معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

قصہ اک سرد رات کا – از خلیفہ رشید الہارون

نابود ہوجاتی ہیں وہ اقوام کہ جو اپنے ہیرے سنبھال نہیں پاتیں۔ ہیرے جناب والا ہیرے۔ ہیرے جو آپ سجانے کو مرے جاتے ہیں سنبھال مگر نہیں پاتے۔ الحذر الحذر۔ بیشک انسان خسارے میں ہے۔ بیشک کپتان خسارے میں ہے۔←  مزید پڑھیے

اور لاشیں مل گئیں!

غالباً سال 2012 میں افغانستان سے واپسی پہ بعینہ ایسا ہی واقعہ طور خم بارڈر پہ دیکھا جہاں پہاڑی راستے پہ کہیں اوپر آئل ٹینکر گرا ہوا تھا۔ بہت سے لوگوں کی نسبت (جو اندھا دھند قیاس آرائیوں میں مصروف←  مزید پڑھیے

اپنی اپنی دنیا

نوے کی دہائی سے پہلے معلومات عامہ کا مآخذ کتابوں، ٹیلی وژن اور اخبارات تک محدود تھا۔ ہر طرح کی خبریں ہم تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ لیتی تھیں کیونکہ خبروں اور معلومات کے ذرائع پہ ہمارا کنٹرول نہ تھا۔←  مزید پڑھیے

ریاستی مفاد اور ایران سعودی چپقلش

ٹرمپ ان دنوں سعودی حکومت کا مہمان تھا۔ چونکہ سعودی عرب سے محبت و نفرت کرنے والوں کی مملکت الباکستان میں بہتات ہے لہٰذاپچھلے ایک ہفتے سے مومنین و صالحین بارش کے بعد جیسے نکلے سے دکھائی دے رہے ہیں۔←  مزید پڑھیے

کون پارسا کون فاحشہ؟

اس نے دعوت دی، میں نے قبول کی ، وہ داعی ہو کے پارسا۔۔ میں مدعو ۔۔پھر بھی فاحشہ، جسم میرا ہی تھا، آنکھ تیری تھی ظالم، تو ناظر رہا اور پارسا، میں حاضر ہوئی ۔۔۔سو فاحشہ! محفل سجائی تو←  مزید پڑھیے

جوابِ شاہنامۂ عمران

ثاقب ملک بھائی کی جانب سے دو اقساط پر مبنی مضمون سامنے آیا جس میں عمران خان کو معصوم عن الخطاء قسم کا مسیحا پیش کیا گیا۔ ثاقب بھائی سے پیار محبت اور تعظیم کا رشتہ ہے جس کی بنیاد←  مزید پڑھیے

ایک خیالی فیصلہ

(Note: this is a piece of literature and merely a satire. It must not be taken as an allegation and/or contempt either to a person or institution. Moreover, Mukaalma.com does not necessarily agree with the words and phrases used) IN←  مزید پڑھیے

عوریائی ڈائری کا ایک ورق

صبح سے طبیعت میں کچھ کثافت سی محسوس کر رہا تھا۔ رات چھولے پٹھورے کھائے اور بوجہ رب کائنات کی جانب سے عطا کردہ ذائقوں کے، بسیار خوری کی حد کو چھو بیٹھا۔ شاید یہی وجہ رہی کہ رات عجیب←  مزید پڑھیے

مقدمہ لبرلزم

لبرل اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں کیا چاہیے۔۔ وہ فقط آزادی اور برابری چاہتے ہیں اس کے علاوہ تیسرا کوئی مقصد ان کے پیشِ نظر نہیں، ان کا خواب ہر کام کی آزادی ہے پھر چاہے وہ آزادی اظہار←  مزید پڑھیے

نیا پختونخوا،مضبوط ادارے اور ہماری امیدیں

جنرل الیکشن2013ءکے نتیجے میں خان صاحب کسی پرانے جوہڑ میں تازہ پانی کی طرح سیاسی منظر نامے پہ ابھرتے دکھائی دیے۔ خیبر پختونخواہ کا غیر پختون ڈومیسائیل ہولڈر ہونے کے ناطے کم از کم مجھے مقامی و ملکی سیاسی کینوس←  مزید پڑھیے

علما کے سکینڈل کی حکومت تحقیقات کروائے

علما کے سکینڈل کی حکومت تحقیقات کروائے معاذ بن محمود ہمارے ارد گرد ایسے کئی واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جنہیں یاد رکھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا معاشرے کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ←  مزید پڑھیے

عالمی طاقتیں، ہمارا میڈیا اور کالی بھیڑیں

معمر قذافی، صدام حسین اور حسنی مبارک؛ ان شخصیات کے تمام تر مطلق العنانیت اور آمریت سے بھرپور ادوار کے باوجود بھی ان کے چلے جانے کے بعد جو ایک حقیقت مکمل طور پر واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ←  مزید پڑھیے

خارج گمشدہ افراد اور ایک موقف

میں سلمان حیدر کو نہیں جانتا۔ ایک شام سوشل میڈیا پہ کچھ شور و غل برپا دیکھا۔ استفسار پہ معلوم ہوا کہ کوئی سلمان حیدر نامی صاحب غائب ہیں۔ تھوڑا مزید کریدا تو انکشاف ہوا کہ بھینسا نامی ایک فیس←  مزید پڑھیے

سوال ایک بستر کا

خبر دلسوز تھی البتہ دل جلانے سے کہیں بہتر دلجوئی کرنا ہے؛ دلجوئی ان کی جن کا دل آگے جا کہ ٹوٹنے کو ہے۔ یہ بات بھی جان لی جائے کہ خونی رشتے کو لحد کے سپرد کرنا دل ٹوٹنے←  مزید پڑھیے

اچانک

یہ دن تھا 28 جون 2013 کا۔ امارات میں میرا پہلا ماہ رمضان شروع ہونے میں چند دن باقی تھے۔ دس گھنٹے ملازمت اور دو گھنٹے سفر کرنے کے بعد میں اس قابل نہیں رہتا تھا کہ باہر جا کر←  مزید پڑھیے

رحم کی اپیل

ایک لمحے کے لیے سوچ لیجیے کہ عمران خان وزیراعظم ہے۔ اب یہ سوچیے کہ عمران خان کی نسبت نواز شریف کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے مل کی کوئی تحریک چلانا کتنا مشکل یا کتنا آسان ہوگا؟ یہ بھی یاد←  مزید پڑھیے

عوامی حافظہ

راجہ داہر نے اپنی بہن سے شادی کا ارادہ کیا جس کی اجازت اس وقت کا ہندو معاشرہ نہ دیتا تھا۔ راجہ نے اپنے ایک وزیر سے مشورہ لیا۔ وزیر موصوف نے کہا حضور یہ عوام کچھ دن کے اندر←  مزید پڑھیے

معاشرے میں افراد کا کردار: چند مثالیں

سوشل میڈیا اپنے ارتقائی عمل سے گزرتا ہوا دن بہ دن اپنی بلوغت کی جانب گامزن ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ فیسبک کا مثبت استعمال اس کے منفی استعمال کو مات دیتا جا رہا ہے۔ پچھلے چند برسوں پہ سرسری←  مزید پڑھیے