گوشہ ہند    ( صفحہ نمبر 7 )

صدارتی انتخابات اور ذات پات کی سیاست

صدارتی انتخابات اور ذات پات کی سیاست ڈاکٹر وجے اگروال۔ 1992 ء میں جب صدارتی انتخابات ہونے میں ابھی تقریباً دو سال باقی تھے کہ ملک کے شیڈیول کاسٹ اور ممبران پارلیمنٹ کا ایک وفد صدر جمہوریہ سے ملنے گیا.←  مزید پڑھیے

کشمیر کی لاحاصل سفارتی و علامتی جنگ

کشمیر کی لاحاصل سفارتی و علامتی جنگ ڈاکٹر سلیم خان ۔ امیت شاہ نے ابھی حال میں ممبئی کے اندر اپنے حلیف شیوسینا کو دھمکانے کے انداز میں کہا تھا کہ فردنویس کی حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی←  مزید پڑھیے

اختلاف برائے اختلاف /حفیظ نعمانی

کانگریس کا وزیر اعظم مودی سے یہ مطالبہ ہی غلط تھا کہ اگر وہ سیکولر امیدوار کو صدر بنانے کا فیصلہ کریں تو ہم ان کی حمایت کریں گے اور متفقہ انتخاب ہوجائے گا یہ مقابلہ کوئی بری چیز نہیں←  مزید پڑھیے

تلنگانہ ‘ 2019 انتخابات کیلئے بی جے پی کی تیاریوں میں تیزی

بی جے پی نے سارے تلنگانہ میں اپنی بوتھ لیول کمیٹیوں کی تنظیم جدید اور دوبارہ تشکیل کا عمل پوری شدت اور جارحانہ تیور کے ساتھ شروع کردیا ہے ۔ یہ سب کچھ 2019 کے اسمبلی انتخابات سے بہت قبل←  مزید پڑھیے

صدر جمہوریہ کی تلاش میں وقت کی بربادی/حفیظ نعمانی

24 جولائی کو موجودہ صدر جمہوریہ پرناب مکھرجی کی مدتِ کار ختم ہورہی ہے۔ اب نئے صدر کی تلاش ہمیشہ کی طرح پوری سرگرمی سے ہورہی ہے۔ جب موجودہ صدر اُمیدوار تھے تو حکومت کانگریس کی تھی اور اس کے←  مزید پڑھیے

دارجلنگ میں کیوں تیز ہوئی علیحدہ ریاست کی گونج؟ (رچا جین)

دارجلنگ کی وادیاں آج کل تشدد احتجاج اور بدامنی سے گونج رہی ہیں. بنگالی زبان کو لازمی کئے جانے کے نام پر گورکھا جن مکتی مورچہ نے الگ گورکھا لینڈ ریاست کی مانگ کو ہوا دی ہے. گورکھا کی علیحدہ←  مزید پڑھیے

اگست کنونشن کو مودی یوگی کی پالیسیاں کامیاب بنائیں گی! (حفیظ نعمانی)

اس میں کوئی شک نہیں کہ بہار میں آج بھی سب سے زیادہ مقبول سیاسی لیڈر لالو پرساد یادو ہیں ۔ نتیش کمار نے بیشک ایک صاف ستھری شبیہ بنائی ہے اور بے داغ وزیر اعلیٰ کے طور پر سب←  مزید پڑھیے

مرو کسان، مر وجوان ( نازش ہما قاسمی)

جب 2014کے لوک سبھا الیکشن ہونے والے تھے تو بی جے پی نے بڑے ہی شدومد کے ساتھ یہ نعرہ لگایا تھا کہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ ہوگا۔ جس کے نتیجے میں کانگریس سے عاجز آچکی عوام نے←  مزید پڑھیے

مودی سرکارکے تین سال اور مسلمان(ڈاکٹر عابد الرحمٰن)

مودی راج کو تین سال مکمل ہو گئے ۔ کہا گیا تھا کہ یہ راج بدعنوانی اور بلیک منی کے خلاف ترقی ،گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کاراج ہوگا ۔ پچھلے تین سالوں میں←  مزید پڑھیے

کام نہیں چہرہ: دہلی کے ووٹروں کا نظر انتخاب (عبدالعزیز)

اس بار جس طرح دہلی کے بلدیاتی انتخاب کو اہمیت دی گئی کبھی بھی کسی بھی بلدیاتی انتخاب کو اس قدر اہمیت یا شہرت نہیں دی گئی۔ اس کا ایگزٹ پول بھی اخباروں میں شائع ہوا اور ٹی وی چینلوں←  مزید پڑھیے

یو پی اسمبلی انتخابات میں ایس پی بی ایس پی کی کراری شکست

پٹنہ 7جون(اے یوایس) بہار میں جے ڈی یو اور گانگریس کے ساتھ مہا گٹھ بندھن کر کے بی جے پی کو روکنے میں کامیاب ہوئے آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو ابھی 2019چناؤ سے پہلے اکھلیش یادو اور مایادتی←  مزید پڑھیے

جناح ہاؤس منہدم کردیا جائے؟ : سعید حمید

جناح ہاؤس منہدم کردیا جائے؟ پھر گیٹ وے آف انڈیا اور وی ٹی وغیرہ کیوں نہیں؟ سنگھی ذہنیت ، انتہائی تخریبی ذہنیت ہے ۔توڑ پھوڑ کی ذہنیت ہے ،یہ اپنی تخریبی فطرت کا وقفہ بہ وقفہ اظہار کرتی رہتی ہے←  مزید پڑھیے

اشتعال انگیزی بی جے پی کی پالیسی میں شامل : رشید انصاری

دنیا میں بڑی سی بڑی یا چھوٹی سی چھوٹی سی جماعت یا تنظیم کا کوئی دستور یا منشور ہوتا ہے۔ پارٹی کے عہدیداروں یا اراکین کے حقوق و فرائض اور دائرہ کار تعین ہوتا ہے۔ خاص طور پر کسی جماعت←  مزید پڑھیے

ای وی ایم پر احتجاج نظر انداز نہیں کیا جاسکتا: حفیظ نعمانی

کل کے اخبارمیں برار عزیز سجادنعمانی کا ایک مضمون سب نے پڑھا ہوگا۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے اس مشورہ کہ بابری مسجد رام مندر کا مسئلہ ہندو اور مسلمان عدالت سے باہر بیٹھ کر ہی سلجھالیں←  مزید پڑھیے

مودی کے سپنوں کا اترپردیش:حفیظ نعمانی

ہر قوم کا ایک مزاج ہوتا ہے۔ ہندوستانی قوم وہ ہندو ہوں ، مسلمان ہوں یا سکھ ہوں قانون ضابطوں اور قاعدوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اسی کو صحیح سمجھتے ہیں جو وہ کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ←  مزید پڑھیے

بابری مسجد اور سپریم کورٹ : ڈاکٹر سلیم خان

سبرامنیم سوامی کی درخواست پر سپریم کورٹ کے مشورے سے قطع نظر فی الحال رام مندر کے مسئلہ کی بی جے پی اور وزیراعظم کے نزدیک کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے گزشتہ چار سالوں کے چند واقعات←  مزید پڑھیے

چمکتا بھارت اور یوگی ادتیا ناتھ

میں بھارت کو نظریات اور سوچ کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کروں گا۔ تقسیم کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پذیرائی بھارت کو حاصل تھی۔ اسکی کئی وجوہات تھیں، ان میں سے سب سے بڑی وجہ گاندھی←  مزید پڑھیے

یو پی میں بھاجپا کی کامیابی کتنی حقیقی؟

سوال کرنے والے نے سوال کیا کہ آیا یوپی کے2014ءکے پارلیمانی انتخابات کے نتائج (جس میں بی جے پی نے80میں سے71نشستیں جیتی تھیں یا 2017ءکے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج جس میں بی جے پی نے403میں سے325نشستیں حاصل کی←  مزید پڑھیے

زخم بڑھتا گیا جتنے درماں کئے :ریحان خان

زخم بڑھتا گیا جتنے درماں کئے 2014 کے لوک سبھا الیکشن کے بعد کا منظر نامہ یاد کیجئے۔ کانگریس کی ستائی ہوئی عوام نے جوق در جوق بی جے پی کو ووٹ دیا اور نریندر مودی نے ایک ریکارڈ کامیابی←  مزید پڑھیے

اتر پردیش شاید تبدیلی چاہتا تھا

حفیظ نعمانی 9مارچ کی شام 5بجے کے بعدسے جو اکزٹ پول کا شور شروع ہوا وہ 11مارچ کی دوپہر اس انجام کو پہنچا جہاں تک کوئی بڑے سے بڑا فیاض بھی بی جے پی کی جھولی میں اتنی سیٹیں نہیں←  مزید پڑھیے