شاعری، - ٹیگ

مزاحمت کریں گے ہم۔۔ آغرؔ ندیم سحر  

مزاحمت کریں گے ہم۔۔ آغرؔ ندیم سحر  /فرحت عباس شاہ سے پہلا تعارف آٹھویں کلاس میں شہباز احمد(کلاس فیلو) کے توسط سے ہوا۔ہم سکول سے چھٹی کے بعد عموماً ”ایوننگ واک“کے لیے کھیتوں کی جانب نکل جاتے‘ دن بھر کی تھکان اُتارنے کا بہترین راستہ شاعری ہوتا‘←  مزید پڑھیے

اردو رباعی کی پہچان محمد نصیر زندہ۔۔۔ وحید ریاست بھٹی

تعارفی تحریر کا آغاز رباعی کی پہچان اور  نمائندہ شاعر جناب محمد نصیر زندہ صاحب کے ایک خوب صورت شعر سے کرتے ہیں کہ جہاں میں کعبہِ نا آفریدہ حرف ہوں میں سخن وران فن آؤ  مرا طواف کرو آج←  مزید پڑھیے

ادب اور معاشرہ۔۔اسلم اعوان

عالمی سیاست میں دہشتگردی کو بطور ٹول استعمال کرنے کی حکمت عملی نے جہاں پورے روئے زمین پہ انسانی رویّوں کو متاثر کیا وہاں اِسی سرگرانی نے ہماری تہذیب و ثقافت،تاریخ و ادب اور معاشرتی شعور پر بھی گہرے اثرات←  مزید پڑھیے

اقبالؔ اور تصوف۔۔اشرف لون

اقبالؔ نہ صرف ایک بڑے شاعر ہیں بلکہ ایک بڑے دانشور بھی ہیں۔ان کا مطالعہ وسیع ہے۔مغربی اور مشرقی علوم پر ان کی گہری نظر ہے اور بقول ڈاکٹر شکیل الرحمٰن ،وہ اُردو کے سب سے پڑھے لکھے شاعر ہیں۔اقبال اپنے ابتدائی دور میں تصوف کے وحدت الوجود نظریہ سے متاثر تھے لیکن اسے کے باوجود وہ کبھی بھی ذوق ِ علم و عمل سے پیچھے نہیں ہٹے۔←  مزید پڑھیے

افغان عورتوں کی مزاحمتی اور رومانوی شاعری۔۔سلمیٰ اعوان

افغانستان میں عورتوں کی شاعری کبھی قابل قبول نہیں رہی ۔اِسے ماننا یا سراہنا یا اسکی حوصلہ افزائی کر نا تو بہت دور کی بات ٹھہری یہ اُن کیلئے شجر ممنوعہ ہی نہیں اسے ایک جرم اور گناہ گردانا جاتا←  مزید پڑھیے

مرزاغالب کی وفات۔۔منصور ندیم

مرزا اسد اللہ بیگ خان، تخلص غالب ، اعزازات نجم الدولہ، دبیر الملک، بہادر نظام جنگ، بلاشبہ اردو زبان کے سب سے بڑے شعراء میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں، اردو زبان کے شعراء میں جہاں میر تقی میر کو←  مزید پڑھیے

خونی لہریں،محبت اور طالبان۔۔سیّد محمد زاہد

خونی لہریں،محبت اور طالبان۔۔سیّد محمد زاہد/رات کی دیوی زلفیں کھولے بے حس پتھروں اور تاحدِنظر بکھرے سنگریزوں کو گود میں سمیٹے سو رہی تھی۔ دور کی پہاڑی چوٹیاں دھندلی دھندلی دکھائی دیتی تھیں۔ دیوی پُرسکون تھی۔ دیوی کا سکون مطلق ہر چیز سے چھو کر پوری کائنات پر سکتہ طاری کیے ہوئے تھا۔←  مزید پڑھیے

میری کتاب ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ سے ایک اقتباس اختر الایمان کے بارے میں ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اختر الایمان تب باندرہ میں کین روڈ پر بینڈ اسٹینڈ بلڈنگ میں رہتے تھے۔ ہم اس بلڈنگ کے نمبر ۵۵ کے اپارٹمنٹ میں پہنچے، تو چڈھا صاحب کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ مجھ سے ہاتھ ملایا، اور جب میں نے←  مزید پڑھیے

دنیا میری ہتھیلی پر۔۔تبصرہ/پروفیسر سخاوت حسین

" دنیا مری ہتھیلی پر" کا تہہ ِ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں ۔اور ظہور چوہان کا ہدیۂ تشکر کہ اُنہوں نے پہلے کی طرح اب بھی یاد رکھا اور اپنی نئی تخلیق سے نوازا←  مزید پڑھیے

میرے پچاس برس کے دوستو۔۔صفیہ حیات

از سر نو محبت کا سوچیں کہ بات زندگی جینے کی ہے بات محبت کی ہے اور محبت میں شرک کیسا جاؤ کسی مزارکی جالی سے دھاگہ باندھو کبوتروں کو دانہ ڈالو پرندوں کو آزاد کرو رشتوں کی گرہیں کھولو←  مزید پڑھیے

“سکوت”کا شاعر “سکوت” کا نہیں ۔۔ششی کمار سنگھ

حسیات کا تنوع 'سکوت' میں واضح نظر آتا ہے۔ زندگی کے بیشتر پہلوؤں کو 'سکوت' میں مجتمع کردیا گیا ہے۔ نام نہاد ترقی کی اندھی دوڑ میں، پوری دنیا فطرت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس نام نہاد ترقی کا خمیازہ جنگلات کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔←  مزید پڑھیے

​قصہ طوطا مَینا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

1-​حیوان ِ ناطق اچھا، ​طوطے ، یہ کہو یہ لوگ اکثر جھوٹ ہی کیوں بولتے ہیں؟ جھوٹ تو بولیں گے ۔۔۔ مولا نے زباں جو دی ہے ان کو دیکھ، مَینا جانور سچےہیں کیونکہ بے زباں ہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2-نسل کش←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/ قسط 4۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

ادب خاص طور پہ سرائیکی ادب میں دلچسپی رکھنے والے احباب کی خدمت میں سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار کی چوتھی قسط دس قدیم و جدید سرائیکی اشعار کے ساتھ بمع اردو ترجمہ حاضر خدمت ہے←  مزید پڑھیے

جدید سائنس اور اُردو شاعری۔۔خنساء سعید

سائنس ایک منطقی طریقہ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہےسائنس میں تجربے یا مشاہدے سے حاصل شدہ معلومات کو عقلی اور منطقی دلائل سے پرکھا اور جمع کیا جاتا←  مزید پڑھیے

غزل۔۔رؤف الحسن

خیال میں صورت ِیار بھی نہیں اور دل کو تیرا انتظار بھی نہیں اک میری نگاہ ہے نگاہِ اداس اک جلوؤں کا تیرے شمار بھی نہیں وہ چاہ ہی نہیں اور ہو بھی تو اب ترے چاہنے پہ مجھے اعتبار←  مزید پڑھیے

نیل احمد کی جنسی شاعری کے حوالے سے چند معروضات۔۔سید عارف مصطفیٰ

میں کثافت کو پھیلانے کا قائل نہیں، نیل احمد کی جس ننگی بوچی شاعری پہ مجھے شدید اعتراض ہے وہ میں یہاں بالضرور شیئر کردیتا تاہم یہ عرض کئے بغیر چارہ نہیں کہ اوج کمال کی ‘خصوصی دریافت’ نیل احمد←  مزید پڑھیے

شاعری کسے کہتے ہیں؟۔۔ادریس آزاد

کافی عرصہ پرانی بات ہے جب میں صوبہ سرحد(موجودہ پختونخوا) کے سرحدی شہر ٹانک میں نانا کے گھر مقیم تھا اور میرے ماموں محمد منیر صاحب جو الحمدللہ بقیدِ حیات ہیں شاعری کا زبردست ذوق رکھتے تھے۔ ’’عاجز‘‘ تخلص کرتے←  مزید پڑھیے

رحمان بابا کا مختصر تعارف۔۔عبدالغفار غفّاری

پشتو شاعری کے حافظ شیرازی کہلائے جانے والے  پٹھانوں کا ہر دل عزیز  اور عظیم صوفی شاعر رحمان بابا کا نام عبدالرحمٰن مہمند تھا۔ آپ 1632 عیسوی بمطابق 1041 ہجری کو پشاور سے جنوب کی طرف پانچ میل  کے فاصلے ←  مزید پڑھیے

گلزار کی ننھی منی نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(ایک) انیس سو ساٹھ ستر کے عرصے میں فرانس میں “پتیت پوئمز” کی ایک تحریک شروع ہوئی، جس میں زیادہ سے زیادہ دس سطروں پر مشتمل ایسی نظمیں پیش کی گئیں، جو نرم رو تھیں، صرف ایک استعارے کی مدد←  مزید پڑھیے

غنی خان :ایک منفرد شاعر۔۔۔فیض اللہ خان

غنی خان کا المیہ یہ تھا کہ  انہیں عوامی نیشنل پارٹی یا پشتون مفکرین اور صحافیوں نے کبھی اردو زبان میں متعارف کرانے کی خاص کوشش نہیں کی ،مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی نئی نسل کا قابل ذکر حصہ←  مزید پڑھیے