محمداظہار الحق کی تحاریر

اگا بگا۔۔۔محمد اظہار الحق

ایک شخص کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی اسے زہر دینا چاہتی ہے،وہ فوراً اپنے مرشد کے پاس گیا اور مدد کی درخواست کی۔مرشد نے اگلے ہفتے آنے کا کہا۔ایک ہفتے بعد وہ حاضر ہوا۔مرشد نے فرمایا کہ میں←  مزید پڑھیے

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب۔۔محمد اظہار الحق

میلبورن کے ایک پر رونق بازار برگنڈی سٹریٹ کی ایک دکان سے جنوبی ایشیا کا سودا سلف مل جاتا ہے۔یوں تو آسٹریلیا کے تمام بڑے شہروں میں پاکستانی،بھارتی اور بنگالی بساچی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں مگر کوشش سب خریداروں کی←  مزید پڑھیے

کیا پنجاب صرف ایک شہر کا نام ہے؟۔۔محمد اظہار الحق

ضلع اٹک میں داخل ہونے کے چھ بڑے راستے ہیں۔ پہلا ٹیکسلااور حسن آباد کے ذریعے۔دوسرا راولپنڈی سے ترنول کے ذریعے۔تیسرا کے پی سے آتے ہوئے دریائے سندھ پار کرکے۔چوتھا کوہاٹ سے آتے ہوئے خوشحال گڑھ کے ذریعے(یاد رہے کہ←  مزید پڑھیے

لڑ رہا ہوں رسا قبیلہ وار۔۔محمد اظہار الحق

یہ تاشقند تھا اور میں اس کے چغتائی محلہ میں گھوم رہا تھا ریستو رانوں سے شش لیک (تکّوں) کی مہکار آ رہی تھی۔صدیوں سے یہ محلے،یہ بازار، یہ میوہ جات کی منڈیاں یوں ہی بیچنے والوں اور خریدنے والوں←  مزید پڑھیے

ہم ہیں یہاں سے جا رہے ،جانے کہاں ہیں جارہے۔۔محمد اظہار الحق

ایک زمانہ تھا کہ سرمہ مقویء بصر ہمارے ہاں ہر بس میں بکتا تھا ،لگتا تھا ساری دنیا سے نصف بصارت کے مریض ہمارے ملک میں آتے ہیں ۔پاکستانیوں کی نظرِ تب کمزور نہیں تھی۔ اس خاص نسل کے سُرمے←  مزید پڑھیے

ڈرتے ڈرتے چپکے چپکے یہ بھی سن لیجیے۔۔محمد اظہار الحق

اس کا رنگ کالا ہے۔سفید فام دنیا میں کہیں بھی چھپ نہیں سکتا۔ پھر مالک نے اپنی شناخت کے لیے اس کے ماتھے  پر،رخساروں پر،اور ناک پر ،لوہے کی گرم سلاخوں سے خصوصی نشان بھی بنا رکھے ہیں ۔ بھاگنے←  مزید پڑھیے

کیا اس شہر کو یونیورسٹیوں کی ضرورت نہیں رہی؟۔۔محمد اظہار الحق

بھارت کا ایک ٹیلی ویژن چینل دہلی کے مسلمان تاجروں کے انٹر ویو نشر کررہا تھا ۔یوں لگ رہا تھا جیسے اس مارکیٹ میں زیادہ تر مسلمان ہی کاروبار کررہے تھے۔ایک مسلمان نوجوان درد مندی سے اپنے خیالات کا اظہار←  مزید پڑھیے

کیا عدلیہ اور آرمی چیف سن رہے ہیں؟۔۔محمد اظہارالحق

سال کے آخری دن ہم نے مٹی گوندھی۔چاک پر رکھی اور امیدیں بنائیں۔صبح اٹھ کر دیکھا تو ساری امیدیں ٹوٹ چکی تھیں ۔ ہمارے ساتھ عشروں سے یہی ہورہا ہے۔ ہر سال کے ڈوبتے دن ہم امیدیں بناتے ہیں ۔←  مزید پڑھیے

وائرس جس نے ہر پاکستانی کو بے چین کررکھا ہے۔۔محمد اظہار الحق

ٹریفک رینگ رہی تھی ۔آگے جاکر بالکل رُک گئی۔اس نے باس کی معیت میں ایک میٹنگ کے لیے جانا تھا۔باس کو فون کیا اور صورتحال بتانے  کے بعد معذرت کی۔باس نے تسلی دی کہ ایسا ہوجاتا ہے۔کوئی بات نہیں !←  مزید پڑھیے

نواز شریف کا نظریاتی تعلق کس کے ساتھ ہے؟۔۔محمد اظہار الحق

دل اور دماغ باہم بر سرِ پیکار ہیں ۔ دل کہتا ہے میاں نواز شریف اقتدار  کی دُھن میں ملک  دشمنی  کی  حد تک نہیں جاسکتے!دماغ کے پاس ثبوت ہیں ۔ حوالے ہیں  ۔شہادتیں ہیں ۔ گواہیاں ہیں ! دل←  مزید پڑھیے

راجہ بھوج اورگنگو تیلی۔۔محمد اظہار الحق

کیا قدیم زمانے کے انسان بہت لمبے قد کا تھا؟ اس کا جواب سائنس دان یا محققین یا اینتھروپالوجی کے ماہرین ہی دےسکتے ہیں۔ہاں سب کی طرح ہم نے بھی سنا ہے کہ ہمارے مقابلے میں اس زمانے کے قد←  مزید پڑھیے

ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔محمد اظہار الحق

ہسپتال والے جواب دے دیں  حکیم ‘ہومیو پیتھک سب آزما لیے جائیں ‘ جھاڑ پھونک کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے؟ کیا کِیا جاسکتا ہے؟اسی لیے تو صدیوں پہلے بتا دیا گیا تھا۔ “ہر گز نہیں ! جب پہنچ جائے گلے←  مزید پڑھیے

باغ میں پھرتے ہیں کیا خوش خوش چکور۔محمد اظہار الحق

الیگزینڈر برنس سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوا  ۔سولہ سال کی عمر میں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں  بھرتی ہوگیا۔ ذہانت خداداد تھی۔جلد ہی اردو اور فارسی میں مہارت حاصل  کرلی۔ 1822 میں کمپنی نے اسے سُورت میں  ترجمان←  مزید پڑھیے

اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار۔محمد اظہار الحق

کیا یہ ممکن ہے کہ  ہم مذہب کو سیاست سے نکال کر اپنی زندگیوں میں لے آئیں ؟ اس وقت مذہب ‘جسے ہم دین بھی کہتے ہیں  ‘ہماری زندگیوں سے کوسوں دور ہے’یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہماری زندگیاں←  مزید پڑھیے

میری وفات۔۔محمد اظہار الحق

سرما کی ایک یخ زدہ  ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات  ہوئی۔ اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح  ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی ۔ڈاکٹر نے دوائیں  تبدیل کیں  مگر خلافِ معمول خاموش رہا۔مجھ سے کوئی←  مزید پڑھیے

ہوائی اڈے سے کھیل کے میدان تک۔۔محمد اظہار الحق

1960ء کی دہائی کا وسط تھا۔ایوب خان کی بادشاہی عروج پر تھی ۔ دارالحکومت زیرِ تعمیر تھا۔ابھی وفاقی وزارتیں اور محکمے زیادہ تر راولپنڈی کی آغوش میں تھے ۔ حکومت نے  ایک رواج سا بنا لیا تھا کہ جب بھی←  مزید پڑھیے

این او سی۔۔ محمد اظہار الحق

نکاح شروع ہونے تک سب ٹھیک تھا۔دلہا کا   اور برات کا  گرم جوشی سے استقبال کیا گیا ۔پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں  ۔ نغمے گائے گئے ‘شادیانے بجائے گئے۔ساس نے ہونے والے داماد کی بلائیں لیں ۔ برات←  مزید پڑھیے

2025ء۔۔محمد اظہار الحق

صبح صبح گاؤں سے مہمان آگئے۔ان لوگوں نے پاسپورٹ بنوانا تھا ۔دیہاتی پس منظر رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ آبائی گاؤں سے آنے والے دھڑلے اور ٹھسے سے آتے ہیں ۔ ہفتوں رہتے ہیں ،کھاتے پیتے ہیں اور کام←  مزید پڑھیے

دو دنیائیں جو کہیں نہیں ملتیں۔محمد اظہار الحق

تیرہ سال سے انگلستان میں رہ رہا ہوں جہاں بارہ برس سے ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کررہا ہوں  ۔اپنے کنبے کے ساتھ ہر سال پاکستان جاتا ہوں پاکستان میں ہر بار ریاستی اداروں میں پہلے سے زیادہ تنزل صرف←  مزید پڑھیے

ہم بے کسوں کی ہڈیاں!لیکن یہ جان لو۔محمد اظہار الحق

کہنے کو یہ ایک تصویر ہے مگر محض تصویر نہیں’جام جمشید ہے جس میں بہت کچھ نظر آرہا ہے۔پیش گوئی ہے جس میں  مستقبل جھلک رہا ہے۔آنے والے ماہ و سال کا آئینہ ہے جس میں ہمارا معاشرتی “ارتقاء” صاف←  مزید پڑھیے