نظم - ٹیگ

تین نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱) آسمانی ایلچی سے ایک سوال انت ہے کیا؟ سامنے کیا صرف اک اندھا اندھیرا لا مکان و لا زماں ہے؟ کیا ہم اپنے ارتقا کی آخری سیڑھی پہ پاؤں رکھ چکے ہیں؟ کیا یہی کچھ حاصل ِ لا حاصلی←  مزید پڑھیے

مٹی ہوتی جارہی ہوں۔۔۔روبینہ فیصل

اس دھرتی کے سارے موسم دوغلے ہیں اور میرے پاس سارے پھول یک رنگے اسی لئے تو شاید یہاں میری ذات کی کلیاں پنپ نہیں رہیں چہروں سے بھرے اس شہر میں بس ایک چہرہ ڈھونڈتی ہوں فقط ایک چہرہ←  مزید پڑھیے

میں اس پہ گھر بنا دوں گا۔۔۔رابعہ الرَبّاء

تم جا کے بیٹھو تو سہی میں اوپر گھر بنا دوں گا تمہارے سفید کمرے میں ٹیولپ روز لگا دوں گا لان آنگن میں جھمکہ بیل اور رات کی رانی کسی درخت کی شاخ پہ اک جھولا بھی لگوا دوں←  مزید پڑھیے

خواب فروش، خواب گیر، ن م راشد۔۔۔سید مہدی بخاری

شاعری ان جذبات کے اظہار کا ذریعہ ہے جو انسان عام طور پر نثر میں نہیں کہہ پاتا۔ شاعری جسے فراز نے تازہ زمانوں کی معمار کہا، سلسلہ کُن فیکون، وہی شاعری ن م راشد کے لیے خواب کی سی←  مزید پڑھیے

اے چاند بھٹائی سے کہنا۔۔۔انور پیر زادو/ترجمہ:مشتاق علی شان

اے چاند بھٹائی سے کہنا! جس رات میں تو نے شعر کہے وہ رات ابھی تک جاری ہے سورج کی تمازت ہے ویسی صحرا میں سفر وہ جاری ہے میں کس سے اپنا درد کہوں؟ اے چاند بھٹائی سے کہنا←  مزید پڑھیے

تمہارے لئے نہیں ہیں۔۔۔رابعہ الرَبّاء

میری کہانیاں ،میری نظمیں، میرے لفظ، میرے حرف تمہارے لئے نہیں ہیں، اگر تمہیں نہیں پتا “گبیریلا” نے کیوں لکھا اگر تمہیں نہیں پتا” ہرمن ہیس” پہ “سدھارت” کے ساتھ نیم موت راج کرتی رہی اگر تمہیں نہیں پتا “سدھارتا←  مزید پڑھیے

آہ بہت اچھا انسان تھا ۔۔۔سلمان نسیم شاد

اچانک کسی بھی لمحے کسی بھی گھڑی جب اجل مجھے اپنی آغوش میں لے کر دور بہت دور برزخ کے سفر پر نکلے گی تب جب اچانک میری نگاہ زمیں کی طرف پڑے گی وہاں لوگوں کا ایک ہجوم سا←  مزید پڑھیے

خامہ بگوش غالب۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

الفاظ ۔ ایک استغاثہ رن آن سطور میں لکھی گئی ایک نظم مستغیث ایک میں الفاظ کا بخیہ گر ہوں، مجھے اچھا لگتا ہے حرف و سخن کا توازن مقفیٰ، مسّجع، وہ الفاظ جن سے ترنم کی چشمک ، تغزل←  مزید پڑھیے

سُنو لڑکی۔۔۔۔رابعہ الرباء

سُنو لڑکی طبیب نے تمہیں خوش رہنے کی دوا دی ہے تم ابھی بھی نا خوش ہو نا شکری ہو تم سنو لڑکی اس موتیا رنگ ستونوں بنی عمارت کے روشن دان، کھڑکیاں و در کتنے وسیع و عریض ہیں←  مزید پڑھیے

اُمید کا چاند۔۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء/نظم

ہر بچہ اُمید ہے مستقبل کی نوید ہے ظلم تمھارا شدید ہے کیسے خزاں تم لاؤ گئے؟ کتنے دریا تم روکو گے؟ کتنے چاند کرو گے تسخیر؟ کتنے سورج جلاؤ گے؟ آخر ہار ہی جاؤ گے! کیونکہ ہر بچہ اُمید←  مزید پڑھیے

سمندر اور جوہڑ۔۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

سمندر کے کنارے ریت پر لیٹا بڑی حیرت سے لہروں کو میں تکتا ہوں وہ لہریں رقص کرتی ہیں خوشی کے گیت گاتی ہیں بڑی اپنائیت سے مجھ سے کہتی ہیں سمندر کی یہ طغیانی ہمیں آزاد رکھتی ہے ہمیں←  مزید پڑھیے

پیاس بجھتی کہاں ہے شبنم سے۔۔۔۔۔نورباف

گھاس کی پتیوں پہ شبنم ہے پیاس بجھتی نہیں ہے شبنم سے اوس کے آس میں جو رشتے ہیں نیند یا پیاس کیا کرے اُن کا دور میں پاس۔۔۔۔۔۔؟ کیسا دھوکہ ہے؟ آگہی کے نشیب میں پھیلی۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔خواب کی راس←  مزید پڑھیے

گستاخِ رسول کون۔۔۔۔۔۔۔ سانول عباسی

قلم کو لے کے ہاتھوں میں یہ پہروں سوچتا ہوں میں کہ کیا لکھوں شرم سے ڈوب جاتا ہوں کبھی سوچا ہے نادانو محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان تو دیکھو خدا کے وہ مقَرّب ہیں فرشتے سر جھکاتے←  مزید پڑھیے

مجھ سا مبہوت عاشق۔۔۔۔۔۔۔ رفیق سندیلوی/نظم

کیسی مخلوق تھی آگ میں اُس کا گھر تھا الاؤ کی حدّت میں موّاج لہروں کو اپنے بدن کی ملاحت میں محسوس کرتی تھی لیکن وہ اندر سے اپنے ہی پانی سے ڈرتی تھی کتنے ہی عشاق اپنی جوانی میں←  مزید پڑھیے

جس نے آواز اٹھائی ہے ،اٹھایا گیا ہے۔۔۔۔مظہر حسین سید

اس قدر جبر کا ماحول بنایا گیا ہے جس نے آواز اُٹھائی ہے اُٹھایا گیا ہے میّتِ خواب پہ رونے کی اجازت بھی نہیں رونے والوں کو زبردستی ہنسایا گیا ہے سانس باقی ہے ابھی جنگ بھی جاری ہے ابھی←  مزید پڑھیے

ROGUE POEMS ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 37

لنڈین میں ستر کی دہائی میں ایک شعری وبا  ء  سی انگلینڈ میں 1972-74کے برسوں میں پھیلی جب میں وہاں تھا۔نگریزی میں یہ نظمیں اس قدر مقبول ہوئیں کہ ”دی گارڈین“ سمیت کئی روزانہ اخباروں نے باقاعدگی سے اپنے میگزین←  مزید پڑھیے

میری آخری نظم ۔۔۔۔مشتاق علی شان

تخیل خود جہاں اپنی حدِ پرواز طے کر لے جہاں لفظوں کا آہنگ خامشی کا ساز طے کر لے جہاں ملبوسِ عریانی پہن کر حرف سجتے ہوں جہاں پر حرف کی اوقات ہی کیا ظرف بکتے ہوں جہاں رسمِ زباں←  مزید پڑھیے

حاصلِ محفل۔۔۔فیصل عظیم

تمہیدوں کی بھول بُھلیّاں باتیں گنجلک روحِ معنی کی ارزانی تعریفوں کے مردہ پیکر توصیفی نظروں سے پوجا پاٹ کے منظر گویا سب کچھ لمحے بھر کو سر آنکھوں پر ایک عجب ہنگامہ شب بھر واہ وا ہ کی مشکوک←  مزید پڑھیے

کُھرچے ہوئے لفظوں کا وارث۔۔۔محمد اظہار الحق

یہ ایک اداس کرنے والی صبح تھی۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی مگر یوں لگتا تھا۔ جیسے دل کے اندر دن ڈھل رہا ہو اور سائے لمبے ہو رہے ہوں۔ ایک پارسل موصول ہوا یکدم فضا بدل گئی۔ یہ معین نظامی←  مزید پڑھیے

ماں۔۔۔محمد فیاض حسرت/نظم

زندگی پہلے قربان کر دیتی ہے پھر فدا وہ دل و جان کر دیتی ہے اپنے حصے کی خوشیاں سبھی بانٹ کر مشکلیں یوں وہ آسان کر دیتی ہے نام کر کے بہاریں سبھی اوروں کے زندگی اپنی ویران کر←  مزید پڑھیے