ڈاکٹر ستیہ پال آنند - ٹیگ

پارچہ،اک شعر بے چارہ(عابدہ وقار کی نذر)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پارچہ الوان، ست رنگا، چمکتا بھیگتے رنگوں کی ململ دھوپ اور برسات کا جیسے ملن ہو کھٹا میٹھا، آسمانی، سبز، نیلا، زرد، اُودا پارچہ رنگین، بو قلمون، روشن پارچہ جذبات کے سب رنگ اپنے دل کی دھڑکن میں سمیٹے، شاعرِ←  مزید پڑھیے

جل جلال۔۔علی محمد فرشی

سمندر نے کروٹ بدل کر کہا: کن گمانوں کی لہروں پہ چلتے،مچلتے ہوئے جارہے تھے یہاں میرے قدموں میں گرنے سے پہلے! نمک چکھ لیا تم نے میرے بدن کا تو کہنے لگے ہو: ’’نہیں ، میں نے ایسا تو←  مزید پڑھیے

دو گز زمین بھی نہ ملی۔۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکلین میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا۔ پینتیس مرد اور خواتین بھی تاجدار ہند کے ساتھ تھے۔یہ جہاز ۱۷ اکتوبر ۱۸۵۸ کورنگون پہنچا۔ کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا۔ وہ←  مزید پڑھیے

ستیہ پال آنند اورکتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر فاطمہ حسن

میری ستیہ پال آنند جی سے اس وقت ملاقات ہوئی، جب وہ کتھا چار جنموں کی لکھ چکے تھے اور یہ کتاب اشاعت کے مرحلے میں تھی۔ اس حساب سے میں ان سے ان کے پانچویں جنم میں ملی اور←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب(غالب کے فارسی اشعار)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

۰قرب کعبہ چہ حظ ؟ ؎ دگر ز ایمنیٗ راہ و قرب کعبہ چہ حظ ؟ مرا کہ ناقہ ز رفتار ماند و پا خفتست ۔ غالب رات بھر برف گرتی رہی ہر طرف میں کہ بیمار تھا بار بستر←  مزید پڑھیے

گونگے سُر کی واپسی۔۔۔(18)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(میری اپنی جیون کتھا ۔ خود نوشت ) کوکھ میں تھا جب میں سُنتا تھا اپنے دل کی دھڑکن ماں کے خون کی گردش کی موسیقی جیسے بانس کے جنگل میں اُڑتی آوازیں سُر سنگیت ۔۔۔ ہوا کے سانسوں کی←  مزید پڑھیے

گرڑ پُران۔۔۔۔(16)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہندوؤں کی قدیم ترین مقدس کتابوں میں جہاں وید اور شاستر ہیں، جنہیں الہامی کتابیں تسلیم کیا گیا ہے، وہاں پُران بھی ہیں۔ پُران رِشیوں کی تصنیف کردہ من گھڑنت کہانیاں ہیں، جو انہوں نے لوگوں کے جیون سُدھار کے←  مزید پڑھیے

ختم ہونا شام کا۔۔۔(15)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(1) ختم ہونا شام کا اک مرحلہ ہے رات کی اندھی چڑیلیں چیختی ہیں آسماں کی گیلی رسّی سےبندھے بے بس اندھیرے کالی قربانی کے بکروں کی طرح گردن بریدہ نزع کے عالم میں گرتے، ہانپتے ہیں ختم ہونا آج←  مزید پڑھیے

اگیانی نجومی کا کرسٹل بال۔۔۔۔(14)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(چار حصّوں میں ایک نظم کہانی) (۱) تم بہت بے صبر ہو، واقف نہیں ہو ضابطوں سے زندگی کو چائے کے چمچوں میں بھر بھرکر تحمل، قاعدے سے لمحہ ، لمحہ ، مختصر وقفوں سے جینا ضابطہ ہے تم نہیں←  مزید پڑھیے

ایکلویہ۔۔۔(10)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ایکلویہ مہا بھارت کا ایک اچھوت کردار ہے۔اُسے پانڈووں کے راج گرو درون آچارؔیہ نے اچھوت ہونے کی وجہ سے شکھشا دینے سے انکار کیا ، کہا کہ وہ تو صرف شہزادوں کو تیر اندازی کی تربیت دے سکتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

کَٹ۔۔۔(9)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

CUT لینز* پہ کچھ منظر تیزی سے ابھر رہے ہیں پہلا منظر بیل ہانکتے بل کے پھل پر پاؤں رکھے اس دہقان کا ہے، جو اپنا کھیت جوت کر فصل اُگانے کی امید میں خون پسینہ ایک کرتا ہے دوسرا←  مزید پڑھیے

خامہ بگوش غالب۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

الفاظ ۔ ایک استغاثہ رن آن سطور میں لکھی گئی ایک نظم مستغیث ایک میں الفاظ کا بخیہ گر ہوں، مجھے اچھا لگتا ہے حرف و سخن کا توازن مقفیٰ، مسّجع، وہ الفاظ جن سے ترنم کی چشمک ، تغزل←  مزید پڑھیے

جناب ستیہ پال آنند صاحب کے جنم دن پر۔۔۔۔۔۔۔طیبہ ژویک

شہنشاہ اسوهء حسنہ۔۔ آپ بندہ ستیہ پال آنند۔۔ غیر مسلم ضرور ہے لیکن۔۔ یہ اجازت تو دیں مجهے سرکار۔۔ دهیان میں گم زمیں کو بوسہ دوں۔۔ اور باقی کی عمر اے آقا۔۔ یوں ہی ٹھہرا رہوں جهکائے ہوئے۔۔ در ِشاہِ ←  مزید پڑھیے

بیاض ِ عمر۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بیاض ِ عمر (یہ نثر نُما نظم باقاعدگی سے بحر ہزج مثمن سالم یعنی ’مفاعیلن، مفاعیلن‘ کی تکرار میں تقطیع کی جا سکتی ہے) بیاضِ عمر کھولی ہے! عجب منظر دکھاتے ہیں یہ صفحے جن پہ برسوں سے ، دھنک←  مزید پڑھیے

’’کتھا چار جنموں کی‘‘ کا نیا روپ۔ وزیر آغا (مرحوم) سے بات چیت اور خطوط کا تبادلہ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط44

(گزشتہ قسط میں ہم نے وزیر آغا مرحوم کے گھر میں ہوئی اس بات چیت کا ذکر کیا تھا جو راقم الحروف اور ان کے ما بین دیر رات گئے تک ہوتی رہی تھی اور جس میں ہم دونوں نے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط43

سلسلہ۔۔۔ وزیر آغا (مرحوم) سے بات چیت کا اور ان کے خطوط کا … دسمبر ۱۹۹۹ ۔۔ لاہور میں ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر میرا یہ تیسرا دن تھا۔ گذشتہ رات ہم دونوں تقابلی مذہب کے بکھیڑوں میں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط42

ایڈیٹر نوٹ:یہ اب تک کے  غیر مطبوعہ خطوط ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی مکالمہ سے محبت کی وجہ سے پہلی بار مکالمہ کے پلیٹ فارم سے پبلش کئے جارہے ہیں ۔ہم ڈاکٹر صاحب کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں←  مزید پڑھیے

میری وزیر آغا مرحوم سے بحثا بحثی کی ایک واردات۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 میں جب بھی لاہور جاتا، ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر ہی ٹھہرتا۔ اوپر والی منزل پر ایک طویل و عریض کمرہ اور غسل خانہ میری عارضی املاک تھے۔ شام تک تو احباب (جن میں ڈاکٹر انور سدید اور←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 33

ایک ناد ر الوجود ڈکشنری لیکن اس سے پہلے کہ میں امریکہ  اور کینیڈا میں نقل مکانی کے بعد کا ”آلاپ“ شروع کروں، مجھے انگلستان میں اپنے ڈیڑھ دو برسوں کے قیام کے دورانیے  کو ایک نظر دیکھنا ہے کہ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر31

واقعہ ایک ہندوستانی ناولسٹ سے ملنے کا! لندن میں یا اس کے قریب ہی اپنی یونیورسٹی (برٹش اوپن یونیورسٹی، ملٹن کینز) میں رہتے ہوئے تب تک ایک برس بیت چکا تھا۔ چچا ملک (ڈاکٹر ملک راج آنند) سے اس دوران←  مزید پڑھیے