ناول

سورج کا ساتواں گھوڑا-دھرم ویر بھارتی(2)۔۔مترجم:عامر صدیقی

متفرقات اس کہانی نے اصل میں ہم لوگوں کو متاثر کیا تھا۔ گرمی کے دن تھے۔ محلے کے جس حصے میں ہم لوگ رہتے ادھر چھتیں بہت تپتی تھیں، اس لئے ہم سب لوگ حکیم جی کے چبوترے پر سویا←  مزید پڑھیے

سورج کا ساتواں گھوڑا-دھرم ویر بھارتی(1)۔۔مترجم:عامر صدیقی

ترتیب پہلی دوپہر۔۔۔۔نمک کی ادائیگی دوسری دوپہر۔۔۔۔گھوڑے کی نال تیسری دوپہر۔۔۔۔عنوان مانک ملّا نے نہیں بتایا چوتھی دوپہر۔۔۔۔مالوا کی یُورانی دیوسینا کی کہانی پانچویں دوپہر۔۔۔۔کالے دستے کا چاقو چھٹی دوپہر۔۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ ساتویں دوپہر۔۔۔۔سورج کا ساتواں گھوڑا **** پہلی دوپہر←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت( 15،آخری قسط)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

گھر آکر اداس مٹرو چٹائی پر پڑ رہا۔ اداس دھوپ پھیل گئی ہے۔ دودھ کے مٹکے ایک طرف پڑے ہیں۔ ان پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ تھکی ہوئی لکھنا کی ماں کو جیسے کوئی ہوش ہی نہیں۔ سچ مچ گھر←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(14)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

سولہ پڑتال کیا ہونی تھی، جو ہوتی۔ کتنی ہی دھاندلیوں کی طرح یہ بھی کسانوں کو ڈرانے دھمکانے کی ایک ذمہ دارانہ اورافسرانہ چال ہی تھی۔ اور پھر گنگا میا کی مایا کہ اس سال پانی ہٹا، تو دو دھارائیں←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(13)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

’’ کیا کہیں بیٹا، گھر میں ایک کرنے دھرنے والی تھی، وہ بھی ۔۔۔‘‘ ’’ وہ تو سن چکا ہو، بابوجی ۔۔۔‘‘ ’’ کیا بتاؤں، مٹرو بیٹا، ایسی لائق تھی وہ کہ اس کی یاد آتی ہے، تو کلیجہ پھٹ←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(11)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

منڈیر پر آگ سلگ رہی ہے، پاس ہی تمباکو اورکھینی رکھی ہوئی ہے۔ جو تمباکو پیتا ہے، وہ چلم بھر رہا ہے۔ جوکھینی کھاتا ہے، وہ خوردنی تمباکو پھٹک رہا ہے۔ تھوڑی دیر تک بوڑھے بوڑھیوں کی کھوںکھوں سے فضا←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(10)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

پھر کیا ہوا کچھ پتہ نہ چلا۔ سرکارکا دربار بہت دور ہے، جاتے جاتے پکار پہنچے گی، ہوتے ہوتے سماعت ہوگی۔ اس وقت تک کیا دِیّر میں کوئی نشان باقی رہ جائے گا؟ اور پھر کچھ ہوگا، تو دیکھا جائے←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(9)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

دس یہ کتنی ناممکن بات تھی، بھابھی جانتی تھی۔ پھر بھی اس بات کو اپنے دل میں پالے جا رہی تھی۔ آخر کیوں؟ آدمی کیلئے جینے کا سہارا اسی طرح ضروری ہے، جیسے ہوا اور پانی۔ کسی کے پاس کوئی←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(8)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

مٹرو کے منہ سے ایک لفظ نہیں پھوٹ رہا تھا۔ وہ تو کچھ اور سوچ کر چلا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ کتنے ہی درد کے سوئے ہوئے تاروں کو چھیڑنے جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ کافی دیربعد←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(7)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

’’ کوئی بات نہیں۔ گنگا میا کی کرپا سے سب اچھا ہی کٹ رہا ہے۔ تم سب خیال رکھنا۔ زمیں داروں کے پنجوں میں کسان نہ پھنسیں، کوششیں کرتے رہنا۔ پھر تو آکر میں دیکھ ہی لوں گا۔ اور بتاؤ←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(5)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

بستی کی ہوا اسے اچھی نہ لگتی، جیسے ہرپل اسکا دم گھٹتا رہتا۔ جنگلی پھول کی طرح بستی میں مرجھایا مرجھایا سا رہتا۔ تمام وقت اس میدان، اس صاف ہوا، اس نرم مٹی، اس مفت دھوپ اور اسکی محبت کیلئے←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(4)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

دو تین سال کے اندر ہی مٹرو کی کٹیا بڑی ہو گئی۔ دودھ کیلئے جمناپاری بھینس اور ایک جوڑی بیل دروازے پر جھومنے لگے۔ مٹرو کا حوصلہ بڑھا۔ اس نے کھیتوں میں پھیلاؤ  اور بھی بڑھا دیا اور اپنے ایک←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(3)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

چار پِتا جی اب سچ مچ بوڑھے ہو گئے۔ دونوں بیٹے کیا ان سے بچھڑ گئے، ان کے دونوں ہاتھ ہی ٹوٹ گئے! دل کے سارے رس کو درد کی آگ نے جلا دیا۔ کوئی جوش و خروش، امید نہیں←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(2)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

اکھاڑے پر دونوں جانب سے ایک ہی وقت میں گوپی اور جوکھو کے دَل پہنچے۔ دونوں دَلوں نے جے جے کی۔ مارُو باجے زور زور سے بجنے لگے۔ ماحول کے ذرے ذرے سے ویر رَس جاری ہو رہا تھا۔ بھیڑ←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(1)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

ایک اس دن صبح گوپی چندکی بیوہ بھابھی گھر سے لاپتہ ہو گئی، تو محلے کے لوگوں نے مل کر یہی فیصلہ کیا کہ یہ بات اپنوں میں ہی دبا دی جائے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ ان←  مزید پڑھیے