شاعری

بنی ٹھنی غزلوں کے جلو میں/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کم مایہ، مسکین، چیتھڑوں میں لپٹی وہ نظم فقط دس بارہ سطروں کی حامل تھی جب آئی غزلوں کی محفل میں تو جیسے جھجک گئی۔ پھر ڈرتی ڈرتی بیٹھ گئی اور دائیں بائیں دُزدیدہ نظروں سے دیکھا سجی دھجی تھیں،←  مزید پڑھیے

اس لمحے کے آگے پیچھے کچھ بھی نہیں/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہے ارتفاق یا اقران یا اخوان الزماں کہ جس میں حاضر و موجود بھی ہیں زنگ آلود رواں دواں کو بھی دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ منقضی ہے، فراموش کردہ، ما معنیٰ اگر یہی ہے ، “رواں”، “حالیہ” اے←  مزید پڑھیے

صوتی محاکات پر استوار ایک شعری تاثر/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مدھم مدھم دھیرے دھیرے صحرا میں سورج کی آڑی ترچھی کرنیں نالاں ، شاکی اپنے ترچھے سایوں کی پسپائی پر اب سبک سبک کر اُلٹے پاؤں چلتے چلتے دور افق میں ڈوب گئی ہیں ایک نئی ہلکی ’ ’ سُر←  مزید پڑھیے

بغیچے کے لئے دل جل رہا ہے/فارسی نظم سے ترجمہ-محمد علی جعفری

بغیچے کے لئے دل جل رہا ہے، چمن کو رو رہی ہوں میں، کسی کو فکرِ گل کیوں ہو؟ وہ مچھلی مر رہی دیکھو، کوئی کیوں مان لے، یہ گلستاں، گھٹ گھٹ کے مرتا ہے، کہ سورج کی تمازت سے←  مزید پڑھیے

اِک “ہری چُگ” کی کتھا/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اِک ہری چُگ وسوسوں میں غرق وہمی شخص تھاوہ سوچتا رہتا تھا، پیدا کیوں ہُوا ہے اور اگر ہو ہی گیا ہے اس پراگندہ زمیں پر ایسے ژولیدہ زماں میں کیوں ہُواہے؟ کیا دساور میں کوئی ابنِ سبیل ایسا علاقہ←  مزید پڑھیے

چاند کے سنگ اِک تارا/ڈاکٹر صابرہ شاہین

چاند کے سنگ اک، تارا ہردم دیکھا ہے چپکے، چپکے رین کتھا، جو کہتا ہے منزل ،منزل دیکھ، کٹھن ہے جیون کی ہر اک گام پہ ، کالا اژدر ، بیٹھا ہے رشتوں کے پھولوں پہ، لوبھ کا بھنورا ہے←  مزید پڑھیے

ملامتی ہوں/ڈاکٹر ستیہ پال

A Short Note​ about the poem MALAMATI …… ملامتی In 1982 while supervising a doctoral student’s work on the poetry of the Puritan period in England, I was so engrossed in the subject that I started my search for self-abnegating←  مزید پڑھیے

آؤ گائیں ذات کا نوحہ/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آؤ  گائیں ذات کا نوحہ دانتوں میں اک تنکا رکھ کر روتے روتے سوگ منائیں آؤ گائیں اشک بہائیں خود کو پُرسا دیں رک رک کر دیتے جائیں سبک سبک کر پھوٹ پھوٹ کر روئیں دھاڑیں مار مار کر ٹھنڈے←  مزید پڑھیے

تاریخ کا اک نا نوشتہ باب ہوں میں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اس جگہ ڈوبا تھا میں۔۔۔ ہاں، تین چوتھائی صدی پہلے یہیں ڈوبا تھا میں آج بھی میں تہہ میں اپنی آنکھیں کھولے ایک ٹک تکتا ہوا اس آسماں کو دیکھتا ہوں جس میں بادل کا کوئی آوارہ ٹکڑا ایک لمحے←  مزید پڑھیے

سیل خواب آشوب۔۔ محمد نصیر زندہ

دیدۂ عصر میں بہتے ہوئے مزدور کے خواب جملہ مقدور گناہوں کی سزا چاہتے ہیں موجہء بحرِ توکل کی جفا چاہتے ہیں خواب ہیں تختِ گماں کا سروسامان شکوہ شوکتِ جاہ و حشم سے آگے ہیں تو کیا طرہء نازشِ←  مزید پڑھیے

ابلیس کون تھا؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 پہلا موحد (فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں سے الگ رہا۔ بولا، مجھے زیبا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں ،جسے تُو نے بجتی مٹی سے بنایا جو سیاہ بودے گارے کی تھی۔ فرمایا تُو جنت←  مزید پڑھیے

سارتھی (رتھ بان)/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ڈھیلی ڈھالی انگلییوں سے اپنے گھوڑوں کی لگامیں تھام کر اک سارتھی ٹھہرا ہوا ہے راستہ بھولا ہوا ہے دھول سے چہرہ اٹا ہے دھوپ کی ناقابلِ برداشت حدت خشک پیاسے ہونٹ آنکھوں میں کھلے سورج مکھی کے پھول (دو←  مزید پڑھیے

آسمانی ایلچی سے ایک مکالمہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

انت ہے کیا اب ہمارا؟ ہم جو ناطق ہیں ، مگر حیواں بھی ہیں ؟ حالِ حاضر سے پسِ ِ فردا، بالاآخر؟ کیا ہم اپنے ارتقا کی آخری سیڑھی پہ پاوں رکھ چکے ہیں؟ کیا یہی کچھ حاصل ِ لاحاصلی←  مزید پڑھیے

خاموشی ۔۔روبینہ فیصل

‎ہر موت پر آپ نوحہ نہیں لکھ سکتے ‎کوئی موت ایسی بھی ہو تی ہے جو آپ کے الفاظ کے، ‎آپ کے جذبات کے احاطے سے باہر نکل جاتی ہے ‎اورآپ خاموشی کے سمندر میں ‎خاموشی سے اُتر جاتے ہیں←  مزید پڑھیے

میں دو جنما۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آج کا دن اور کل جو گزر گیا یہ دونوں  میرے شانوں پر بیٹھے ہیں کل کا دن بائیں کندھے پر جم کر بیٹھا میرے بائیں کان کی نازک لو کو پکڑے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیے جاتا ہے←  مزید پڑھیے

مانند اور بے مانند/ اقلیدس اور الجبراء۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کیسے ہو سکتے ہیں ’بے مانند‘ او ر ’مانند ‘۔۔ایک؟ ایک یعنی ایک جیسے؟ ہاں ۔۔مگر، اک دوسرے کی حدّ و ضد بھی میر و غالب کو ہی دیکھیں ذرا ۔۔۔پرکھیں کہ دونوں میں کہیں ّ”مانند” ہونے یا نہ ہونے←  مزید پڑھیے

ہر دَور کی کربلا۔۔انعام رانا

اک ہی کہانی کہی جا رہی ہے سُنی جا رہی ہے مگر یہ کہانی پرانی نہیں ہے کہانی ہے ایسی کہ ہر دَور کی ہے کردار ایسے کہ ہر دَور میں ہیں کہانی مسلسل بُنی جا رہی ہے، ایک جانب←  مزید پڑھیے

مرثیے،نوحے،قصیدے۔۔سیّدمہدی بخاری

نوحے، قصیدے، منقبتیں، مرثیے، سلام بخشا ہے یہ ادب کو قبیلہ حسین نے  واقعہ کربلا اور امام عالی مقام کی لازوال قربانی نے اردو ادب پر بھی گہرے اثرات ثبت کیے  ہیں ۔ میدانِ  کربلا میں حضرت امام حسین نے←  مزید پڑھیے

گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور تلواروں کی خودکلامی۔۔عدیل رضا عابدی

گھوڑوں کی لگاموں کو ایسے جھٹکا گیا کہ حسین کا گھر خیموں میں مشکیزہ انتظار میں بوسہ بین میں جوانی تابوت میں مسکراہٹ صدمے میں لوریاں سسکیوں میں سہرا برچھی میں بچپنہ یتیمی میں یتیمی ٹکڑوں میں رجز وصیت میں←  مزید پڑھیے

اپنی تصویر دیکھ کر روئیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

سوال مسخ شدہ، بد زیب،اُوپرا چہرہ بد وضعی، بد زیبی کی تزئین میں اجبک کل کا حسن مثالی آ ج کا بد ہیئت، بے ڈھنگا بول آ ئینے، کیا پیری کا یہی ہے چہرہ؟ جواب حجریات سے باہر نکلو، دیکھو←  مزید پڑھیے