ڈاکٹر اختر علی سید، - ٹیگ

خالد سعید: بالشتیوں میں سر بفلک۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد

خالد سعید 29 مئی کو اس دنیا سے سدھار گئے۔ وہ جب موجود تھے ،حتیٰ کہ جب وہ صاحب فراش بھی تھے کبھی یہ احساس تک نہ ہوا کہ دنیا ان کے بغیر کیا ہوگی۔ اس بات کا احساس عین اس صبح کو ہوا جب ان کے جانے کی اطلاع ملی۔ یہ اطلاع گو غیر متوقع نہیں تھی مگر پھر بھی ناقابل یقین ضرور تھی۔←  مزید پڑھیے

عمران خان پیدا کرنے والا معاشرہ۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد

عمران خان اس وقت جنرل مشرف کو اپنی دی گئی حمایت سے دستبردار ہو چکے تھے اور وہ فوجی جنتا کو خوب تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ اور صاف لفظوں میں یہ بتاتے ہیں کہ اگر وہ اقتدار میں آگئے تو کس طرح فوج کو اس کے اس رول تک محدود کردیں گے جو آئین میں لکھا ہوا ہے۔←  مزید پڑھیے

نسل کشی، جمہوریت، اور اکثریت پسندی۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد

 نسل کشی، جمہوریت، اور اکثریت پسندی۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد/وسعت اللہ خان ہمارے ملک کے ان چند صحافیوں میں سے ایک ہیں جو انتہائی اہم اور نازک موضوعات پر انتہائی مہارت اور بھرپور معلومات کے ساتھ سادہ پیرائے میں بات کہنے پر قدرت رکھتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

فکری روایات کی تفہیم اور تکریم۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد

فکری روایات کی تفہیم اور تکریم۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد/فرانسیسی فلسفی مشعل فوکو نے Episteme اور Discourse کے تصورات اپنے فلسفیانہ نظریات میں شامل کیے ہیں۔ مجھے اجازت دیں کہ غلط ہی سہی مگر میں Episteme کا ترجمہ "روح عصر" کروں، روح عصر سے فوکو کی مراد کسی ایک خاص وقت اور مقام پر موجود افراد کا وہ ذہنی ڈھانچہ ہے←  مزید پڑھیے

قیام کے وقت سجدہ سہو۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد

کیا پاکستان میں صحافت آزاد ہے؟ یہ سوال سادہ نظر آتا ہے۔ سماجی سائنس کے ایک طالب علم کے طور پر میرے لیے یہ سوال اور اس کے ممکنہ جواب دونوں ہی بہت زیادہ دلچسپی کے حامل ہیں۔ پہلے اس←  مزید پڑھیے

تہذیبوں کا تصادم، عالمگیریت اور پروفیسر ہراری۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد

تہذیبوں کا تصادم Clash of civilization نامی تصور پر پہلے برنارڈ لویس Bernard Lewis نے لکھا تھا بعد میں سیمیویل ہنٹنگٹن Samuel Huntington نے اس تصور پر ایک مختصر سا مضمون 1992 میں شائع کیا تھا, اسی تصور کو بعد←  مزید پڑھیے