ڈاکٹر صابرہ شاہین، - ٹیگ

تُو جانتا ہے۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

بس مالک! اب تجھ سے بھی ہم کیا مانگیں؟ رت جیون کی، تنہا روتے بیت گئی سندر خواب، سہانے کل کے راکھ ہوئے قندیلیں بھی ،آس کی اپنی، خاک ہوئیں تار،تار ہے دامن بھی امیدوں کا اور چہرے پر سایہ←  مزید پڑھیے

سنو سائیں۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

سنو  سائیں ترے لہجے کا مصنوعی یہ بھاری پن وفا کی راگنی جاناں لگاوٹ کے سبھی پلٹے یہ آروئی  و امروہی مگر، ان تیز سانسوں لچکتی ڈال سے کومل بدن پہ ہونٹ کی سرگم یہ رعنائی وفا کے سارے وعدوں←  مزید پڑھیے