مستنصر حسین تارڑ - ٹیگ

بچے جتنے کچّے اتنے ہی میٹھے۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

کیا نوجوان طالب علموں اور بچوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟ کیا انہیں کسی بھی سیاسی تحریک میں جھونک دینا مناسب ہے؟ لکشمی مینشن نام کی ایک کولونئیل عمارت جو رہائشی فلیٹوں پر مشتمل ہوا←  مزید پڑھیے

ہراموش اور نانگا پربت کے جنگل روتے ہیں۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

یہ جولائی 1975ء کا قصہ ہے جب سوئٹزر لینڈ کے دارالحکومت برن میں مجھے اطلاع ملی کہ میرا خالہ زاد بھائی والدین کی اکلوتی اولاد کیپٹن پائلٹ ساجد نذیر کوئٹہ میں اپنے جہاز کے حادثے میں شہید ہو گیا ہے۔←  مزید پڑھیے

خس و خاشاک زمانے۔۔مستنصر حسین تارڑ/تبصرہ۔ ۔بلال حسن بھٹی

مستنصر حسین تارڑ عہد حاضر میں اردو ادب کا ایک بڑا نام ہیں۔ وہ اس خطے میں داستان گوئی کی قدیم روایت کے سچے پیروکاروں میں سے ہیں۔ بلکہ انہوں نے داستان گوئی کی قدیم روایت کو نئی بلندی سے←  مزید پڑھیے

کرکٹ کی ڈائن بقیہ کھیلوں کو کھا گئی۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

سلمان نے نہایت اشتیاق سے اخبار کے پہلے صفحہ کی سرخیوں پر نظر دوڑائی اور ویٹر کو کہنے لگا اوئے پرانا اخبار لے آتے ہو! ویٹر نے قسم کھا کرکہا کہ صاحب آج کا اخبار ہے۔ سلمان نے بہ نظر←  مزید پڑھیے

شمال کے شیدائی‘ سودائی۔۔۔(2)مستنصر حسین تارڑ

پہلا حصہ: غدار کی واپسی۔۔۔۔(1)مستنصر حسین تارڑ کم از کم میں تو اس حقیقت سے انکار کر کے کافر نہیں ہونا چاہتا کہ پاکستانی شمال ایک سحر انگیز خطہ ہے جس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بندے←  مزید پڑھیے

غدار کی واپسی۔۔۔۔(1)مستنصر حسین تارڑ

گئے زمانوں میں دو قسم کی ’’واپسیاں‘‘ بہت مشہور ہوا کرتی تھیں بلکہ المشہور ہوا کرتی تھیں۔ ایک ٹارزن کی واپسی اور دوسری عذرا کی واپسی۔ لون رینجر کے علاوہ ٹارزن ہی پسندیدہ ہیرو ہوا کرتا تھا اور ہم اس←  مزید پڑھیے

مچھلیاں ٹکیلا اور ویواپاکستان۔۔۔۔(1)مستنصر حسین تارڑ

احمد فراز کے محبوب کو تو دن میں تتلیاں ستاتی تھیں اور مجھے آبنائے میکسیکو کے سمندر میں مچھلیاں ستاتی تھیں۔ وہ رنگین اور خوش نظر نہ تھیں۔ سرمئی رنگ کی تھیں اور میرے زیر آب بدن کے گرد تیرتی←  مزید پڑھیے

میکسیکو کا مے خانہ‘کین کُون۔۔۔مستنصر حسین تارڑ/2

ہم جب کبھی آرلینڈو کا رخ کرتے ہیں توبہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دن ہوتے ہیں اور امریکی سال بھر کی کڑی مشقت کے بعد اپنے بال بچوں سمیت گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ کاروں چلتے پھرتے گھروں‘ کاروانوں پر←  مزید پڑھیے

آکٹاویو پاز کی شاعری اور جانب میکسیکو۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ /1

کیا آکٹاویو پاز ایسے شاعر کے لیے کارلوس فونٹس ایسے ناول نگار کے لیے فریدہ کوہلو ایسی خبطی مصور ہ کے لیے، مارلن برانڈو کی فلم ’’ویوا زچال‘‘ کیلیے، ایک سومبریروہیٹ کے لیے، آگ کے ایک بوٹ کے لیے، قدیم←  مزید پڑھیے

’’علامہ اقبال کی’’ قصرِ شرف النسائی‘‘ ایک یادگار نظم‘‘۔۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

آخر جب مغلیہ سلطنت جاتی رہی اور سِکھی زمانہ آیا تو سکھوں نے اس تلوار و قرآن کو اندر سے نکالا۔ کہتے ہیں کہ کئی ہزار روپے کی مالیت کا وہ قرآن اور تلوار تھی‘‘ تو کیا شرف النساء کی←  مزید پڑھیے

عہد جدید کے بہزاد کا”کارخانہ”۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

کیا آپ جانتے ہیں کہ گلہریوں کا مصوری سے گہرا تعلق ہے‘ اگر خدانخواستہ گلہریاں نہ ہوتیں تو ایک مخصوص قسم کی مصوری بھی نہ ہوتی۔ اور مصوری کا لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے گہرا تعلق ہے۔ یوں←  مزید پڑھیے

جناب میاں نواز شریف!ابھی بھی کچھ نہیں گیا۔۔۔۔۔محمد اظہار الحق

نہیں! ایسا نہیں! ہرگز نہیں! جو بزرجمہر اپنی پرانی دوا بیچے جا رہے ہیں خدا کے لیے مریض پر رحم کر دیں! اب تو رحم کر دیں!! ایک ازکار رفتہ تھیوری! یہ کہ نواز شریف کا بیانیہ مضبوط تھا۔ یہ←  مزید پڑھیے

لیڈی برڈ کا کتا جسے ہم نے پھینٹی لگائی۔۔مستنصر حسین تارڑ/حصہ اول

میں جن زمانوں میں انگلستان میں ہوا کرتا تھا اور یقین مانیے ازمنہء قدیم میں ہواکرتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم ابھی حال ہی میں اختتام پذیر ہوئی تھی یعنی کوئی دس بارہ برس پیشتر یہاں تک کہ دوچار برس یہاں←  مزید پڑھیے

ساہنوں نہر والے پُل تے بُلا کے۔۔مستنصر حسین تارڑ

قصہ مختصر سعودی عرب میں جو نظام رائج ہے ‘ظاہر ہے اس کا بنیادی مقصد سعودی خاندان کی بادشاہت کو مستحکم کرنا ہے۔ جس کے لیے وہاں کے شیوخ اور علما کرام جابرسلطان سے پوچھ کر فتویٰ دیتے ہیں ۔←  مزید پڑھیے

انتظار حسین کی یاد ۔۔۔مستنصر حسین تارڑ/حصہ اول

یہ ان بیت چکے زمانوں کی داستان ہے، جب میں نے مذہبِ کاروبار اور عقیدہ معاش ترک کرکے صرف ادب کے صنم خانے کا طواف کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ اگر زندگی کرنی ہے تو قلم کی مزدوری کی جتنی←  مزید پڑھیے

آؤ مدینے چلیں ۔مستنصر حسین تارڑ

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ان دنوں بینکوں کے باہر ’’یہاں حج کی درخواستیں وصول کی جاتی ہیں ‘‘         کہ جو بینر آویزاں ہیں انہیں دیکھ کر میں ایک عجیب اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہوں←  مزید پڑھیے

ہزار داستان ہزارو ں کے قتل کی۔مستنصر حسین تارڑ

پاکستان میں خاص طور پر کوئٹہ میں اگر آپ گورے چٹے ایک منگول  ناک والے  ہزارہ قبیلے سے ہیں تو یوں  جانیے آپ نشانہ پر ہیں  ،آپ کی موت طے ہوچکی ہے اور اگر آج نہیں تو کل آپ ہلاک←  مزید پڑھیے