سلمان امین کی تحاریر
سلمان امین
سلمان امین
اقبال و فیض کا ہمسایہ ہونے کے ناطے ہلکا پھلکا ادب سے لگاؤ رکھتا ہوں۔

وقت اور ہم۔۔۔سلمان امین/اختصاریہ

احمد اور میں ایک دن لاہور شاہی قلعہ دیکھنے گئے ۔  جسے  دیکھ کر  دل  اداس ہوگیا۔۔ قلعے کے درودیوار اک بربادی کا سماء لیے بیٹھے تھے۔ میں اور احمد بھی اک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ  گئے ۔←  مزید پڑھیے

دنیا اور اُس کی حقیقتیں۔۔۔۔سلمان امیر

بشیر میرے سامنے بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ یار بشیر کیا سوچ رہے ہو ،سوچنا کیا ہے صاحب جی آپ نے سنا تو ہوگا کہ  نواز شریف کی ذوجہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ فوت ہو گئی ہیں اللہ ان کو←  مزید پڑھیے

کونسا پاکستان !نیا پرانا؟۔۔۔۔۔سلمان امین

ہر انسان خواب دیکھتا ہے اپنے لئے اپنے خاندان کے لئے اپنے وطن عزیز کے لئے۔ آج کل ایک نعرہ ہر پاکستانی کی زبان پہ ہے “نیا پاکستان” ہر کوئی یہ خواب سجائے بیٹھا ہے کی اب نیا پاکستان بننے←  مزید پڑھیے

ہم لوگ ہیں کچھ عجیب سے۔ سلمان امین

میں اپنے اس معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے مفروضات ،نظریات کو بیان کرناچاہوں گا ۔ہمارے معاشرے میں موجود درمیانے درجے(Middle Lever) کے اور نچلے درجے (Third Level)کے جو اپنی اس ناقص حالت کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں←  مزید پڑھیے