سفر نامہ

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/اپنے وقت کا ایک عظیم کلاسیکل شاعر ابونواس مجھ سے ہمکلا م تھا (قسط18)۔۔۔سلمیٰ اعوان

بغداد کی رات کے اِس پہلے پہرجب میں دجلہ کے پانیوں میں ڈوبی روشنیوں کے عکس، کہیں اُن سے بنتے کہکشاں جیسے راستے، کہیں چمکتے دمکتے چھوٹے چھوٹے گولے سے پانیوں میں مستیاں کرتے، کہیں قریبی ہوٹلوں کی روشنیاں ستاروں←  مزید پڑھیے

​گِنی چُنی نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بحر خفیف میں ’’رن آن لائنز‘‘ میں اردو میں پہلا تجربہ مالا دی دامور​ (Paris 1984) آپ کے شہر میں سُنا تھا، بہت پھول ہوتے ہیں، پھولوں کی مانند تازہ مسکان، ادھ کھِلے غنچوں کا تبسم ہے ۔۔۔ چاند راتوں←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/بغداد عہد ساز اور صاحبِ علم و فن ہستیوں سے بھرا پڑا ہے۔ (قسط17)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ان کے جانے کے بعد میں نے فلافل کھایا،کولا پیااور چاہا کہ تھوڑی دیر لیٹ جاؤں۔ تبھی ایک ادھیڑعمر کے انتہائی خوش شکل اور سمارٹ سی شخصیت کو میں نے تین نوجوانوں کے ساتھ اندر آتے دیکھا۔دیوار کی غربی سمت←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/دنیائے اسلام کے ایک عظیم فقیہہ امام ابوحنیفہ سے ملاقات (قسط16)۔۔۔سلمیٰ اعوان

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/دنیائے اسلام کی ایک عظیم فقیہہ امام ابوحنیفہ سے ملاقات/میرا بچپن تضادات کے ماحول میں گزرا تھا۔سارا گھر عجیب چُوں چُوں کا مربّہ ساتھا۔ننہال مسلک کے اعتبار سے پکا پیٹھا وہابیت کا علمبردار،کمبخت مارا منشی عالم اور منشی فاضل کی سان پر چڑھا ہوا،تنگ نظر پر لڑکیوں کی نوعمری میں شادیوں کی بجائے اُن کی اعلیٰ تعلیم کا سرگرم حامی←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/بغداد یونیورسٹی کے اساتذہ سے ملاقات(قسط15)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اسی دوران افلاق کا فون آیا اُس نے کہا تھا۔”تم سیدھے بغداد یونیورسٹی آجاؤ۔“ میں گھونٹ گھونٹ دودھ پیتی باہر منظروں کو دیکھتی تھی۔گاڑی اُسی راستے پر بھاگی جاتی تھی جس پر گزشتہ دنوں سے بار بار گھوم رہی تھی۔اب←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/ہارون الرشید کی زبیدہ سے ملاقات(قسط14)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ہمارے لئیے زبیدہ ہمیشہ سے تاریخ میں نور جہاں کی ٹکر کی رہی۔نور جہاں کی کہانیوں نے اگر مسحور کیا تو ہارون کی چہیتی زبیدہ بھی کِسی سے پیچھے نہیں تھی۔اُس انجینئر کی آنکھوں کی چمک اور لہجے سے چھلکتا←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/میرا بچپن بغداد کی شاہراہوں،گلی کوچوں اور چوکوں میں بکھرا پڑا تھا(قسط13)۔۔۔سلمیٰ اعوان

سچ تو یہ تھا میری آنکھوں میں میرے بچپن کی ساری ہنسی چھلکی تھی۔میرا وجود کسی معصوم بچے کی طرح کلکاریاں مارنے لگ گیا تھا۔مسرت کے بے پایاں احساس سے نہال میں نے اپنے سامنے چوک کو دیکھا تھا۔ اللہ←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/کل یہ صدام کا بغداد تھا آج امریکیوں کی کالونی ہے(قسط12)۔۔۔سلمیٰ اعوان

کچھ نام عجیب سی رومانیت،ایک پرفُسوں سا سحر اور بے نام سی اپنایت کی خوشبو اپنے اندر لئیے ہوئے ہوتے ہیں۔منصور نام بھی کچھ ایسا ہی ہے۔میں توسمجھتی تھی کہ میں ہی اس کے عشق میں مبتلا ہوں۔مگر نہیں جی←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/مستنصریہ یونیورسٹی علمی درسگاہ سے زیادہ سیاسی داؤ پیچوں میں اُلجھی ہوئی ہے۔(قسط11)۔۔۔سلمیٰ اعوان

مستنصریہ میں داخل ہونا گویا ایک عہد میں داخل ہونا تھا۔ عباسی خلفاء نے محل مینار ے بنائے۔ تجارتی منڈیوں اور مرکزوں پر توجہ دی۔ فصیلوں کو کھڑا کیا۔ نظم و نسق کو مضبوط اور امن و امان کی صورت←  مزید پڑھیے