ستیہ پال آنند، - ٹیگ

​​​میری نظریہ سازی میں کیا کچھ محرک ثابت ہوا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گذشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں میرے مطالعہ کی رفتار بہت تیز تھی۔ یونیورسٹی میں دو پیریڈ پڑھانے کے بعد میرا معمول دوپہر کو قیلولہ کرنا نہیں تھا، لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھنا تھا۔انہی برسوں میں مَیں نے کروچےؔ←  مزید پڑھیے

​سنسکرت کی “شِشو کتھائیں” (بچوں کی کہانیاں)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بادل کی آنکھوں میں آنسو بادل کی آنکھوں میں جلتے گنتی کے کچھ آنسو ہی تھے ڈھلک گئے تو اس کو راحت کا کچھ کچھ احساس ہوا، پر نیچے دھرتی پر تو جیسے آگ لگ گئی ایک جھڑی سے دھوپ←  مزید پڑھیے

OBITUARY (خود وفاتیہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ نظم میں نے اپنی موت کے بعد لکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سر پھرا ، پاگل تھا وہ اک شخص جس نے دل کے بیت المال سے حاصل شدہ الفاظ کے عمدہ، نمو پرور لہو سے شاعری کی پرورش کی تھی←  مزید پڑھیے

ایک غصیلی نظم/تھوکنا چاہتا ہوں ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مری چشم بینا سے پٹّی تو کھولو مجھے دیکھنے دو یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہاں جنگ کی آگ میں جلتے ملکوں سے بھاگے ہوئے مرد و زن، صد ہزاروں سمندر کی بے رحم لہروں میں غرق ِ اجل ہو←  مزید پڑھیے

نہ”کافی”،نہ”چائے”۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پرانے زمانے میں، (تم ہی بتاؤ) کہاں تھے یہ مشروب دونوں؟ نہ ’’کافی‘‘، نہ چائے۔۔۔ فقط شوربہ، دودھ، یا سُوپ (بد ذایقہ، بکبکا، ترش، کھٹّا) کبھی گھر کے’’ ـلاہن‘‘کا ’’دس نمبری‘‘ تیز ٹھرّا ‘ یہی سب تھیں پینے کی چیزیں←  مزید پڑھیے

قافیہ بندی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

غالب کے۲ اشعار پر ریدکتیو اید ابسردم تکنیک سے استوار کی گئی نظم ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ قافیہ بندی صفحہٗ قرطاس پر بکھرے ہوئے الفاظ نا بینا تھے شاید ڈگمگاتے، گرتے پڑتے کچھ گماں اور کچھ یقیں سے آگے بڑھتے پیچھے←  مزید پڑھیے

اپنی تصویر دیکھ کر روئیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 سوال مسخ شدہ، بد زیب، اُوپرا چہرہ بد وضعی، بد زیبی کی تزئین میں اجبک کل کا حسن مثالی ۔۔۔آ ج کا بد ہیئت، بے ڈھنگا بول آ ئینے، کیا پیری کا یہی ہے چہرہ؟ جواب حجریات سے باہر نکلو،←  مزید پڑھیے

یمین و یسار۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

صد پہلو تو کوئی نہیں ہوتا دنیا میں دو ہی تو پہلو ہیں تیرے،ستیہ پال یا دایاں ہے یا ہے بایاں ایک توازن، خوش وضعی میں نستعلیق دُوجا عدم توازن،کج مج ، ٹیڑھا میڑھا سر مایہ، اور محنت، مالک َ←  مزید پڑھیے

عورت تیرے دکھ لاکھوں ہیں سیریز/​ ہسٹیریا کی ہسٹری۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

وہ نیک لڑ کی تھی صلح کل، پاکباز، بے داغ، بھولی بھالی وہ اپنی معصوم نیک چلنی میں لپٹی، لپٹائی باکرہ اک غریب گھر کی کنواری کنیا ذرا سے اونچے، امیر گھر میں بیاہی آئی تو اپنے شوہر کے لڑ←  مزید پڑھیے

​عالمی شعر و ادب کا ایک سانحہ۔۔ستیہ پال آنند

ایک دن جب عالم ِ ارواح میں بیٹھے ہوئے ایون” کے شاعر ’شیکسپیئر‘ نے یہ پوچھا جارج برنارڈ شاء سے” اے مسخرے ، کیا تو نے غالبؔ کو پڑھا ہے؟ مسکرایا جارج برنرڈ شا ۔۔۔ بولا ہند کے اس شاعر←  مزید پڑھیے

اثر گرمیٔ رفتار۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

خارہااز اثر گرمی رفتار می سوخت منّتے ہرقدم راہ روانست مرا (غالب) شعر کا آزاد ترجمہ کچھ یوں ہے: میری تیز روی کی حدت نے راہ میں بکھرے ہوئے کانٹوں کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ اس لئے اب←  مزید پڑھیے

برص زدہ، بدصورت چہرہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہم فاسق، فاجر ہیں، مولا ہم عاصی، بدکار ہیں، لیکن ہم تیرے بندے ہیں، مالک ناقص، اسفل، خطا کار ہیں نا بکار، آثم، بے تائب لیکن تیرے روپ کے داعی ہم تیرے ہی جنم جات ہیں ولی، سنت ، صوفی←  مزید پڑھیے

اردو زبان کے جدید کلاسک شاعر ستیہ پال آنند۔۔فاروق سرور

ستیہ پال آنند کی خوفناک تصویر آنند جی دکھ کی باتیں نہ کریں پشتو زبان کی خوبصورت لہجے کی شاعرہ حسینہ گل تنہا کاکا خیلہ کی نظم “لچهے والا” رہتا تو یہ شخص یورپ میں ہے ،ہے بهی بوڑها ،←  مزید پڑھیے

دردِ زہ عرف سنامی(ایک لوک کہانی)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ذرا سا پلٹ کر سمندر نے اک آنکھ کھولی کہا خود سے، اب کیا کروں میں، بتاؤ مرے پیٹ میں آگ کا زلزلہ جس کی بنیاد صدیاں ہوئیں ۔۔۔ کچھ دراڑوں میں رکھی گئی تھی نکلنے کو اب کسمسانے لگا←  مزید پڑھیے

ستیہ پال آنند کی نظم،”مجاز مرسل کی حد کہاں ہے” نظم اور اس کا تجزیہ ناصر عباس نیر کے قلم سے (۱۹۰۵)

مجاز مرسل کی حد کہاں ہے ہزاروں، لاکھوں ہی سیڑھیاں ہیں نشیب میں سب سے نچلی سیڑھی پہ میں کھڑا ہوں تھکا ہوا، بے امان، درماندہ، بے سہارا مگر ارادے میں سر بکف، ولولے میں پا مرد، دPھن کا پکا←  مزید پڑھیے

لما تقالون ما لا تفعلون۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اِّن اللہ جمیل و یَحِب ُّ الجَمال جو سوال میرے ذہن میں اکثر اٹھتا  ہے وہ یہ ہے کہ کیا وحدت الوجود اور وحدت الشہود قطبینی مجموعہ الضدین ہیں؟ ’’تذکرہ غوثیہ‘‘ میں وجود اور شہود کے مابین فرق کو اس←  مزید پڑھیے

ستیہ پال آنند کی ایک نظم اور عملی تنقید کے اصولوں پر مبنی اس کا تجزیہ(تیسرا زخم)۔۔ڈاکٹر عائشہ الجدید

نظم باہم ضم ہوتی ہوئی تین movements کے امتزاج سے ترتیب پاتی ہے۔ بہاؤ کی پہلی لہر ڈرامائی انداز میں نظم کے واحد متکلم کے شانوں پر بیٹھے ہوئے دو فرشتوں کا انتباہ ہے جو اسے (یعنی متکلم کو) آگے بڑھنے اور کوئی قدم اُٹھانے سے پہلے سنبھلنے اور عفو و رحمت کے فلسفے کو سمجھنے کی تلقین کر رہے ہیں←  مزید پڑھیے

دولت بہ غلط نبود از سعی پشیماں شو / کافر نہ توانی شد، ناچار مسلماں شو۔۔۔مرزا غالب سے خطاب از ستیہ پال آنند

ستیہ پال آنند: تو کیا ہے؟ مسلماں ہے یا کافر ِ زنـاری؟  کچھ بھی ہے، سمجھ خود کو اک معتقد و مومن  مخدوم و مکرم ہو، ماجد ہو، مقدس ہو ممت اذ و منور ہو، برتر ہو زمانے سے ہاں، دولت ِ لافنی ہے، رتبہ ء شہ بالا←  مزید پڑھیے

اللہ سے التماس۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(ARS MORIENDI ) اللہ سے التماس پھونکی تھی اگر روح تو اتنا کرتے اک سانس سے مجھ میں بھی خدائی بھرتے فَخُتُ فِیُیہِ مِن روحِیُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی جکڑے ہو ئے بانہوں  میں اس کو کان میں سرگوشیاں کرتے ہوئے پھسلائے←  مزید پڑھیے

نظم ِ نو سیریز/اپنی آنکھیں کھول دوں یا بند رکھوں؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

جب بھی آنکھیں کھولتا ہوں جانی پہچانی یہی دنیا نظر آتی ہے مجھ کو جب بھی آنکھیں بند کر کے اپنے اندر جھانکتا ہوں اور ہی دنیا کا نقشہ دیکھتا ہوں کچھ عجب منظر ہے اندر گندگی اک عمر بھر←  مزید پڑھیے