نگارشات    ( صفحہ نمبر 388 )

آپ پیسے ہی دے دیں ۔۔۔۔ عزیر سالار

کام والی کے لیے بڑا بہترین قسم کا مٹن الگ رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ آج عید کی چھٹیوں کے بعد آئی، اسے دیا تو کہنے لگی کہ اس کے پاس فریج نہیں ہے، پہلے ہی گھر میں گوشت پڑا خراب ہو←  مزید پڑھیے

کانٹ اور انبیا کی تحصیل ِ وحی۔۔۔ ڈاکٹر محمد شہباز منج

کانٹ کی معروف کتاب Religion within the limits of reason aloneکے نام ہی سے ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک مذہب کی وہی صورت قابل قبول ہے، جس میں کوئی چیز عقل سے ماورا نہ ہو۔ اس کا کہنا ہے←  مزید پڑھیے

فکرِ غامدی؛ ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد

علمی حلقوں میں غامدی صاحب کی فکر پر تنقید ایک عرصے سے جاری ہے۔ کسی معاشرے میں بڑی خوش آئند بات ہوتی ہے کہ ان میں کوئی مثبت علمی بحث پیدا ہو اور اسے علمی بنیادوں پر کیا جا رہا←  مزید پڑھیے

بادی تدبر سنت (المیزان)۔۔ پہلی نشت۔۔۔ محمد حسنین اشرف

غامدی صاحب کے کام پر تنقیدات کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے یہ تنقیدات علمی کم اور تہذیب اور شائستگی کے مقام سے گری ہوئی زیادہ ہوتی ہیں۔ کچھ دوست علمی طریق پر بھی یہ کام کرتےہیں لیکن اکثر←  مزید پڑھیے

مڈل ایسٹ کی جیو پالیٹکس۔۔۔۔۔ عامر حسینی

(کامریڈ حسینی کا یہ مضمون خالصتا ایک سیاسی تجزیہ ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اسے فقط سیاسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھیں) “نظریاتی جدال کے پیچھے پیچھے چلتی عملیت پسند سیاست” ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف←  مزید پڑھیے

 رُہانسوں کا راگ باں باں ۔۔۔۔ حافظ صفوان محمد 

کوئی آپ کو اَن فرینڈ یا بلاک کرتا ہے تو یہ اس کا جمہوری حق ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کسی کا اپنے گھر یا اپنے ڈرائنگ روم یا اپنے بیڈ روم میں داخلہ بند کر دیں۔ سماجی←  مزید پڑھیے

ڈی کنسٹرکشن، تصوف اور فاشزم۔۔۔۔۔ عمران شاہد بھنڈر

ستر کی دہائی سے اب تک لاتشکیل کے حوالے سے جو تجزیے سامنے آئے ہیں ، ان کے مطالعے کے بعد لاتشکیل فلسفے کے قاری کے لیے کوئی ایسا معمہ نہیں رہی کہ جس کے مرکزی خیال تک رسائی حاصل←  مزید پڑھیے

ٹین ایج ڈپریشن اور زندگی کا مقصد ۔۔ ۔ محمود فیاض

بخار کی حالت میں، دوائیوں کے زیر اثر ، جب مجھے کچھ نہیں سوچنا چاہیے تھا ،میرا دماغ ہزاروں سوالوں کا چھتا بنا ہوا تھا۔ سوال شہد کی مکھیوں کی طرح میرے سر میں بھن بھن کر رہے تھے۔ ایک←  مزید پڑھیے

دوغلے لوگ—- عمیر اقبال

کہتے ہیں ایک انسان کے تین چہرے ہوتے ہیں ایک جو وہ اپنے گھر والوں کو دکھاتا ہے، دوسرا وہ اپنے دوست احباب کو دکھاتا ہے، تیسرا وہ چہرہ جو وہ کسی کو نہیں دکھاتا اور یہی اس کا اصلی←  مزید پڑھیے

ہم اور ہماری مرعوبیت ۔۔۔۔ شہباز علی رانا

دنیا میں کسی بھی قوم (یا کسی ملک کے شہریوں) کی ذہنی ترقی یا پسماندگی جاننے کے مختلف پیمانے ہیں ۔اگرچہ انہیں ایک اٹل اصول تسلیم نہیں جا سکتا تاہم ان سے اس سماج کی ایک عمومی تصویر ضرور سامنے←  مزید پڑھیے

صبح عید مجھے بد تراز چاک گریباں ہے ۔۔۔ راشد احمد

ہر عہد میں عظیم سمجھے جانے والے روسی ادیب ٹالسٹائی کے ایک ناول کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے کہ تمام سکھی گھرانے ایک جیسے ہوتے ہیں اور ہر دکھی گھرانے کے اپنے غم ہوتے ہیں۔ اس قول کی←  مزید پڑھیے

کٹے ہاتھوں سے بکے ہوے ہاتھوں تک— اسمارا مرتضی

صحافت ایک غیر جانبدار اور معاشرے کی مثبت انداز میں تعمیر نو کا شعبہ ہوتا ہے۔ افسوس، گو سب تو نہیں مگر اکثر، پاکستانی میڈیا اس وقت سیاسی میدان میں بکاو مال ہو کر رہ گیا ہے۔ غریب کی آواز←  مزید پڑھیے

کامریڈ قربان شاہ : وہ سب سے پہلے ایک انقلابی تھے۔۔۔۔عامر حسینی

انجم رضا بھائی کی دیوار گریہ پہ لکھا تھا کہ ان کے ماموں اور ریلوے ورکرز یونین کے رہنماء قربان علی شاہ نہیں رہے اور انہوں نے بتایا کہ لاہور ان کا جنازہ پڑھنے کے لئے وہ مطلوبہ مقام پہ←  مزید پڑھیے

انکار حدیث ۔۔ یہ وہم کہیں تجھ کو گنہگار نہ کر دے ۔۔۔۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

پاکستان میں غالباً غلام احمد پرویز اور ان کے مکتب فکر کے جواب میں حجیت حدیث اور انکار حدیث کی اصطلاحات متعارف ہوئیں اور کئی ایک ثقہ علماء نے بھی استعمال کیں. حیرت کی بات یہ ہے کہ مولانا تقی←  مزید پڑھیے

 اللہ حافظ یا خُداحافِظ؟ ۔۔۔۔۔۔ عامر کاکا زئی 

‎ ﷲ حافظ اور خُدا حافظ کا تعلق مذہب سے ہے یا تہذیب سے ؟ ‎عربوں کے لیے اللہ لفظ نیا نہیں تھا۔ یہ یہودیوں سے آیا تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ عربی نام ‎تھا اس پروردگار کا←  مزید پڑھیے

کبوتر بازوں کی فتوی بازی۔۔۔۔ عظمت نواز

اگلے دن فیسبک پر ایک سٹیٹس لگایا کہ فیسبک ایک دار الافتاء ہے تو اس کے پیچھے گزشتہ ایک سال کا مشاہدہ تھا. چونکہ ہم من حیث القوم بھیڑ چال چلتے ہیں تو اسی کارن ابھی کچھ سال قبل دو←  مزید پڑھیے

فوج مقدس گائے نہیں ، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ محمود فیاض

“اتوار کی صبح پاک فوج کے کیپٹن قاسم اور کیپٹن دانیال کی گاڑی کو تیز رفتاری پرپشاور تا پنڈی جی ٹی روڈ نہال پورہ موٹروے کے قریب روکا گیا جس پر کیپٹن نے گاڑی سے نکل پر اپنی نائن ایم←  مزید پڑھیے

جماعت اسلامی اور رعایت اللہ فاروقی۔۔۔۔ شمس الدین امجد

(محترم شمس الدین امجد ڈائریکٹر سوشل میڈیا، جماعت اسلامی ہیں۔ محترم رعایت اللہ فاروقی کے “مکالمہ” پر چھپنے والے مضمون کے جواب میں انھوں نے ایک طویل مضمون تحریر کیا۔ “مکالمہ” اپنے قارئین کیلیے یہ مضمون پیش کر رہا ہے۔) ←  مزید پڑھیے

 تحریک انصاف کا احسان۔۔۔۔ عارف خٹک

محفل جمی تھی اور تحریک انصاف پہ حملے جاری۔ میں ڈٹ کر جواب دے رہا تھا اور جب اور کچھ نہ ہوا تو گھٹیا پن شروع کر دیا گیا۔ ایک ن لیگی نے ھم پختونخواہ کے غیور پشتونوں کو للکارتے←  مزید پڑھیے

شذرات ہاشمی۔۔۔۔ طفیل ہاشمی

(محترم طفیل ہاشمی معروف اسلامی سکالر اور استاذ الاساتذہ ہیں۔ آپ اکثر فیس بک سٹیٹس میں کچھ ایسا کہہ جاتے ہیں تو طلبا کیلیے باعث رہنمائی ہوتا ہے۔ “مکالمہ” کچھ ایسے ہی موتیوں کو مالا بنا کر پیش کر رہا←  مزید پڑھیے