بھٹو، - ٹیگ

عمران پر بھٹووالا سکرپٹ آزمایا جارہا ہے؟۔۔گل بخشالوی

عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا میں نے صدر پاکستان کو مراسلہ ارسال کردیا ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل کر دیں ، عمران خان کے خطاب کے چند لمحات بعد صدر عارف علوی نے وزیر اعظم کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی برخا ست کر دی ،←  مزید پڑھیے

بھٹو کی پھانسی بنتی تھی؟۔۔حیدر جاوید سیّد

4اپریل ہے بھٹو صاحب (ذوالفقار علی بھٹو) کی پھانسی کا دن۔ معاف کیجئے گا بھٹو کی پھانسی بنتی بھی تھی۔ اس پھانسی کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ 1973ء کا آئین ایک وجہ ہے۔ ایٹمی پروگرام دوسری، روزگار کے ذرائع←  مزید پڑھیے

ریاستی اداروں کی مسلسل بڑھتی پریشانی۔۔نصرت جاوید

عمران خان صاحب اگر خود کو دورِ حاضر کا ذوالفقار علی بھٹو ثابت کرنے کو تلے بیٹھے ہیں تو مجھے اس پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں۔ مجھ جیسے “لفافہ” صحافیوں کو ویسے بھی تاریخ بنانے کو بے چین دلاوروں کے←  مزید پڑھیے

وگرنا دشمنِ ایماں کا رقص جاری ہے ۔۔ گل بخشالوی

وگرنا دشمنِ ایماں کا رقص جاری ہے ۔۔ گل بخشالوی/ وزیراعظم عمران خان کا ٹرمپ کارڈ بھی ”بھٹو“ ہی نکلا۔ ان کی تقریر نے 1977ءکے راجہ بازار کی یاد تازہ کر دی جب بھٹو نے اسی طرح کا ایک خط لہرایا تھا۔ مگر شاید پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کسی اورسرپرائز کے منتظر تھے←  مزید پڑھیے

کربلا سے بچھڑے ہوئے سپاہی۔۔عامر حسینی

بیگم نصرت بھٹو سے بی بی شہید کو کربلا ورثے میں ملی تھی اور جب اس کربلا تک جانے والے امام مظلوم کے لشکر کا بچھڑا سپاہی “ذوالفقار علی ” راولپنڈی کے کوفے میں سولی پہ چڑھا دیا گیا جو←  مزید پڑھیے

زرد صحافت کی بدترین مثال۔۔ گل بخشالوی

اُدھر تم، اِدھر ہم۔ ۔مطلب،نہ میں ،نہ تم۔۔۔ہم دونوں! ممتاز صحافی اور کالم نگار کے ہاتھوں ضبط تحریر میں آنے والی وہ شہ سرخی ہے جو روزنامہ ’آزاد‘کی شہ سرخی تھی جس کا تذکرہ آج بھی چوالیس سال گذرادھر تم۔←  مزید پڑھیے

سقوطِ ڈھاکہ، قراردادِ پولینڈ اور مغالطے۔۔شاداب مرتضیٰ

سقوطِ ڈھاکہ، قراردادِ پولینڈ اور مغالطے۔۔شاداب مرتضیٰ/مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کی تاریخ میں پولینڈ کی قرارداد خاص اہمیت رکھتی ہے جسے 15 دسمبر 1971ء کو اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔ اس قرارداد میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوری جنگ بندی کی تجویز دی گئی تھی←  مزید پڑھیے

اگر مجھے قتل کیا گیا۔۔۔مہر ساجد شاد

یہ ذوالفقار علی بھٹو کی وہ کتاب ہے جو سپریم کورٹ میں ان کی طرف سے دائر کردہ فوجداری اپیل کے مواد سے ترجمہ کر کے چھاپی گئی ہے۔ آج کے دن 4اپریل 1979 کو راولپنڈی میں انہیں پھانسی دی←  مزید پڑھیے

کاش ضیا مر گیا ہوتا۔۔۔سیّد علی نقوی

میں کبھی بھٹو صاحب کو آئیڈلائز نہیں کر سکا اس کی سب سے بڑی وجہ شاید میرا انکی شہادت کے بعد پیدا ہونا سمجھ لیجیے یا کچھ اور۔۔۔ لیکن جب میں بڑا ہو رہا تھا تو اس وقت مرد مومن←  مزید پڑھیے

بھٹو کے مقالات۔۔عبدالغنی محمدی

ذوالفقار علی بھٹو  ملک کے ایسے سیاستدانوں میں سے  تھے  جنہوں نے سیاسی افق پر  انمٹ نقو ش چھوڑے ہیں ۔  ان کے مقالات کو احمد سلیم نے “بھٹو کے مقالات ” کے نام سے جمع کیا ہے ۔  احمد←  مزید پڑھیے

اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم۔۔ہارون الرشید

وہ ایک بہت ہی سرد, اداس اور بوجھل شام تھی اگلے دن یونیورسٹی میں سمیسٹر کے فائنلز شروع ہو رہے تھے یونیورسٹی میں کمبائنڈ سٹڈی کے بعد شام کو گھر پہنچا تو اندھیرا چھا چکا تھا میں نے امی سے←  مزید پڑھیے

میاں نواز شریف کو جمہوریت کی گڑتی کیوں نہیں ہے ؟۔۔۔احسن بودلہ

چند دن پہلے ارشد سلہری صاحب کا ایک مضمون “نواز شریف کو جمہوریت کی گُڑتی نہیں ہے” نظر سے گزرا ۔ ارشد صاحب قابلِ عزت اور سینئر کالم  نگار ہیں۔  اپنے مضمون میں انھوں نے گڑتی کا اسلامی اور کلچرل←  مزید پڑھیے