نگارشات    ( صفحہ نمبر 243 )

سمندر/ناصر خان ناصر

اپنے مدوجزر سے ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہو یا موجوں کے سکوت سے چمکتا ساکن ساگر، ان کے خوبصورت دلفریب مناظر اور چمکیلی پیاسی ریت لیے بیکراں ساحل ہمیشہ میری بے کل آتما کو شانت کر دیتے ہیں۔ میری بے←  مزید پڑھیے

دھرنے کی ایک رات/مہر ساجد شاد

قسمت ہمیں گھماتے ہوئے جی ٹی روڈ، راوی روڈ اور شاہدرہ چوک کے درمیان میٹرو اسٹیشن تک لے آئی۔ یہاں گویا اعلان ہوگیا کہ ساکت ہو جائیے روح تو ملک الموت ہی قبض کریں گے البتہ زندگی کو روکنے کے←  مزید پڑھیے

یورگن ہبرماس: مارکسیت، مابعد جدیدیت اور فرینکفرٹ مکتبہ فکر کا متنازع ادیب ،فلسفی ، نظریہ دان اور نقاد ( حصّہ اوّل )–احمد سہیل

یورگن ہبرماس {Jürgen Habermas} 18 جون 1929کو پرشیا ،جرمنی میں پیدا ہوئے تنقیدی نظریہ اور عملیت پسندی کی روایت میں ایک جرمن فلسفی اور ماہر عمرانیات ہیں۔ یورگن ہبرماس بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے سب سے اہم جرمن فلسفی←  مزید پڑھیے

شیکسپیئر کہتا ہے۔شکور پٹھان

شیکسپئر بے چارہ کسی کو کچھ نہیں کہتا لیکن جس کسی کو اپنی بات میں وزن پیدا کرنا ہوتا ہے وہ اسے شیکسپئر کے سر منڈھ دیتا ہے۔ میرا اپنا یہ حال ہے کہ جب کوئی کہتا ہے کہ “←  مزید پڑھیے

کانٹ کی ایک انٹینامی اور اس کا تجزیہ/زاہد مغل

مشہور فلسفی ایمانیول کانٹ (م 1804 ء) کا ماننا ہے کہ بذریعہ عقل وجود خداوندی اور اس کے خلاف استدلال قائم کرنا درست نہیں، اس لئے کہ عقل جن تفہیمی مقولات (categories) کے ذریعے مابعد الطبعیات پر لنگر ڈالنے کی←  مزید پڑھیے

دکھ سُکھ زندگی کا حصّہ ہیں/بلال احمد

انسانی وجود جتنا قدیم ہے دکھ اور سکھ بھی اتنے ہی قدیم ہیں،انسان اپنی پیدائش سے لے کر موت تک دکھ کے اس تپتے صحرا کو پار کرنے میں لگا رہتا ہے ،ساری زندگی دکھوں کے آگے پُل باندھتے گزار←  مزید پڑھیے

فلسفہ اور فرانسیسی فلسفی ہنری برگساں /خنساء سعید

فلسفہ کیا ہے ؟اس سوال کا جواب یا یوں کہیں کہ اس گتھی کو بہت سارے محقیقن ،ناقدین اور خود فلسفیوں نے بھی سلجھانے کی کوشش کی ہے مگر یہ گتھی جتنی سلجھتی ہے انسان کو اُس سے زیادہ الجھنوں←  مزید پڑھیے

بہترین سرمایہ کاری اور منافع بخش کاروبار/چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

اکثر لوگ بڑھاپے میں یہ شکوہ کرتے ہیں کہ انکی جوان اولاد بہت بدتمیز ہے یا انھیں وقت نہیں دیتے وہ تنہائی کا شکار ہو کر اپنے آخری وقت بہت تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ آج بچوں کا←  مزید پڑھیے

لچکدار دماغ (33) ۔ مصنفہ/وہاراامباکر

جوڈتھ سسمین ایک کھلنڈری لڑکی تھیں۔ گھنٹوں تک غبارہ لے کر سیر کرنا، گڑیوں سے کھیلنا، کہانیاں اور کردار بنانا ۔۔۔ ان کی اپنی تصوراتی دنیا تھی۔ ان کی شادی ایک مختلف ذہن رکھنے والے اپنے ہم جماعت سے ہوئے۔←  مزید پڑھیے

غیر جانبداری ؟/ اظہر سید

ایک لمحہ کیلئے تصور کرتے ہیں مالکان تیزی سے بڑھتی ہوئی نادہندگی دیکھتے ہوئے سچ مچ غیر جانبدار ہو گئے اور نوسر باز کے بوجھ سے نجات حاصل کر لی ،لیکن کیا مالکان کی غیر جانبداری مسلہ کا حل ہے←  مزید پڑھیے

الدرعیہ – البجیری فوڈ اسٹریٹ “حصّہ دوئم”/منصور ندیم

الدرعیہ جہاں سے سعودی عرب کی موجودہ حکومت کے حکمران خاندان ابن سعود کے تیسری ریاست کا آغاز ہوا تھا اور بالآخر جس نے حجاز کی آس پاس کی تمام چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو سمو کر سعودی عرب کے موجود←  مزید پڑھیے

فیفا ورلڈ کپ گانا/شاہین کمال

بائیسواں فیفا ورلڈ کپ اس بار عرب کے ریگ زاروں میں سج رہا ہے۔ جہاں آٹھ مختلف نئے بنے سجے اسٹیڈیم میں، دنیا کے32  ممالک 64 میچ کھیلیں گے اور دنیا 20 نومبر سے18 دسمبر 2022 تک محو تماشا ہوگی۔←  مزید پڑھیے

اگر اللہ نہ چاہے/شاکر ظہیر

میری بیوی کی ایک نو مسلم سہیلی لی لی ( lily ) بھی تھی، جس کا تعلق سانشی ( shanxi ) صوبے سے تھا اور لی لی ( lily ) کے شوہر عبدالرحمٰن کا تعلق  تیونس سے، دونوں بہت ہنس←  مزید پڑھیے

فلم” جوائے لینڈ” دیکھنے کے بعد میرا تجزیہ /محمد ہاشم

مڈل کلاس فیملی کی روایتی جدوجہد کو تھوڑا الگ رنگ دیا گیا ہے جس میں تقریباً  تمام رشتے ایک کمزور اور ٹوٹتے ہوئے جال میں بندھے ہوئے ہیں اور رشتوں کا یہ جال کچھ جھوٹ اور کچھ پردوں کے سہارے←  مزید پڑھیے

لچکدار دماغ (32) ۔ کھسکے ہوئے لوگ/وہاراامباکر

شاید آپ نے کھسکے ہوئے فنکاروں، فلسفیوں اور سائنسدانوں کے بارے میں سنا ہو۔ اور ایسا تاثر غلط نہیں اور یہ صرف فنکاروں یا سائنسدانوں تک محدود نہیں۔ ایسے شعبے جہاں پر لچکدار سوچ کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، وہاں←  مزید پڑھیے

الدرعیہ۔ تاریخی جائزہ “حصّہ اول”/منصؤر ندیم

صرف تین صدیاں پہلے تک آثار کے اعتبار سے سعودی ریاست کی تشکیل کے تینوں مراحل کا دارالحکومت الدرعیہ فقط کھنڈرات کی شکل پیش کرتا تھا، آج کے موجود حکمران آل سعود نے اپنی سعودی ریاست کے تین ادوار تک←  مزید پڑھیے

ہمارا معاشرہ اور ہمارے سٹیریو ٹائپس/فضیلہ جبیں

ذرا دیکھو تو سہی کیسے سرخ جوڑا اور سرخ چوڑیاں پہن کر آئی ہے۔ عمر کا لحاظ ہے ،نہ اپنے بیوہ ہونے کا ۔ اس عمر میں اپنی بیٹی جیسے کپڑے پہنتی ہے۔ لگتا ہے اسے اپنے شوہر کے انتقال←  مزید پڑھیے

لچکدار دماغ (31) ۔ پاسبانِ عقل/وہارا امباکر

“آپ کا منہ بالکل کشمش جیسا لگ رہا ہے”۔ جب میری بیٹی نے یہ بات اپنی دادی جان کو کہی تو وہ انہوں نے اسے معصومانہ فقرہ سمجھ کر مسکرا کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن اس میں ایک باریک خوبصورتی←  مزید پڑھیے

جب خلیل خان فاختہ اُڑایا کرتے تھے /گل بخشالوی

طوائف کے کو ٹھے کے صدر دروازے پر ایک تختی لگائی گئی تھی ، جس پر لکھا تھا ،عزت برائے فروخت ،  مہذب حضرات  کوٹھے پر آنے سے پہلے پاک صاف ہو کر خوشبو لگا کر تشریف لائیں،   اشرفیوں کو←  مزید پڑھیے

نیل کے سات رنگ-قسط4/انجینئر ظفر اقبال وٹو

انہوں نے ہمیں دھکا دے کر ایک ڈبل کیبن ڈالے میں ڈال دیا اور اس کے دروازے لاک کر دیے اور ہمارے موبائل، والٹ اور ڈیجیٹل کیمرے بھی چھین لئے۔ گاڑی سے باہر ہمارے میزبان محکمہ بجلی اور ڈیم کے←  مزید پڑھیے