلتستان کے جنگلات میں جنگل دار ، Forester, کے فرائض انجام دینے←  مزید پڑھیے