Usama Iqbal Khawaja کی تحاریر
Usama Iqbal Khawaja
Usama Iqbal Khawaja
صحافی بننے کی کوشش میں، بول نیوز کے ساتھ منسلک ہیں۔

ہم کس کے ساتھ عید منائیں؟ مقتولین کے ورثاء کا سوال۔۔اُسامہ اقبال خواجہ

22 مئی کے دن 2 بج کر 35 منٹ پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے کچھ ہی فاصلے پہ قومی ائیر لائن کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ اس کے بعد اس سے بڑا سانحہ اس وقت←  مزید پڑھیے

پانچ فروری کا پہلا خط۔۔اُسامہ اقبال خواجہ

ڈئیر کشمیر آج 5 فروری 2020 تھا، یہ میرا تمہارے بھیجے ہوئے تمام خطوط کے جواب میں پہلا خط ہے۔ میں شرمندہ ہوں کہ اس سے پہلے میں تمہارے کسی خط کا جواب نہیں دے سکا۔ تم نے اپنے خطوط←  مزید پڑھیے

معزز عدلیہ اور گھٹیا الزامات۔۔۔اُسامہ اقبال خواجہ

کچھ دن ہوئے اک شور بپا ہے۔ ساہیوال واقعے کا فیصلہ کیا آیا، سوشل میڈیا کے بد زبانوں کو گویا چھ گز کی ایک اور زبان مل گئی۔ معزز عدلیہ کے بارے میں ایسی گالم گلوچ کہ خدا کی پناہ۔←  مزید پڑھیے

ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد کو امن کا نوبل انعام دئیے جانے پر ایک انصافین کا نوبل کمیٹی کو خط۔۔۔اُسامہ اقبال خواجہ

بخدمت جناب چئیر مین صاحبہ! آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ کچھ دنوں سے یہ خبر گردش کر رہی تھی، کہ رواں برس کے نوبل انعام کا باضابطہ اعلان ہونے والا ہے۔ ویسے تو ہم بخوبی واقف ہیں کہ ان←  مزید پڑھیے

مسند نشیں کتے۔۔اُسامہ اقبال خواجہ

بھلا کتے نے ہی تو کاٹا تھا پھر اتنا شور کس بات کا ہے، ہم نے تھوڑی کہا تھا کہ بچے پیدا کرو۔ نہ تم بچے پیدا کرتے، نہ بچوں کو کتا کاٹتا، نہ ہماری بدنامی ہوتی۔ اب کیا ہم←  مزید پڑھیے

ہم شاپروں کے شاپر، شاپر نشاں ہمارا۔۔۔اسامہ اقبال خواجہ

شاپر ہماری قومی پہچان ہیں، یہ اس بیمار معاشرے میں زندگی کی علامت ہیں۔ زندگی کی حرارت انہی کے دم قدم سے ہے، مایوس چہروں پہ آنے والی مسکراہٹ انہی کی مرہون منت ہے۔ یہ نہ ہوں تو ہمارا معاشرہ←  مزید پڑھیے

ٹھٹھے باز۔۔۔اسامہ اقبال خواجہ

مبارک ہو جناب چاند نظر آگیا, کل سعودیہ کے ساتھ عید ہے۔ ارے بد بخت ! کل روزہ ہے، چاند نظر نہیں آیا تیس روزے ہونے، نہیں انتیس، نہیں تیس۔جناب یہاں تو کہانی سال کے سال رمضان کے چاند، روزے←  مزید پڑھیے

چائے کی پیالی اور تین انقلاب/اسامہ اقبال خواجہ

میں ایک سستا سا انقلابی ہوں۔ میرے گھر کاسترو کی ایک بھی کتاب موجود نہیں، ہاں نیلسن منڈیلا کی ایک کتاب میسر آئی تھی جس کی انگریزی قدرے سہل محسوس ہوئی۔ مگر میرا شکی مزاج مجھے کہیں بھی چین نہیں←  مزید پڑھیے

شکریہ پاکستان، پاکستان شکریہ۔۔۔اسامہ اقبال خواجہ

میٹرو کے دو رویہ پُل کے نیچے کھڑا، وہ سبز کپڑوں میں ملبوس تھا۔ یوم آزادی قریب آ رہا تھا، مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ سبز کے ساتھ اس نے سفید کی بجائے سرخ رنگ کا جوڑ بنا رکھا←  مزید پڑھیے

افغانی اور کشمیری احسان فراموشی مت کریں۔۔۔۔۔اسامہ اقبال خواجہ

دنیا کے مختلف ممالک میں محب وطن شہری کچھ کچھ عرصے بعد دوسرے علاقوں سے آئے مہاجرین کی واپسی کے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا ملک  اسلامی جمہوریہ پاکستان  اسلام کی پہلی سوپر پاور ہونے کے ساتھ ساتھ، اسلام کا←  مزید پڑھیے