عاصم کلیار، - ٹیگ

خالد حسن ؛ایک طلسماتی شخصیت /تحریر:عاصم کلیار

لوگ خالد حسن جیسے با کمال آدمی کو بھولنے لگے ہیں جس کو کرکٹ،انگریزی و اُردو ادب اور موسیقی پر مکمل عبور تھا ۔وہ مادام نورجہاں،فیض صاحب اور قرۃ العین حیدر کے قریبی دوست تھے۔انہوں نے بھٹو صاحب کے ساتھ←  مزید پڑھیے

بیرن نیند نہ آئے۔۔عاصم کلیار

میں کئی  دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ لتا جی سے پہلی بار میں کب آشنا ہوا تھا مجھے کچھ یاد نہیں پڑتا مگر مجھے اس بات کا یقین کی حد تک گماں ہے کہ شعور کی سیڑھی پر پہلا←  مزید پڑھیے

لیے پھرتا ہے قاصد جابجا خط(4)۔۔عاصم کلیار

پتی بھگت بانو آپا لاہور شہر میں”داستان سراۓ”کے نام سے کچھ عرصہ پہلے تک ایک گھر موجود تھا مجھ جیسے تازہ واردانِ بساط ادب ایک زمانے میں اس کے سامنے سے گزرتے ہوۓ کن اکھیوں سے آدھ کھلے گیٹ کے←  مزید پڑھیے

لیے پھرتا ہے قاصد جابجا خط(2)۔۔عاصم کلیار

ہمارے ہاں نجانے کیوں محبت کی داستانوں کو سرگوشیوں میں بیان کرنے کی روایت ہے مگر امرتا پریتم نے احوال دل و عشق کو رسیدی ٹکٹ میں لکھ کر ایک عالم کو اپنا واقف حال کر دیا میں نے جب←  مزید پڑھیے

لیے پھرتا ہے قاصد جابجا خط(1)۔۔عاصم کلیار

ماضی کے نقوش وقت کے آب ِرواں میں مسلسل معدوم ہوۓ جاتے ہیں کچھ عرصے بعد چہرہ و نام بھی ایک ساتھ یاد نہیں رہتے ،مگر لکھے ہوۓ لفظوں کی حرمت و تقدس سے انکار ممکن نہیں، ماضی کی کہانیاں←  مزید پڑھیے

ہاۓ میرا کوٹا۔۔عاصم کلیار

جہاز میں بغیر سامان کے گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر تھے ایک عورت نجانے کن خیالوں میں گم شیشے کے ساتھ والی نشست پر نیلگوں آسمان کو حسرت و یاس سے مسلسل دیکھے جارہی تھی ،جہاز نے پہلے حرکت کی ،پھر رفتار پکڑی اور جیسے ہی طیارہ فضا میں بلند ہوا اس عورت نے سینے کو پیٹتے ہوۓ ایک کرب کے ساتھ کہا۔۔۔ہاۓ میرا کوٹا،←  مزید پڑھیے

واماندگئِ شوق تراشے ہے پناہیں۔۔عاصم کلیار

عمرِ رفتہ کے اوراق پلٹنے کی زندگی نے کبھی مہلت ہی نہیں دی، خود سے ہمکلام ہونے کی کبھی فرصت ملی بھی تو ہمسفروں سے بچھڑ جانے کا خوف،راستہ بھٹکنے کا اندیشہ،بغیر زادِ راہ کے اَن دیکھی منزلوں کے سفر←  مزید پڑھیے