ژاں سارتر کی تحاریر
ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

سال 2017 کیسا رہے گا؟

سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ 2017 کے اعداد کا مجموعہ ایک ہے ۔ لہٰذا اس سال کا دورانیہ صرف ایک برس ہی ہوگا کیونکہ زمین سورج کے گرد ایک ہی چکر مکمل کر پائے گی۔ چینی علم←  مزید پڑھیے

متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس (آخری حصہ)

نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت کے متعلق ہندوستان بھر میں پائی جانے بے چینی ، افواہوں اور اس ضمن میں پھیلی سازشی تھیوریوں کو تقویت آزادی کے بعد ہندوستانی حکومت کے اقدامات سے ہی ملی۔ آزادی کے بعد←  مزید پڑھیے

متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس (پانچواں حصہ)

سب سے پہلی عرض تو یہ ہے کہ مضمون کی طوالت کے باعث واقعات کے بیان میں مزید اختصار سے کام لینا ہوگا کیونکہ سبھاش چندر بوس کی ذات اور کردار کا مکمل احاطہ کرنے کے لیے تو کئی کتب←  مزید پڑھیے

متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس (چوتھا حصہ)

سبھاش چندر بوس کو جب انگریزوں نے ان کے گھر میں نظر بند کیا تو انہوں نے انگریز سرکار کی نظروں سے بچ نکلنے کے لیے ایک شاندار منصوبہ بنایا۔ سبھاش جی کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا←  مزید پڑھیے

متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس (تیسرا حصہ)

سبھاش چندر بوس کی "رئیل پولیٹیکس" نے انہیں بلاشبہ ہندوستان کے صف اول کے رہنماؤں میں لا کھڑا کیا تھا اور کانگریس کے اندر دائیں بازو کے حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی تھی۔ کانگریس کے ارکان خصوصاً نوجوان کارکنوں←  مزید پڑھیے

متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس (دوسرا حصہ)

جنگ آزادی کے بے لوث مجاہد بھگت سنگھ شہید کو 23 مارچ 1931 کو لاہور میں پھانسی دی گئی تو اس کے خلاف ملک کے طول و عرض میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی احتجاج کے بعد جواہر لال←  مزید پڑھیے

متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس

برصغیر کی مذہبی تاریخ ان سطور کا موضوع نہیں تاہم پس منظر سے واقفیت کے لیے معمولی سا حوالہ پیش کرتے ہوئے عرض کہ ہے برصغیر کی مٹی میں یہ خصوصیت رہی ہے کہ اس نے متعدد مذاہب اور اور←  مزید پڑھیے

یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

پاکستانی قوم کو 69 برس سے جاری اقتدار کے کھیل کی نئی قسط مبارک ہو۔ اگر غور کیا جائے تو یہ شاید دنیا کا طویل ترین سوپ سیریل کہلائے گا۔ جو کچھ اس وقت پنجاب اور خیبر پختون خوا کی←  مزید پڑھیے

سیاسی دنگل

شاید پہلے بھی رہا ہو لیکن کم از کم میرے تجربے میں ہرگز نہیں آیا کہ محض اپنی بات یا نقطہ نظر سے مخالف رائے رکھنے پر آپ کو کسی مخصوص لیبل سے نواز دیا جائے۔ یہ بدعت میرے محدود←  مزید پڑھیے