اقبال دیوان کی تحاریر

مونٹی اور مینو ماں۔۔۔محمد اقبال دیوان

ہمارے نوید میاں المعروف بہ مونٹی کو دیکھیں تو پنجاب کے ضلع جھنگ کی تحصیل اٹھارہ ہزاری کی اُس مٹیار کی آہ ء محبوبیت سمجھ میں آجاتی ہے کہ اچا لمبا گھبرو تے اکھ مستانی۔۔پتر کسی ماں دا، تے میرا←  مزید پڑھیے

ہاتھی پر سوار ہوکر جگنو پکڑنا(چیانگ مائی تھائی لینڈ میں گزارے ہوئے ایام وارفتگی)۔۔۔محمد اقبال دیوان

پچھلے دنوں ہم تھائی لینڈ کے جنوبی حصے چیانگ مائی میں تھے۔ ان کا جنوبی حصہ ہمارے نارتھ جیسا پہاڑی ہے مگر ایسا بدحال،جھگڑالو اورمیلا نہیں۔مری والوں کی طرح ان کے مقامی دکاندار سیاحوں کو ڈنڈے سے ان کی گھر←  مزید پڑھیے

نکی ہیلی،پٹیل اور یونٹ انچارج۔۔۔محمد اقبال دیوان

آپ نے باجی نکی ہیلی کو دیکھا ہے۔ارے وہی دونوں لڑکوں چرن، متی اور باجی سمرن کی بہن نمرتا رندھاوا۔گھر میں سب سے چھوٹی ہے اسے لیے یہ سکھ گھرانہ ’اسے ’نکی‘ آکھ دا (پکارتا) ہے۔امریکنوں کو بھی یہی نام←  مزید پڑھیے

پھر یہ سود ا، گراں نہ ہوجائے۔۔۔محمد اقبال دیوان

(مین ہٹن۔نیویارک کے چھوٹے موٹے تاجر) سیدنا نظام الدین اولیاؒ کے ملفوظات کا مجموعہ فوائد الفواد (یعنی قلوب کا فائدہ) ان کے مرید خاص علاالدین سنجری نے مرتب کیا ہے۔ راہ ء سلوک کا مسافر اگر طلب صادق رکھتا ہو←  مزید پڑھیے

بہت بولتی ہو رضیہ۔۔محمد اقبال دیوان

جس رضیہ کا ذکر ہے وہ امریکہ میں رہتی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب تک غنڈوں میں نہیں پھنسی۔وہ جن غنڈوں سے نمٹتی ہے ان میں سی پیک سے زیادہ گھاگ چینی،مغرور کورین اور امیر مینائی کی←  مزید پڑھیے

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط12

ہندوستان کے راجپوتوں میں میاں کی موت پر بیوی کے جل مرنے کو بہت وقار عصمت اور خاندانی برتری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسے ستی کہا جاتا تھا بعض مرتبہ تو یوں ہوتا کہ جب کوئی علاقہ فتح ہوجاتا←  مزید پڑھیے

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط11

سول سروس کے جن مقامی افسران نے سب سے پہلے مقابلے کے  ان امتحانات میں کامیابی حاصل کی وہ سب کے سب بنگالی تھے جن میں سب سے پہلے تو ستیندر ناتھ ٹیگور تھے جو رابندر ناتھ ٹیگور کے چھوٹے←  مزید پڑھیے

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط10

آئیے آپ کو گھسیٹ کر پھر سے کراچی لیے چلتے ہیں۔ یہ جو آپ دوران مطالعہ راہ بھول جاتے ہیں تو اس میں قصور ہمارا ہے۔ آپ کا نہیں۔ پاکستان کی ناہنجار بیوروکریسی کا ہے۔ہماری میز پر بہت دنوں تک←  مزید پڑھیے

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط9

انگریز جو ہمیشہ سے حکمرانی براستہ تقسیم در تقسیم کا قائل تھا اس نے ان باغی گھرانوں کو بھی تنہا نہ چھوڑا اور یہ چند خاندان جو آغا خان کی مخالفت میں پیش پیش تھے انہیں Check and Balance کے←  مزید پڑھیے

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط8

انگریز، سندھ اور سول سروس کی بات نہ کریں تو کراچی کا ذکر بہت حد تک نامکمل ہی رہے گا ،یوں بھی یہ ہماری   کچی پکی کاوش کون سی آرنلڈ ٹوائن بی اور ابن خلدون کی تاریخ پرکتابیں ہیں←  مزید پڑھیے

اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

جناح اسی جھیں ڑا کا Anglicized Version ہے۔گجراتی بوڑھے اس پر بھی صرار کرتے تھے کہ پونجا بھی ان کے والد کا نام نہ تھا۔یہ اصل لفظ پونجیا تھا بلکہ یہ بھی کام کے حوالے سے لقب تھا یعنی خزانچی←  مزید پڑھیے

اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط6

سندھ کے اکثر قوم پرست بشمول شدید مہاجر دشمن سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے حیدرآباد کے کمشنر مسرور حسن خان سی ایس پی سے شدید نفرت کرتے تھے۔ جھرک جو ٹھٹھہ کا علاقہ ہے وہ قیام پاکستان تک←  مزید پڑھیے

اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان۔قسط5

کراچی کے پرانے باشندے! اس نکتے کے او پر ذرا غور فرمائیں کہ کراچی کے انیسویں صدی کے وسط یعنی 1838 میں یہاں باہر سے آن کے آباد ہونے والے اہم باشندے کون تھے تو اس میں آپ کو کسی←  مزید پڑھیے

اگر سمندر بھی روشنائی بن جاتے۔۔۔محمد اقبال دیوان

پچھلے برس قبل ایک کتاب ہاتھ لگ گئی اور پھر یوں ہوا کہ ۔۔۔ ؎جانے یہ کون میری روح کو چھو کر گزرا اک قیامت ہوئی بیدار خدا خیر کرے! کچھ کتابیں آپ کو اپنے نام سے ہی گرفت میں←  مزید پڑھیے

اَپُّن کا کرانچی، نیم ذاتی اور نیم سرکاری یادیں۔۔۔محمد اقبال دیوان۔قسط4

شہر کراچی سے میری شعوری یادوں کا سفر سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔یہ سفر تا حال جاری ہے۔ میرؔ کے    شہر، دہلی کی مانند، شہر کراچی عالم میں انتخاب تو کبھی بھی نہ تھا پر جیسا بے←  مزید پڑھیے

اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/تیسری قسط

اس جنگ کا باقاعدہ آغاز نو بجے صبح 15 فروری 1843 کو پھلیلی ، حیدرآباد کے مقام پر اس وقت ہوا جب آٹھ ہزار سندھی سپاہیوں نے جن کی اکثریت بلوچ تھی ،انگریز چھاؤنی پر حملہ کیا۔دو دن بعد انگریزوں←  مزید پڑھیے

مادھوری ڈکشٹ سے ایم ایف حسین کے عشق کی داستان۔۔محمد اقبال دیوان

ہمارے دیوان صاحب کے آبا ؤ  اجداد کا تعلق ریاست جونا گڑھ سے تھا۔ان پروہان کے سماجی اثرات کی چھاپ بڑی گہری ہے۔خود نان کنفرمسٹ تھے تو علم اور سول سروس کی  طرف چلے گئے گو والد کا خیال تھا←  مزید پڑھیے

اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری قسط

آئیے اب آپ کو مالوہ اور افیون سے متعارف کرتے ہیں۔ مالوہ اس زرخیز خطہ ء اراضی کا پرانا نام ہے جو اس وقت چار بھارتی ریاستوں مدھیا پردیش، راجھستان،گجرات اور بنڈیل کھنڈ، یو۔پی کے درمیاں واقع ہے۔راجھستان کا مشہور  ←  مزید پڑھیے

اپُن کا کراچی:کراچی، مالوہ،پختون اور افیون ۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

شہر کراچی سے ہماری شعوری یادوں کا سفر سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔یہ سفر تاحال جاری ہے۔ سوچا ہے کہ کراچی کے بارے میں جو پڑھا،دیکھا اور سنا ان کو یک جا کرکے آپ کی خدمت میں←  مزید پڑھیے

تیل کی دھار۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

ڈاکٹریوسف بیسران نے ہمیں اگلے دن لینے کے لیے اپنی سیکرٹری ستی روحانہ سالکین کو بھیج دیا۔ان سے ملنے کا مقام وزارت کے دفتر کی بجائے ( PORIM )the Palm Oil Research Institute of Malaysia کا ادارے والا دفتر ٹھہرا۔وہیں←  مزید پڑھیے