افسانہ - ٹیگ

منٹو ،کشمیر اور یو این او۔۔۔۔جاوید خان

منٹو کشمیری تھا؟نہ بھی ہوتا تو تب کیا ہو جاتا؟۔ وہ لدھیانہ میں پیدا ہوا اور امرتسر میں جوان ہوا۔وہی رومانس کیے،دلی اور ممبئی میں پیسے کمائے،شرابیں پی۔اور امرتسر سے اس طرف واہگہ پار کرکے زندہ دلوں کے شہر،لاہور چلاآیا۔کشمیر←  مزید پڑھیے

سوچ زار،ایک تاثر۔۔۔۔مصنفہ:مریم مجید ڈار/تبصرہ :اظہر مشتاق

بہت سے  مصنف اور قارئین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ  موجودہ صدی کتب بینی اور کتب نویسی کی آخری صدی ہے۔ شاید ان کی رائے اس لئے درست ہو کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی،←  مزید پڑھیے

لوٹا تو میرے پاس آیا۔۔۔محمد افضل حیدر

اس نے گھر سے نکلتے وقت ہمیشہ کی طرح دروازہ زور سے بند کیا اور پتہ نہیں کہاں چلا گیا۔ یہ سب اب اس کا معمول بنتا جا رہا تھا۔۔ وہ گھر میں موجود ہوتا تو خاموش رہتا یا پھر←  مزید پڑھیے

خسارا۔۔۔نادیہ عنبر لودھی

وہ تصویر سوشل میڈیا کے توسط سے اس تک پہنچی تھی ۔۔ ماتھے پر بندیا، گلے میں منگل سوتر ،مانگ میں سندور ،تن پر ساڑھی اور پہلو میں کالا بھجنگ ہندو شوہر ۔۔ وہ حیران رہ گئی ۔ سیما کا←  مزید پڑھیے

دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم۔۔۔سریندر پرکاش

سمندر پھلانگ کر ہم نے جب میدان عبور کیے  تو دیکھا کہ پگڈنڈیاں ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہاڑوں پر پھیل گئیں۔ میں اک ذرا رُکا اور ان پر نظر ڈالی جو بوجھل سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلے←  مزید پڑھیے

اندھیرا چھا رہا ہے آہستہ آہستہ۔۔۔۔کیٹ شوپن /مترجم: مِس افتخار

انسانوں میں میری دلچسپی ختم ہو رہی ہے ، ان کی زندگیوں اور ان کے اعمال کی اہمیت میرے لئے بے معنی ہو رہی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ دس کتابیں پڑھنے سے بہتر ہے ایک انسان←  مزید پڑھیے

نامرد۔۔۔۔۔ حسن کرتار

ہاں بھئ تو سناؤ پھر آج اتنے عرصے بعد میں کیسے یاد آیا یار کاروبار سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ ایک پاؤں ادھر کبھی ایک پاؤں اودھر۔ پر آج میں تمہارے پاس پارٹی کا موڈ بنا کر آیا ہوں۔ کیسی←  مزید پڑھیے

خواجہ خورشید انور کی کہانی۔۔۔۔۔اصغر علی کوثر/قسط3

قیام ِ پاکستان ،برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے ہربرِ فرزانہ حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی عظیم کامیابی اور اس خطے کے دس کروڑ فرزندانِ توحید کی طویل جدو جہد ِ آزادی کا ثمر تھا۔14 اگست 1947 کو←  مزید پڑھیے

امتل۔۔۔۔فوزیہ قریشی/افسانہ

تالیوں کی گونج نے سیمینار کے اختتام کا اعلان کیا تو وہ اپنا بیگ اٹھا کر سُست روی سے قدم بڑھاتی ہوئی ہال کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ دروازے سے چند قدم دوری پر تھی کہ کسی←  مزید پڑھیے

اَنگارے۔۔۔۔علی آریان/افسانہ

مہتاب مناظر کی شادی پسند سے ہوئی تھی، اِس لیے اَکثر اُس کی اپنی بیوی سدرہ سے نوک جھونک چلتی رہتی تھی،   گو بیوی  اُس کی طرح زیادہ پڑھی لکھی تو نہ تھی مگر حسِ مزاح اُس میں کافی←  مزید پڑھیے

ریشم ۔۔۔۔۔ رخشندہ بتول/افسانہ

میں اس کچی نالی والی گندی مندی گلی کے آخری مکان تک پہنچا تو دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ہمیشہ کی طرح بغیر دستک دیے میں اس بوسیدہ پردے کو ہٹا کر اندر داخل ہوگیا۔ وہ سامنے برآمدے میں ہی پرانے←  مزید پڑھیے

من موہن کرمکر کی بیٹی کا دکھ۔۔طارق عالم ابڑو/مترجم سدرۃالمنتہٰی

ٹائم اسکوائر پر رات کے ٹھیک بارہ بجے کا وقت،بئیر بلو لیبل،جانی واکر،ٹکیلا،شیمپیئن،شی واز ریگل شراب اور فرانسیسی پرفیومز کی خوشبوء میں بسا اور پوری طرح رچا ہوا مہکے ہوئے ہیپی نیو ائیر کے ہزاروں نعرے، مئن ہیٹن کی ہائی←  مزید پڑھیے

جانور۔۔۔۔روبینہ نازلی

(اس شخص کا قصہ جس کی شکل مسخ ہو گئی تھی ) بس مناسب رفتار سے کشادہ سڑک پر دوڑی جارہی تھی ۔! کوئی مسافر سو رہا تھا تو کوئی اونگھ رہا تھا ۔! اچانک بس بری طرح لہرائی ۔←  مزید پڑھیے

محبت کی ادُھوری کہانی۔۔۔۔فیصل فارانی

اِک ذرا ہَوا کیا تیز ہوئی ، محبت کی شمع ہی بُجھ گئی۔۔ محبت۔۔۔ جسے مَیں نے زمانوں سے اپنے دل میں یوں چُھپا کر رکھا کہ کبھی تمھاری آنکھوں میں جھانکا تک نہیں کہ کہِیں تم میری آنکھوں میں←  مزید پڑھیے

ہماری شادی۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

ہم کپتان ہوئے تو گھروالوں نے ہماری شادی کی ٹھان لی مگر بڑے بھائیوں نے عجب ظلم ڈھائے کہ ایک نے شادی کا رِسک ہم پہ لینے کے بعداپنی شادی کا فیصلہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور دوسرے نے←  مزید پڑھیے

خاکی ابلیس۔۔۔۔ عبداللہ خان چنگیزی/افسانہ

گندے بدبودار گہرے مٹیالے گٹر کا پانی رواں دواں تھا ہر کوئی اپنا دامن بچاتا ہوا کبھی یہاں کبھی وہاں چھلانگیں لگاتا ہوا جارہا تھا سمجھ نہیں  آتا تھا کہ  شہر کے بلدیاتی نظام کو کس کی نظر لگی تھی←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 1۔۔۔۔فاروق بلوچ

میں نے ابھی اپنا انگریزی میں لکھا تحقیقی آرٹیکل انٹرنیشنل میگزین کی ویب سائٹ پر دیکھا. اچھے خاصی تعداد نے آج میرے مضمون کو اوپن کیا تھا. سوشل میڈیا پہ بھی خاصا چرچہ رہا. کمنٹس میں خاصی گرما گرمی بھی←  مزید پڑھیے

جذبے۔۔۔۔۔ رابعہ احسن

وہ کئی دن سے مجھے فون کررہی تھی اور میں نمبر دیکھ کے فون ہی نہیں اٹھاتی تھی”کوئی کام نہیں ان لوگوں کو سوائے اشتہار بازی کے” مجھے سمجھ نہیں آتی تھی ایسے ہائی پروفائلوں کو مجھ سے کیا کام۔←  مزید پڑھیے

بستی، ایک باب۔ ۔ ۔ انتظار حسین

بندر جانے کس کس بستی سے کس کس جنگل سے چل کر آئے تھے۔ ایک قافلہ، دوسرا قافلہ، قافلہ کے بعد قافلہ۔ ایک منڈیر سے دوسری منڈیر پر، دوسری منڈیر سے تیسری منڈیر پر۔ بھرے آنگنوں میں لپک جھپک اُترتا،←  مزید پڑھیے

حرافہ۔۔۔۔قمر سبزواری/افسانہ

شازیہ ہونقوں کی طرح اپنے خاوند جاوید کا منہ دیکھتی رہ گئی، .حرافہ، سالی بازاری عورت کی بیٹی تیری ماں کی۔۔۔۔۔۔۔۔، میرے ساتھ تمسخر کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ فاحشہ۔ جاوید۔۔۔۔ میں تو۔۔۔۔۔ آپ میری ماں کو۔۔۔۔۔۔ شازیہ کے منہ سے بس←  مزید پڑھیے