محمد جاوید خان، - ٹیگ

ماسی(خاکہ)۔۔ جاوید خان

ماسی کابڑابیٹاایک حادثے میں جیل چلاگیاتھا۔ وہ ایک بڑی سفید دانوں والی تسبیح پر ختم شریف پڑھا کرتی تھی۔یہ ختم شریف ایک لاکھ کلمہ پاک تھا۔ جسے انھوں نے پورا کرنا تھا۔ماسی کو یقین تھا کہ اس ختم شریف کی برکت سے اِن کابیٹا مشکل سے نکل آئے گا←  مزید پڑھیے

کراچی آرٹس کونسل میں دو دن(دوسرا،آخری حصّہ) ۔۔جاویدخان

اس رعایت میں رضوان صاحب کاپوراپورا کردار تھا۔میں ایک تنہا ئی پسند شخص ہوں۔ورنہ سردار جنت صاحب جو برسوں سے کراچی کے ہوکررہ گئے ہیں۔کراچی ٹریڈ یونین کے کوآرڈی نیٹر ہیں۔میرے لیے رہائش کابندوبست کرچکے تھے۔علاوہ آزادکشمیر ضلع سدھنوتی کے←  مزید پڑھیے

سید فاضل شاہ بخاری ؒ ۔۔جاوید خان

سیّد فاضل حسین شاہ انہی ہدایت شاہ بخاری ؒ کی دوسری اَولاد تھے۔اَگرچہ کوئی بڑی عالمانہ ڈگری ان کے پاس بھی نہ تھی۔قاریات کاکورس کیاہواتھا۔قرآن پاک اچھاپڑھتے تھے۔زبان پر عجمی لہجے کااَثر تھا۔صوفیانہ کلام یہ بھی بہت خوب صورت پڑھتے تھے۔ذکر و واعظ کی مجالس میں ان سے خصوصی کلام پڑھوایا جاتاتھا۔ ←  مزید پڑھیے

میڑو پہائی ۔۔جاویدخان

کبھی پیمائش کرکے نہ دیکھا،اَندازاًساڑھے چار فٹ کاقد،اُس پر بالکل گول، قدرے جھومتا ہوا سر،اُس پر جالی دارسفید ٹوپی،کسی قدر سیاہی مائل چہرہ،اِس پر داڑھی۔جب مَیں نے دیکھا تو وہ آدھی سفید ہو چکی تھی۔ہنستے تو سامنے کے سارے دانت←  مزید پڑھیے

جاوید کاجاوید نامہ۔۔ پروفیسر ذوالفقار احمد ساحر

کسی نے کہا تھا کہ آپ چند گھڑیاں خوشی کی گذارنے کے خواہش مند ہیں تو ایک خوب صورت سہ پہر کو برآمدے میں بیٹھ کر ایک کپ  چائے پی لیں۔اوراگر کئی سال خوش رہنا چاہتے ہیں تو ایک باغ←  مزید پڑھیے

کنکریٹ میں دبتاجارہا اسلام آباد۔۔محمد جاویدخان

پاکستان کادارلحکومت اسلام آباد میرا دُکھتا اور سلگتا ماضی ہے۔میرے والدمرحوم ایک عرصہ تک اسلام آباد میں بسلسلہ روزگار مقیم رہے۔میں نے اسلام آباد کو بچپن،لڑکپن اور پھر جوانی میں باربار دیکھا۔اگرچہ یہ پاکستان کاجدید شہر ہے۔مگر یہ تاریخی شہر←  مزید پڑھیے

سائیں شیرا۔۔ جاویدخان

گھٹیلاجسم،قد پانچ فٹ کچھ اِ نچ, بھرے بھر ے مشقتی ہاتھ،مٹیالارنگ،کھنکتالہجہ اَور اس کے ساتھ بھاری بھرتحکم دار آواز ,یہ تھے سائیں شیرا۔ راولاکوٹ شہر سے ایک سڑک مشرقی سمت کوجاتی ہے۔اِسے ہجیرہ روڈ کہتے ہیں۔اِس سڑک پر آغاز سے←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/11

مارخو روں کی سچی کہانی: ہَوا تیز چل رہی تھی اَور دریا کی موجیں بھی تیز و تند تھیں۔ابراہیم شاہ اور مَیں مسجد کے برآمدے میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے۔ہمارے قدموں تلے آگ جلا دی گئی تھی۔یہ اِس وقت کام←  مزید پڑھیے