ستیہ پال آنند، - ٹیگ

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

ہے وہی بد مستی ٔ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند عذر خواہی ۔۔۔ حیلہ جوئی۔۔۔ ادعا ۔۔۔ کچھ لیپا پوتی عذر ۔۔۔ ، عذر ِ لنگ←  مزید پڑھیے

فرید الدین عطار سے خوشہ چینی(نور کیا ہے)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نور کیا ہے۔۔ بھاپ سی اٹھتی ہے میرے ذہن کے تحت الثرا سے دھند کا محلول بادل الکحل کی نشہ آور گرم چادر سا مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ کر للکارتا ہے گہری نا بینائی کے عالم میں آنکھوں کے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان ِ گلشن کو ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند جو اک تصویر سی بنتی ہے، قبلہ، وہ فقط یہ ہے ۱) کہ مجبوری کا←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

آمد ِ سیلاب ِ طوفان ِ ِ صدائے آب ہے نقش ِ ِ پا جو کان میں رکھتا ہےانگلی جادہ ہے ستیہ پال آنند بندہ پرور، یہ کرم فرمائیں اس ناچیز پر عندیہ اس شعر کاکیا ہے ، کوئی لب←  مزید پڑھیے

غزل۔ ایک کھوکھلی صنف۔۔۔ستیہ پال آنند

(زوم کی وساطت سے بر پا کیے گئے ایک مباحثے پر  میرا حلفیہ بیان اقبالی) اول تو غزل سے میری بیگانگی کا سبب اُس زمین کا بنجر پن ہے جس میں پہلے ہزاروں بار فصلیں بوئی جا چکی ہیں، کاٹی←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

دل و جگر میں پُر افشاں جو ایک موجہ ء  خوں ہے ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے ستیہ پال آنند حضور، اس شعر کی تصویر یہ بنتی ہے ذہنوں میں کہ متموج ہے اک←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

تغافل دوست ہوں میرا دماغ ِ عجز عالی ہے اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے ستیہ پال آنند حضور، اب کیا کہوں میں آپ کے اس ’’عجز‘‘ کے حق میں کہ ’’فارس‘‘ کی زباں میں آپ←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

آمد ِ خط سے ہو ا ہے سر د جو بازار ِ دوست دود ِ شمع کشتہ تھا شاید خط ِ رخسار ِ دوست ستیہ پال آنند بندہ پرور، آپ سے پوچھوں ، بصد عجز و نیاز کیا نہیں اس←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

کف ِ سیلاب باقی ہے برنگ ِپنبہ روزن میں ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ ستیہ پال آنند یقیناً کچھ سبب تو ہے ،حضور اس گریہ زاری کا کہ یہ مضمون، یعنی خانہ ویرانی پہ جزع فزع کئی اشعار میں ملتی ہے گویا اک حقیقت←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

فنا تعلیمِ درسِ ِ بےخودی ہوں اس زمانے سے کہ مجنوں لام الِف لکھتا تھا دیوار ِ دبستاں پر ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند ’’فنا تعلیم ، درس ِ بے خودی‘‘ کو غور سے دیکھیں توسمجھیں گے کہ یہ پہلی←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

عرض نازِ شوخی ِِدنداں برائے خندہ ہے دعوی ٗ جمعیت ِ احباب جائے خندہ ہے ستیہ پال آ نند یہ اضافت کی توالی؟ اور مطلع میں؟ حضور گویا اس خامی کی غایت پیشگی مطلوب ہو کیا کہیں گے،بندہ پر ور،←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

نہ جانوں کیوں کہ مٹے داغ طعن ِ بد عہدی تجھے کہ آئینہ بھی ورطہ ٗ ملامت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند حضور، مجھ کو تو جو کچھ سمجھ میں آیا ہے اگر کہیں تو میں منجملہ اس کو پیش←  مزید پڑھیے

آئینہ در آئینہ ۔۔ ایک اقتباس(تخلیقی گریہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کیا واقعی تخلیقی عمل درد ِ زہ کی طرح تکلیف دہ ہے؟ سوال : تخلیقی گریہ میں آنکھوں کی خوبصورتی کا بند وبست کیسے کرتے ہیں ؟ آپ کثیر گریہ گزار( بطور شاعر) ہیں ، رونا عادت تو نہیں بن←  مزید پڑھیے

عینی آپا، کچھ یادیں، کچھ باتیں۔۔ستیہ پال آنند

آخری ملاقات ! قرۃ العین حیدر ( عینی آپا) سے آخری ملاقات دہلی میں ہوئی۔ میں پاکستان کے ایک ماہ کے دورے سے لاہور، پنڈی، میر پور، پشاور، سرگودھا، کراچی ہوتاہو ا لوٹا تھا۔ دہلی میں سات دنوں کے لیے←  مزید پڑھیے

سماجی استبداد اور داخلی محسوسات: ستیہ پال آنند کی دو نظمیں۔۔قیصر عباس

ستیہ پال آنند اردو کے صفِ اول کے نظم گو شاعرہیں جو گزشتہ نصف صدی سے مرغزارِ ادب کو لازوال نظموں سے آراستہ کرتے آر ہے ہیں۔ وہ ان چند اردو شاعروں میں سے ایک ہیں جو زود گوئی کے←  مزید پڑھیے

آپ ولی نعمت ہیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میر جملہ ہیں جناب آپ ولی نعمت ہیں اور میں آپ کی پرجا ہوں رعایا ہوں ، فقط باج گذار آپ کے خیل و حشم میں ہوں مرے ان داتا دیکھیے میری طرف ، عالی جاہ (جیسا کہ آپ کا←  مزید پڑھیے

تین نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱) آسمانی ایلچی سے ایک سوال انت ہے کیا؟ سامنے کیا صرف اک اندھا اندھیرا لا مکان و لا زماں ہے؟ کیا ہم اپنے ارتقا کی آخری سیڑھی پہ پاؤں رکھ چکے ہیں؟ کیا یہی کچھ حاصل ِ لا حاصلی←  مزید پڑھیے

ـستیہ پال ٓآنند کی ساٹھ نظمیں۔۔۔ڈاکٹر فاطمہ حسن

“ستیہ پال کی ساٹھ نظمیں “کچھ برس پہلے ڈاکٹر آصف فرخی کے ادارے ( کراچی) سے سے شائع ہوئی تھی۔ یہ نظمیں ڈاکٹر فاطمہ حسن نے منتخب کی تھیں۔اُن کا تحریر کردہ دیباچہ واقعی ایک ایسی اہم تحریر ہے، جسے←  مزید پڑھیے

ساٹھ کی دہائی کی کچھ یادیں۔جدیدیت کی افرا تفری۔۔۔ستیہ پال آنند

۱۹۵۶ کے لگ بھگ میں بھی کچھ برسوں کے لیے جدیدیت کے ریلے میں بہہ گیا تھا ، میں نے بھی ایک نظم لکھی تھی ۔ میں نے جب اسے کناٹ پلاس میں کافی ہاؤس میں پڑھا، تو سریندر پرکاش←  مزید پڑھیے

کرونا وائرس یا قیامت ِ صغریٰ! نوسترا دا موُس کی پیشین گوئی۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کہا تھا اس نےکہ پیدائش و فنا ، دونوں رواں ہیں اپنے مداروں میں آفرینش سے مدار ِ زیست ہے اک دائرے کا قرۃ العین فنا بھی اس کی ہی گردش میں ہے شریک ِ سفر یہ دونوں اپنےمداروں کے←  مزید پڑھیے