محمد علی کی تحاریر
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

جو تیری خاطر تڑپے، پہلے سے ہی،کیا اسے تڑپانا۔۔۔ محمد علی جعفری

آج ایک اور سیاسی رہنما پرلوک سدھارے، شہادت کے رتبہ علیا پر فائز ہوئے، قربانی رنگ لائی، خون سے انقلاب آئے گا، قوم کو نیا ولولہ ملے گا۔۔۔۔۔۔۔اور سب سے پہلے خبر پہچانے والوں کو مسالہ۔۔۔۔۔۔برا سودا تو نہیں ہے؟←  مزید پڑھیے

موذی آزمودہ کی فرمائشی آزمائش۔۔۔۔محمد علی

مَنْ جَرَّبَ الْمُجَرَّبَ حَلَّت لَہُ النَّدامَۃُ آزمائے ہوئے کو آزمانا،پچھتاوے میں اضافہ!! یہ قول مسلمانوں کے یکے از خلفاء راشدین، حضرت علی بن ابی طالب کا ہے، سمپل اور سادہ ہے، سوچنے کے لیے کوئی راکٹ سائنس سلمہ درکار نشتہ،←  مزید پڑھیے

چوکیدار۔۔۔۔۔ محمد علی/افسانہ

”چلو امجد جلدی سے گاڑی نکالو، آیان بابا کھیلتے میں چھت سے گر گئے”، آصف نے کہا “ارے ایسے کیسے گر گیا ناہنجار،الو کا پٹھا، دو لگاؤں سالے کے!!!” امجد اس گھر کا مالی، اردلی،ڈرایئور، چوکیدار سب تھا۔ بلا کا←  مزید پڑھیے

پان اور جوش ملیح آبادی۔۔۔۔محمد علی

 تم پان پان کہہ کے میرا پان لے گئے۔۔۔۔ ہوایہ کہ اک بڑی آسامی کے لئے حضرت جوش ملیح آبادی مد ظلہ العالی کو تشویق دلائی گئی اور منت سماجت کرنے کے بعد اس کے لیے امتحان گاہ پہنچے، وہ←  مزید پڑھیے

سابقہ۔۔محمد علی جعفری

ہمارے وقت نے ہم کو شکست بھی دے دی، وہ ماہ و سال جو میراثِ مشترک تھے کبھی، وہ اب مقدمہِ تقسیم کا اثاثہ ہیں، مگرفراق و وصل میں تو کچھ عجیب نہیں، عجب نہیں  کہ مجھے تیری زلف کا←  مزید پڑھیے

کھلا خط بنام چیف جسٹس برائے اصلاح ِ تعلیمِ قانون۔۔۔محمد علی جعفری

عرضداشت برائے اصلاحات در تعلیمِ قانون بشرفِ نگاہ، عزت ماب جسٹس ،میاں ثاقب نثار مدظلہ العالی، قاضی القضا(چیف جسٹس)اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسلام آباد، پاکستان۔ جنابِ عالی! بندہ متوسط طبقے(مڈل کلاس گھرانے) سے تعلق رکھتا ہے اورمحنت کش خاندان کا فرد←  مزید پڑھیے

ہبوط (عسکری)آدم۔ بیاد سانحہ سن 71 و اَن گِنت سانحات/محمد علی(نظم)

پاسبانی ہی کارِ نگہبان ہے آج پھر سے وہی سر پھری بات ہے۔ آج ہی تم، یہ کہتے پھرے تھے، بہت سال پہلے قریباً  دہائی کی آخر کلی کھل چکی ہے، وہاں تو جنابوں کی خود اعتمادی کی کیا بات←  مزید پڑھیے

مائی لارڈ

پانامہ کیس جیسا سنگِ میل،جسے بلاشبہ مایاناز وکیل جناب نعیم بخاری نے سپریم کورٹ میں بحسن وِ خوبی عبور کیا اور وزیرِ اعظم نوازشریف نا اہل قرار پائے، 2007 میں آپ نے عدالتِ عظمی میں جب بد انتظامی محسوس کی←  مزید پڑھیے

رودادِسفر:بندۂ بے بدل اور قتیلِ عدل۔۔۔۔ایڈووکیٹ محمد علی /قسط 4