ربیعہ سلیم مرزا، - ٹیگ

ڈم ڈم جن۔۔ربیعہ سلیم مرزا

ایک دفعہ کا ذکر ہے، پرستان پر ایک نیک دل بادشاہ کی حکومت تھی۔اس بادشاہ کی چھ بیٹیاں تھیں، اگرچہ اللہ نے اسے بیٹے سے نہیں نوازا تھا، مگر اسے اپنی بیٹیوں سے بے انتہا محبت تھی،اسے اکثر اپنی بیٹیوں←  مزید پڑھیے

وادی نمل۔۔ربیعہ سلیم مرزا

آبادی سے پرے وسیع میدان میں مٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹیلےتھے۔جن میں لاکھوں کی تعداد میں چیونٹیوں نےاپنےبل بنائےتھے۔ان میں ہزاروں چیونٹیوں کی نسلیں آباد تھیں، انکا تعلق ایک کروڑ سینتیس لاکھ سال قبل موجود بھڑ اجداد سے تھا۔ان کی←  مزید پڑھیے

محبت اب نہیں ہوگی۔۔ربیعہ سلیم مرزا

ہاتھوں کی کٹوری بہتے پانی کے نیچے رکھی تو قسمت والی زندگی کی سبھی لکیریں مٹیالی لگنے لگیں ۔ ایسے لگا جیسے پانی چہرہ چھوئے بناپلٹ گیا ہو ۔ بس آنکھیں  ہی تو بھیگی ہیں ۔۔ ہسپتال سے چارسال بعد←  مزید پڑھیے

حاجن کا ساجن۔۔ربیعہ سلیم مرزا

“آنٹی جی، ماما کہہ رہی ہیں تھوڑا سالن دے دیں”۔ باورچی خانے میں رات کے کھانے کی باقیات سمیٹتے کئی بار کی سنی آواز پھر سنائی دی۔میں نے گھوم کر دیکھا تو ساتھ والی حاجن کا بارہ سال کا حسن←  مزید پڑھیے

چلاکو ماسی۔۔ربیعہ سلیم مرزا

ایک صاف ستھرے محلے کی ،کھلی اور ہوا دار گلیوں کے دونوں اطراف مکانات تھے جن کے صحن کو مٹی گارے سے لیپا گیا تھا اور ان میں لکڑی کے ڈربے بھی بنائے گئے تھے۔جن میں زیادہ تر مرغیاں،خرگوش وغیرہ←  مزید پڑھیے

وہ گدھا ہی تھا۔۔ربیعہ سلیم مرزا

پورب کی سمت ایک ہرابھرا جنگل تھا۔یہ جنگل اتنا گہرا تھا کہ مشکل سے سورج کی کرنیں زمین تک پہنچتیں ۔ اسی دھوپ چھاؤں جنگل کے ایک کونے میں سرمئی بابا کی جھونپڑی تھی۔ لمبے بانس کے تنوں اور پتوں←  مزید پڑھیے

جپھی۔۔ربیعہ سلیم مرزا

ہوش آتے ہی قلقاریوں بھری نرماہٹ کا احساس ہوا۔آنکھ کھو لی تو دو نرم، سفید، روئی جیسے ہاتھ میرا چہرہ چھو رہے تھے۔بےساختہ اسکے ننھے ہاتھوں کو پکڑ کر چوم لیا۔ پیارآیا تو دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر گال بھی←  مزید پڑھیے

وائرس۔۔۔ربیعہ سلیم مرزا

سیاست کو گھر سے باہر رہنا چاہیے ،مگرعموماً  سیاست گھروں کے اندر بھی ہوتی رہتی ہے ۔عوامی سیاست سے صرف عوام کی جان جاتی ہے مگر خانگی سیاست ، دل اور جان دونوں کی بَلی لیتی ہے ۔گھر پہ زیاده←  مزید پڑھیے