IMG-20201030-WA0163

SHOPPING

“عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا تقاضا اور گستاخانہ خاکے”
از قلم: صفیہ ہارون
خالقِ کائنات اللّٰہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب ،خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ خاتم الانبیا، تمام جہانوں کے لیے محبت وہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ اللّٰہ رب العزت نے اپنے محبوب کے لیے ہی اس فانی کائنات کو تخلیق کیا۔ اللّٰہ رب العزت نے اس کائنات کو تخلیق کر کے اپنے محبوب سےاپنی محبت اور نبوت کی کڑی مکمل کر دی۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہمارے ایمان کا لازمی اور بنیادی جزو ہے۔ہر مسلمان کا دل حُبِ نبی ؐسے سرشار ہے۔ حُبِ نبیؐ کے بغیر ہمارے دین کی ، ہمارے ایمان کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ ہمارا ایمان اس وقت کا مل نہیں ہو سکتا جب تک اللّٰہ رب العزت کے پیارے رسول حضرت محمدؐ ہمیں اپنی جان، مال اور اولا د سے زیادہ عزیز نہ ہو جائیں۔حضور نبی کریم ؐ کے امتِ مسلمہ پر جتنے حقوق ہیں، ان میں سے بنیادی حق رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنا ہے۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ؐنے ارشاد فرمایا:
“اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک، اس کے والد اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
(صحیح بخاری)
قیامت تک آنے والا ہر مسلمان اللّٰہ کے پیارے حبیبؐ اور اہلِ بیت کے ہر فرد کی عزت و ناموس کے لیے اپنی جان قربان کرتا رہے گا۔ حُبِ رسول ؐمیں ہر مسلمان اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب جب رسول پاکؐ کی عزت و ناموس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، نبوت ورسالت کے پروانے ہر لمحہ نبی کریم ؐ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے سروں پر کفن باندھے چلے آئے۔ راج پال نے گستاخی کی تو غازی علم الدین شہید نے اس کا فتنہ پرور دماغ کچلنے میں ذرا دیر نہیں کی۔ اس کے بعد بھی کئی ایسے واقعات سامنے آئے جن میں رسول نبی کریمؐ کی عزت و ناموس کے لیے شمعِ رسالت کے کئی پروانے مر مٹے۔حال ہی میں فرانس میں گستاخانہ خاکے بنائے گئے جس کی وجہ سے تمام عالمِ اسلام میں سخت بےچینی اور کرب کی لہر دوڑ گئی۔ ان کی ڈھٹائی، بےحسی اور بےحیائی کا عالم تو دیکھیے کہ ایسے قبیح فعل اور گستاخانہ مواد کی سرکاری سطح پر بھی پذیرائی کی گئی،جس نے مسلمانوں کے دلوں میں غم و غصےکی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ شمعِ رسالت کے کئی پروانے یہ خواہش دل میں لیے ہوئے ہیں کہ کب ان کو موقع ملے اور کب وہ گستاخِ رسولؐ کا سر تن سے جدا کر دیں۔ فرانسیسی صدر جسے خود حلال اور حرام کی تمیز نہیں ہے، وہ سرکاری سطح پر اس قبیح فعل کو پزیرائی فراہم کر رہا ہے۔ اس شیطانی عمل میں وہ اور اس کے حواری شامل ہیں۔ فرانس کے صدر اور اور فرانس کے باشندوں نے غیرتِ مسلمانی کو کھلے عام للکارا ہے۔ ان کے اس قبیح فعل کا بہت جلد ان کو جواب دیا جائے گا۔ ایسا جواب کہ پھر ان کی روح تک کانپ اٹھے گی اور دوبارہ کوئی بھی شخص رسول پاکؐ کی عزت و ناموس کو نشانہ بنانے کی جرات نہیں کر سکے گا۔مسلمانوں کاا یمان ہے کہ اگر ان کے دین یا دین کے داعی کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو ہر مسلمان اس سے اس کی آنکھیں چھین لے گا۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب کسی دوسرےمذہب کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے توہینِ مذہب کا مرتکب ہونے کی حیثیت سے سزا دی جا سکتی ہے۔ فرانس میں اس طرح کے گستاخانہ مواد کو نہ صرف بنایا گیا بلکہ اسے سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوئی۔ایسے میں خاکے بنانے والے اور اس کی سرپرستی کرنے والے اور اس سب کے پس منظر میں کارفرما شیطانی خیالات رکھنے والے تمام مجرموں کو سزا ملنی چاہیے ورنہ فرانس پھر بدترین انجام کے لیے تیار ہو جائے۔ پوچھنا یہ تھا کہ مذہبی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں اب کہاں ہیں ،جو کہیں بھی کوئی واقعہ ہو تو مسلمانوں کو دہشت گرد کا لقب دینے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کرتے، کیا اب وہ مسلمانوں کے پیارے رسول ؐ اور ان کے مذہب کو نشانہ بنائے جانے پر بھی کوئی قدم اٹھائیں گےیا نہیں ؟؟؟ کیاہمیشہ کی طرح اس کا فیصلہ کسی عاشقِ رسولؐ کو ہی کرنا ہو گا؟؟؟ پاکستان میں اور تمام اسلامی ممالک میں یا دنیا کے کسی بھی خطے میں جہاں جہاں نبی کریمؐ سے محبت کرنے والے موجود ہیں، ان سب نے اس واقعے کی بھرپور مذمت کی ہے اور پاکستان نے تمام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن معاملہ صرف یہیں ختم نہیں ہوجاتا۔ صرف مذمت کرنے اور مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے نبی کریمؐ کے حوالے سے جو گستاخانہ خاکے بنائے گئے ہیں، ان کا تدارک نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسلامی ممالک کے سربراہ اور حکومتِ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ فرانس کے اعلیٰ حکام سے بات کر کے ایسے گستاخانہ مواد کو فوری طور پر تلف کرنے کی ہدایت دے ورنہ شمعِ نبوت کا کوئی پروانہ فرانس کے صدر اور گستاخانہ خاکے بنانے والوں کا سر تن سے جدا کرنے میں ایک لمحے کی دیر نہیں کرے گا۔ اب فیصلہ فرانسیسی حکومت اور اس کا ساتھ دینے والے ممالک کو کرنا ہے کہ انہیں نیست و نابود ہونا ہے یا پھر گستاخانہ خاکے جلا کر سرِعام اُمتِ مسلمہ سے معافی مانگنی ہے۔ مذہبی حقوق کی تنظیموں کو اسلامی ممالک کا اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ اس امر پر تمام اسلامی ممالک کو بھی متفق ہو کر فیصلہ سنانا ہو گا تاکہ دوبارہ کوئی ایسی قبیح حرکت نہ کر سکے ۔

SHOPPING

Miss Safia
Miss Safia
صفیہ ہارون: ریسرچ اسکالر، کالم نگار ، کہانی نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *