سعید چیمہ، - ٹیگ

غامدی کے نام                       ۔۔سعید چیمہ

لاچاری و بے بسی کے دشتِ بے کراں میں سفر جب طول پکڑ جائےتو فطرتاً چشم کسی سہارے کی طرف اٹھتے ہیں، سہارا تو الفاظ کا بھی بہت ہووے ہے اور الفاظ  کے مرجان کو افتخار عارف اگر شعر کی←  مزید پڑھیے

نوحہ کیسے کہوں؟۔۔سعید چیمہ

یادداشت کے توشہ خانہ پر دستک دینے سے دروازہ اگر صحیح سمت میں وا ہو رہا ہے تو شاید رحمان فارس نے کہا تھا کہ جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے خالی جھولی لیے ویران شجر بچتا←  مزید پڑھیے

کوئی قتل کیسے کر سکتا ہے؟۔۔سعید چیمہ

ہماری ذہنی سطحیت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم ان گیارہ افراد کوفرقہ واریت کی آگ میں جھونک  رہے ہیں ، جو رزق کی تلاش میں مٹی کا رزق بن گئے، وہ انسان تھے، وہ اشرف←  مزید پڑھیے

یسریٰ جبین اور ہمارا معاشرہ۔۔سعید چیمہ

انعام رانا ہمارے چیف ایڈیٹر ہیں، ان کے بارے میں پہلا تاثر یہی تھا کہ لاہور میں رہنے والا کوئی بیروزگار ہو گا جو کامیابی سے “مکالمہ” کو چلا رہا ہو گا،  بعد میں حقیقت عیاں ہوئی کہ موصوف تو←  مزید پڑھیے

مولوی صادق سے مکالمہ۔۔سعید چیمہ

مولوی صادق میرے بچپن کا دوست ہے، پانچویں کلاس تک ہم دونوں  ٹاٹ  پر بیٹھ کر اکٹھے ہی گورنمنٹ سکول میں پڑھے، مولوی صادق کا ابا مُلّا صدیق چونکہ گاؤں کی مسجد کا امام تھا ، اس لیے پانچویں کا←  مزید پڑھیے

موت مجھ کو مگر نہیں آتی۔۔سعید چیمہ

میرا نام خدا بخش چدھڑ ہے، میرے بزرگوں نے یہی بتایا تھا کہ میں 1925ء میں ساون بھادوں کے مہینے میں پیدا ہوا، میری تاریخ پیدائش تو ٹھیک طور سے کسی کو یاد نہیں تھی مگر یہ بزرگوں کا خیال←  مزید پڑھیے

کیپٹن عمر کی شہادت اور اپوزیشن۔۔سعید چیمہ

شاہراہِ خیالات پر جا بجا سپیڈ بریکر نمودار ہو گئے ہیں، قلم کو شاہراہ پر چلانے کی تگ و دو میں ہوں مگر رکاوٹوں کے سبب قلم میں روانی نہیں ہے، روانی آتی ہے تو تخیل بٹنے لگتا ہے، خیالات←  مزید پڑھیے

مسافر اور بسکٹ کا اشتہار۔۔سعید چیمہ

مدعا بیان کرنے سے پہلے ایک واقعہ سن لیجیے،ایک آدمی صحرا میں کھو گیا،وہ تین دن تک تندور کے کوئلوں ایسی گرم ریت پر چلتا رہا،سورج کی کرنیں پڑنے پر ریت کے چمکتے ہوئے ذرات پانی کا تالاب نظر آتے←  مزید پڑھیے

لکڑ ہارا اور قبیح حرکت۔۔سعید چیمہ

اس لکڑ ہارے کی روح اب قفسِ جسمانی سے پرواز کر کے عالمِ برزخ پہنچ چکی تھی،ساری زندگی وہ رزقِ حلال کے لیے سر توڑ محنت کرتا رہا، دس بیٹیوں کے باپ اس لکڑ ہارے کی زندگی کا زیادہ تر←  مزید پڑھیے

سرِ عام سزائیں۔۔سعید چیمہ

صبح کی سفیدی رات کی سیاہی کا سینہ چاک کر رہی تھی،آسمان پر ستاروں کی چمک ماند پڑتی جا رہی تھی،درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے سریلے نغموں کی گنگناہٹ کی مشق کر رہے تھے،سڑک پر گزرنے والی گاڑیوں کا شور←  مزید پڑھیے

موٹیویشنل اسپیکرز۔۔سعید چیمہ

ہمارا بھی عجب قصہ ہے،پیاس کے مارے ہلکان ہو رہے ہیں،ہونٹوں پہ پپڑیاں جم چکی ہیں،پانی کی طلب میں مگر ہم نے کنویں کو چھوڑ کر دشت کی طرف رختِ سفر باندھا ہوا ہے اور پھر دشت میں پانی کہاں←  مزید پڑھیے

اور قربانی دیدی گئی۔۔سعید چیمہ

حق کو قبول کرنے میں اِس قدر مستعدی سے کام لیا کہ نبوت کے ابتدائی سالوں میں ہی ایمان لے آئے،حیا کا یہ عالم ہے کہ فرشتے بھی حیا کھاتے ہیں،غزوہ تبوک کے موقع پر اِتنا مال دیا کہ زبانِ←  مزید پڑھیے