انڈیا، - ٹیگ

کانگریس کے پاس کیا راستہ بچا ہے؟۔۔ابھے کمار

ان  دنوں کانگریس پارٹی کے لیڈر ان راجستھان کے خوبصورت شہر اُدے پور میں” نو چنتن سنکلپ شیویر” میں حصہ لے رہے ہیں۔ 15 مئی کو شائع ایک خبر کے مطابق، ہندوستان کی سب سے قدیم پارٹی اپنی تنظیم میں←  مزید پڑھیے

کیا یاسین ملک کو پھانسی دے دی جائے گی؟۔۔قمر رحیم خان

5اگست 2019ء کو ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے قبل ہی بھارت نے ریاست کی ڈیمو گرافی تبدہل کرنے اور آزادی کی تحریک کو کچلنے کی مکمل منصوبہ بندی کر لی تھی۔حریت قیادت کو پابند سلاسل←  مزید پڑھیے

بھارتی سپریم کورٹ نے برطانوی دور کا غداری کا قانون معطل کر دیا

آزادی رائےکے خلاف مودی کا اہم ہتھیار سمجھے والے برطانوی دور کے غداری کے قانون کو بھارتی سپریم کورٹ نے معطل کر دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حکومت کی جانب سے نظرثانی تک اس قانون پر عمل درآمد←  مزید پڑھیے

کشمیریوں کی سیاسی یتیمی پر ایک اور مہر (2)۔۔افتخار گیلانی

اسطرح 96یا 97رکنی ایوان میں جموں یا ہندو حلقوں کی نشستیں 49یا 51تک ہونگی۔ بتایا جاتا ہے کہ مہاجرین کی یہ نشتیں پاکستانی زیر انتظام یا آزاد کشمیر کی اسمبلی کی طرح ہونگی، جہاں 12نشستیں مہاجروں کیلئے مخصوص ہیں، جو←  مزید پڑھیے

محبت میں دھوکا، شہری نے عمارت کوآگ لگا دی، 7 افراد ہلاک

محبت میں دھوکا کھانے کے بعد شہری نے رہائشی عمارت کو ہی آگ لگا، جس سے 7 معصوم لوگوں کی جان چلی گئی۔ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں عمارت کو آگ لگانے والے ملزم نے گرفتاری کے←  مزید پڑھیے

بھارت میں تیزی سے بڑھتا اسلامو فوبیا۔۔جاوید عباس رضوی

بھارت میں فرقہ وارانہ سیاست کے سبب اسلاموفوبیا بہت تیزی سے بڑھنے لگا ہے۔ بی جے پی، ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس نے ہر سطح پر مسلمانوں کو دشمن کی شکل میں دکھانا شروع کر دیا ہے۔ عالمی←  مزید پڑھیے

نفرت سے بھرا سوشل میڈیا: عمران، مودی اور ٹرمپ کی سیاست۔۔سیّد ایم زاہد

نفرت کی سیاست کی ایک بہت بڑی خامی یہ بھی ہے کہ نفرت پیدا کرنے والے گروہ آپس میں بھی نفرت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ یہ گروہ اپنے آقا کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب چھوٹے چھوٹے گروہ جیسے تحریک لبیک پاکستان ڈنڈا سوٹا اور بندوقیں اٹھا کر ملکی اداروں کے خلاف سڑکوں پر نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔←  مزید پڑھیے

سادگی اپنی، اوروں کی عیاری بھی دیکھ۔۔قادر خان یوسف زئی

سادگی اپنی، اوروں کی عیاری بھی دیکھ۔۔قادر خان یوسف زئی / پاکستان کو ایسا ہمسایہ ملا ہے کہ اس کی دوستی پر اعتبار نہیں اور دشمنی میں مزہ نہیں۔ اس میں نہ خلوص ہے کہ ایک شریف کا دل موہ لے اور نہ مردانگی کہ ایک ’’بہادر‘‘ سے بے ساختہ داد تحسین لے ۔←  مزید پڑھیے

دامن کو ذرا دیکھ(چوبیس آیاتِ قرآنی کے اخراج کا مطالبہ)۔۔آخری حصّہ ،چہارم/پروفیسر سیّد عاصم علی

اس پورے خطبے میں ظلم کی تعریف، عدل کی تعریف، استحصال کی تعریف، ملکیت و وراثت کی تعریف وغیرہ کہیں نہیں ملتی۔ البتہ تصور قتل کی تبدیلی کے ساتھ شری کرشن ارجن کو کشتری کا فرض یعنی جنگ کرنا یاد←  مزید پڑھیے

دامن کو ذرا دیکھ(چوبیس آیاتِ قرآنی کے اخراج کا مطالبہ)۔۔حصّہ سوم/پروفیسر سیّد عاصم علی

دیانند جی اس فہرست میں اپنے ہم نسل برہمن پُشیہ متر شونگھ( ۱۸۵۔۱۴۹ قبل مسیح) کا نام شامل کرنا شاید جان بوجھ کر بھول گئے جس نےاپنے مالک راجہ برہدت موریہ کو دھوکے سے قتل کر کے اصل ملکی باشندوں←  مزید پڑھیے

سماجی انصاف کاخواب بھی ادھورا۔۔ابھے کمار

دنیا بھر میں ہر سال ۲۰ فروری کے روز عالمی یوم ِسماجی انصاف کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس سال بھی اقوام ِمتحدہ سے لے کر مختلف تنظیموں نے ایک بہتر اور مساوی معاشرہ   تشکیل دینے کے  عہد کودہرایا ہے۔←  مزید پڑھیے

مسئلہ کشمیر اور تلخ حقائق۔۔نذر حافی

مجلسِ مذاکرہ جاری تھی۔ موضوع تھا “خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سَحَر پیدا۔” اس مصرعے کی روشنی میں محقق محمد بشیر دولتی نے مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی۔ اُن کی گفتگو کا مرکزی خیال یہ تھا کہ آج←  مزید پڑھیے

دامن کو ذرا دیکھ(چوبیس آیاتِ قرآنی کے اخراج کا مطالبہ)۔۔حصّہ اوّل/پروفیسر سید عاصم علی(کناڈا)

جو بعض انتہاپسند تنظیموں کے پلیٹ فارم سے   چوبیس قرآنی آیات کے اخراج کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ (اس معاملےنے لکھنؤ کے ایک مشکوک کردار کوابھی حال میں اتنا بے چین کیا کہ اس نے اپنا شیعہ مذہب چھوڑ کر ہندو دھرم اپنا لیا۔ بتوں کی پوجا شروع کر دی۔ اور باستثناء حضرت علی تمام مقدس ہستیوں بشمول رسالتمآب ﷺ کے لیے دشنام گوئی پر اتر آیا←  مزید پڑھیے

العلاقات السعودية الھندية (سعودی ہندوستان تعلقات)۔۔منصور ندیم

سعودی عرب کا ایک معروف  تحقیقی اِدارہ "مرکز برائے تحقیق و علمی ابلاغ" Centre for Research and Knowledge Communication ہے، یہ گاہے گاہے کئی علمی تحقیقات پر کام کرتا ہے←  مزید پڑھیے

میں لبرل نہیں ایک نارمل مسلمان ہوں ۔۔محمد ہاشم خان

اس کالم کو میں نے جو عنوان دیا ہے ابھی اس پر گفتگو نہیں کروں گا۔ فی الحال تو ان اسباب و عوامل پر کچھ اجمالی روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا جو اس عنوان اور اس کالم کا محرک←  مزید پڑھیے

چند غیر محسوس تبدیلیاں۔۔افتخار گیلانی

بعض باتیں ہم غیر محسوس طور پر نظر انداز کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ہمارے معاشرے اور اس معاشرے کی اقدار میں کیا بنیادی تبدیلی آ رہی ہے‘ یہ سب کچھ غیر محسوس انداز میں ہورہا ہے۔ ایک رائے←  مزید پڑھیے

حجاب سے بَیر ہے یا مسلمانوں سے؟ ۔۔ابھے کمار

حجاب کے ایشوز کی آڑ میں مسلم طالبات کو ناخواندگی کے کنوئیں میں دھکیل دیا جائے اور مظلوم اقلیت پر ہی شدت پسند اور خواتین مخالف ہونے کے بیانیہ کو مزید طاقت دی جائے۔ مگر سب سے افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ لبرل اور حقوق نسواں کے پاسبان اس پورےکھیل کو یا تو سمجھ نہیں رہے ہیں←  مزید پڑھیے

نفرت کے پجاری ۔۔علی انوار بنگڑ

‏انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک سے بہت سے فنکار ایسے نکلے ہیں جن کے فن کو سرحدیں بھی نہ روک پائیں، ان فنکاروں کے ہنر نے دونوں دیسوں کے باسیوں کے دل میں جگہ بنائی۔ ہمارے ہزار ہا خراج عقیدت←  مزید پڑھیے

لتا جی۔۔آصف محمود

لتا منگیشکر بھی مر گئیں۔ ہمارے زمانے کی ایک اور نشانی ختم ہو گئی۔ معلوم نہیں کس نے کہا تھا کہ ہم اچانک نہیں مرتے ، ہماری محبتیں ، ہمارے دوست ، ہمارے پیارے ،ہماری یادیں ، یہ دھیرے دھیرے←  مزید پڑھیے

مظلوموں کی فریاد کوئی سُن رہا ہے؟۔۔ابھے کمار

مظلوموں کی فریاد کوئی سُن رہا ہے؟۔۔ابھے کمار/دو سال گزر گئے، مگر حالات نہیں بدلے۔ کچھ دن قبل جے این یو کے سابرمتی ڈھا بےپر ، جنوری کی اسی سرد شام میں، شرجیل امام اور دیگر "سیاسی قیدیو ں" کی رہائی کے لیے ایک بار پھر جلوس نکالا گیا←  مزید پڑھیے