محمد منیب خان، - ٹیگ

ٹیگور کا کابلی والا اور ہماری حکومتیں۔۔محمد منیب خان

ٹیگور کا کابلی والا اور ہماری حکومتیں۔۔محمد منیب خان/سیاست پالیسی بنانے کا نام ہے اور جمہوری طرزِ  حکمرانی میں پارلیمان وہ جگہ جہاں سیاست سے بنائی گئی پالیسیاں منظور یامسترد ہوتی ہیں۔ پارلیمان میں وہ سارے سیاستدان جمع ہوتے ہیں جنہیں عوام اپنے ووٹ سے منتخب کرتے ہیں←  مزید پڑھیے

حسیبہ قمبرانی کا دکھ جو میں نہ لکھ سکا۔۔محمد منیب خان

ایک سال ادھر کی بات ہو گی یا کچھ مہینے کم زیادہ۔ ٹی وی سکرینوں پہ کانپتے ہاتھوں میں  دو تصویریں  تھامے لرزتے ہونٹوں سےحسیبہ قمبرانی اپنے بھائیوں کی رہائی کی بھیک مانگ رہی تھی۔ میں نے جوں ہی یہ←  مزید پڑھیے

نواز شریف سٹھیا گیا ہے؟۔۔محمد منیب خان

پاکستانی سیاست انٹرٹینمنٹ کے سارے اصولوں پہ پورا اترتی ہے۔ اس میں ن لیگ کی فنکاریاں ہیں، پیپلزپارٹی کی قلابازیاں ہیں،  جمیعت علمائے اسلام کی سخت مزاجیاں ہیں، اور تحریک انصاف کی کارکردگی کی “نشانیاں” ہیں۔ آئے روز سیاسی درجہ←  مزید پڑھیے

واصف علی واصف رح – ایک مقناطیسی شخصیت۔۔محمد منیب خان

جنوری کا مہینہ ہر لحاظ سے واصف صاحب رح کی یاد دلا دیتا ہے۔ البتہ واصف صاحب پہ کوئی تحریر لکھنے کے لیے توانائی جمع کرنے میں شاید برسوں مزید بیت جاتے۔ جنوری ہی وہ مہینہ ہے جس میں واصف←  مزید پڑھیے

یہ کاجل نہیں کالک ہے۔۔محمد منیب خان

قوموں کے عروج کے پیچھے بہت سے محرکات ہوتے ہیں، بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔  قومیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتی ہیں ،کوتاہیوں کو دہرانے سے گریز کرتی ہیں۔ اچھے بُرے تجربات کی روشنی میں قوموں کا اجتماعی←  مزید پڑھیے

جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا۔۔محمد منیب خان

چند سال یا چند دھائیاں قبل شہروں اور دیہاتوں میں تماشا دکھانے والے بکثرت مل جاتے تھے۔ کوئی ریچھ کا تماشا دکھاتا تھا کوئی بندر کا تماشا، کوئی سانپ اور نیولے کی لڑائی دکھاتا تھا اور کہیں میلوں ٹھیلوں میں←  مزید پڑھیے

صرف بد نصیب مجرم پکڑے جاتے ہیں۔۔محمد منیب خان

قدرت نے انسان کو جو بیش بہا نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے ایک بہت ہی قیمتی نعمت “بھولنا” بھی ہے۔ انسان وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے جھمیلوں میں غموں کو بھول جاتا ہے اور غم کی شدت←  مزید پڑھیے

آیا صوفیہ اور آج کا مسلمان۔۔محمد منیب خان

اپنے دین سے لگاؤ ہونا خدا کو ماننے والے ہر انسان کا فطری عمل ہے۔ جبکہ دین پہنچانے والے سے جذباتی لگاؤ اور جذباتی تعلق کاہونا بھی عین قابل فہم اور قدرتی بات ہے۔ دین بنیاد طور پہ خلق کا←  مزید پڑھیے

طارق عزیز دلوں میں زندہ رہیں گے۔۔محمد منیب خان

زندگی کو لمبی تمہید چاہیے۔ نو ماہ کوکھ میں پلتی ہے۔ پھر بچپن میں دمکتی ہے، جوانی میں مہکتی ہے، ادھیڑ عمر میں دہکتی ہے اوربڑھاپے میں سلگتی ہے۔ لیکن موت کے لیے بس ایک تمہید کافی ہے اور وہ←  مزید پڑھیے

جہاز کریش سے کرونا تک۔۔محمد منیب خان

کسی بھی منزل کی طرف جانے کے لیے اپنی منفرد مسافت ہوتی ہے۔ لازمی نہیں کہ منزل، مسافت اور ہمسفر سب کو مقدر  کی کھونٹی سے باندھ کر خود کو  عمل کے نتائج سے مبرا کر لیا جائے۔ کیونکہ اگر←  مزید پڑھیے

میرے مقدس جذبوں کو سیاست کی نظر نہ کیجیے۔۔محمد منیب خان

پچھلے وقتوں میں ہتھیار تیار رکھے جاتے تھے، طبل بجتا تو سورما میدان جنگ میں جمع ہو جاتے، گھمسان کا رن پڑتا۔ فاتح لاشیں سمیٹتے، جیت کا نغمہ گاتے واپس لوٹتے۔ شکست خوردہ لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگ←  مزید پڑھیے

انشائیہ : رات۔۔۔محمد منیب خان

چور، عاشق اور عابد سے زیادہ رات کا قدر دان کون ہوگا؟ یہی وہ لوگ ہیں جو رات میں چھپے خزانے دریافت کرتے ہیں۔ جیسے کوئی کان کن کوئلے میں چھپا ہیرا۔ چور کی منزل کھوٹی، عاشق کا راستہ آسان←  مزید پڑھیے

بیمار معاشرہ۔۔محمد منیب خان

الفاظ کی اہمیت سے کس کو انکار ہو سکتا ہے۔ انسانوں نے صدیوں کے ارتقا سے ابلاغ کا جو موثر ترین ذریعہ اپنایا اور الفاظ کا ہی تھا۔ خیال ذہن میں جنم لیتا ہے اور  الفاظ خیال کو مجسم کر←  مزید پڑھیے

سبق پھر پڑھ مارچ، کا جلسے کا، دھرنے کا۔۔۔محمد منیب خان

مولانا فضل الرحمن نے کل جلسے سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو استعفی دینے کے لیے دو دن کی مہلت دے دی ہے۔ میں کوئی کاہن، نجومی یا ستارہ شناس نہیں کہ بتا سکوں اگر وزیراعظم مستعفی←  مزید پڑھیے

خبر اور افواہ کے درمیان لٹکتی قوم۔۔۔محمد منیب خان

سچ کو غیر معتبر کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی جھوٹے کی زبان سے کہلوا دیا جائے۔ واصف باصفا رح کا قول ہے “سچ وہ ہےجو سچے کی زبان سے نکلے”۔ کوئی سچ کسی ناقابل اعتبار زبان←  مزید پڑھیے

آسیب زدہ ریاست۔۔۔محمد منیب خان

یوں تو فکر کا پیٹ بھرنے کو سوچ کے سارے در واء  ہیں اور نظاروں کا ایک اژدھام ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں ان نظاروں کو دیکھتے ہوئےحیرت سے پھیلتی جا رہی ہیں۔ خیال کے آنگن میں عوام کے مستقبل سے←  مزید پڑھیے