Aslam Awan کی تحاریر
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

سویلین بالادستی کی تحریک۔۔اسلم اعوان

حساس عہدوں پہ تعیناتیوں کے ایشو نے موجودہ صورتِ حال کو اُس مقام تک پہنچا دیا جہاں سے فریقین کے لئے واپس پلٹنا دشوار ہو گیا۔ یہ شاید غلط وقت پہ کیا جانے والا فیصلہ تھا جس نے حکومت کو←  مزید پڑھیے

نئی دنیا کی تخلیق مشرق کرے گا؟۔۔اسلم اعوان

دوحہ میں امریکی نمائندوں کے طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کا محور نیولبرل ازم کے اُن اساسی تصورات سے مملو ہے جنہیں مغربی طاقتیں ہمیشہ کمزور ممالک میں مداخلت کے آلہ کار کے طور پہ استعمال کرتی رہی ہیں؛ یعنی←  مزید پڑھیے

قومی سیاست نیا موڑ مڑنے والی ہے؟۔۔اسلم اعوان

افغانستان سے امریکی فوج کی پسپائی کے نتیجہ میں جس طرح عالمی سطح پر کئی دور رس تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوئی‘تغیرات کی اسی لہر میں پاکستان کی قومی سیاست بھی جمود کی اُس یبوست سے نکل کر سفرِ حیات←  مزید پڑھیے

تعلیمی نظام میں سیاسی مداخلت کے مضمرات۔۔اسلم اعوان

وزیراعظم عمران خان نے بلآخر 23ستمبر کو اُس دامان زرعی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا جس کے خلاف جامعہ گومل کے متعوب وی سی ڈاکٹر افتخاراحمد طویل عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں تاہم وزیراعظم کی افتتاحی تقریب کے انعقاد←  مزید پڑھیے

مغرب کی نئی سرد جنگ ؟۔۔اسلم اعوان

افغانستان میں امریکی شکست کے بعد مغربی دنیا کے فطری زوال بارے پھیلنے والے تاثر کی بدولت یہاں چین سمیت علاقائی طاقتوں کے ساتھ معاشی،سیاسی اور ثقافتی رشتے بڑھانے کے بیانیہ کو بے پناہ مقبولیت ملی،جس نے رائے عامہ کی←  مزید پڑھیے

زوالِ مغرب؟۔۔اسلم اعوان

کابل پہ طالبان کا کنٹرول مکمل ہوتے ہی امریکی سرپرستی کی حامل افغان حکومت کا تیزی سے خاتمہ خطے میں بڑی جیوسٹریٹیجک تشکیلِ نو کا محرک بن گیا۔ جوں جوں امارتِ اسلامیہ افغانستان میں دوبارہ مستحکم ہوتی جائے گی‘ توں←  مزید پڑھیے

سقوط کابل اورخطہ کا مستقبل۔۔اسلم اعوان

افغانستان میں اِس وقت وسیع البنیاد حکومت کے قیام کی خاطر افغان دھڑوں میں جاری رسہ کشی میں ہی امریکیوںکو اپنی شکست کی خجالت چھپانے کی امید دکھائی دیتی ہے۔لاریب،دنیا کی واحد سپر پاور کو جنگی ہزیمت کے مضمرات کم←  مزید پڑھیے

گریٹ گیم کا عبرت انگیز اختتام؟۔۔اسلم اعوان

ماضی کی عالمی طاقتوں نے انیسویں صدی میں افغانستان کوگریٹ گیم کا میدان کازار اُس وقت بنایا جب روس کی ملکہ کیتھرائین دی گریٹ نے گوادر کی بندرگاہ تک پہنچنے کا منصوبہ بنایا،زارِِِ روس کے اِسی پلان کو ناکام بنانے←  مزید پڑھیے

ڈیجیٹل عہد میں میڈیا کی آزادی۔۔اسلم اعوان

ہمارے میڈیا کارکنان اور اعمال ِحکومت کے مابین سرعت سے بڑھتی ہوئی کشمکش بدلتی تہذیبی اقدار کا پتہ دے رہی ہے،امر واقعہ بھی یہی ہے کہ دنیا کا بیشتر حصہ اس وقت ایسی تبدیلیوں کی زد میں ہے،جس کے بارے←  مزید پڑھیے

شکست کا نقاب ابہام؟۔۔اسلم اعوان

20 سالہ امریکی جنگ سے نجات کے بعد افغانستان کے پڑوسی ممالک طالبان کی دوبارہ بالادستی کے اندیشہ ہائے دور دراز سے خائف ہیں،ماسکو سے لیکر بیجنگ اور نئی دِلی سے تہران تک علاقائی مملکتیں ممکنہ عدم استحکام سے بچنے←  مزید پڑھیے

زندگی کا دھارا کبھی رکتا نہیں۔۔اسلم اعوان

طویل عرصہ بعد جے یو آئی جیسی ملک گیر جماعت نے جنوبی وزیرستان کے دل مکین میں بڑے عوامی اجتماع کے ذریعے جنگ زدہ خطہ میں سیاسی سرگرمیوں کی ابتداءکرکے سب کو حیران کر دیا،امید ہے یہ گداز سرگرمی مقامی←  مزید پڑھیے

سقوطِ کابل ممکن ہو پائے گا ؟۔۔اسلم اعوان

امریکی انخلا کے ساتھ جس شدت سے سقوط قند ھار کی گونج سنائی دے رہی تھی‘اضطراب کی وہ کیفیت جلد کافور ہو گئی بلکہ ہر گزرتا لمحہ افغانستان پر طالبان کی ممکنہ بالادستی کے امکان کو بعید تر بنا رہا←  مزید پڑھیے

قومی سیاست کا پنڈولم۔۔اسلم اعوان

مخصوص جغرافیائی حالات کے جبر اور عالمی برادری کی سنگ دلی کی وجہ سے ہماری قومی سیاست ہمیشہ مقتدر قوتوں کے دباؤ میں رہی،اس لئے یہاں وہ سیاسی کلچر پروان نہیں چڑھ سکا جس میں کسی سویلین حکومت کو دوام←  مزید پڑھیے

طویل جنگ کے مضمرات۔۔اسلم اعوان

امریکی انخلاءکے بعد افغان جنگ کے فریقین اس طویل مگر مہیب جنگ کے مضمرات اور ثمرات کو سمیٹنے کی آزمائش سے دوچار ہیں،طالبان اپنی ادھوری فتح کی تکمیل کی خاطر نہایت خاموشی کے ساتھ فوجی پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہیں،طالبان←  مزید پڑھیے

مسئلہ افغانستان کا سیاسی حل۔۔اسلم اعوان

امریکا نے معاہدے کے مطابق‘ اپنے یومِ آزادی چار جولائی سے دو روز قبل ہی بگرام ایئر بیس خالی کر کے انخلا کا ایک بڑا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ بگرام ایئر بیس کا کنٹرول اب افغان فورسز کے حوالے←  مزید پڑھیے

قومی سیاست اور عالمی حالات کا تناظر۔۔اسلم اعوان

پیپلزپارٹی کی علیحدگی کے باعث اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کی رفتار عمل کو لگنے والی بریک سے جس قسم کا سیاسی خلاءپیدا ہوا،اسے پُرکرنے کی کوشش ابھی تک باآور نہیں ہو سکی اوراپنی تمام تر مساعی کے باوجود فی←  مزید پڑھیے

آزادی صحافت کی تحریک اورمیڈیا سٹار۔۔اسلم اعوان

سنہ 1988 میں پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس ختم ہونے کے بعد ملک کے طول و ارض میں سینکڑوں اخبارات اور جرائد کو نئے ڈیکلریشن اوربعدازاں نجی ٹی وی چینلز کو لائسنس ملے تو چہار سو معلومات کا سیلاب اُمڈ←  مزید پڑھیے

دوطرفہ جنگی بیانیہ کا اختتام قریب ہے؟۔۔اسلم اعوان

افغانیوں کی قسمت ایک بار پھر تغیرپذیر عوامل کی ٹھوکر سے ناقابل ِ یقین تبدیلیوں سے ہم آغوش ہونے والی ہے، تاہم یہ پالیسی شفٹ کچھ ایسے سوالات کو جنم ضرور دے گی جو وہاں کے جمود پرور معاشرے کے←  مزید پڑھیے

اعلیٰ تعلیم یا بازیچہ اطفال؟۔۔اسلم اعوان

گزشتہ چند دنوں کے دوران گورنر شاہ فرمان نے صوبائی گورنمنٹ کی ایڈوائز پر خیبرپختون خوا کی تین سرکاری یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کو جبری رخصت پہ بھیج کے اعلی تعلیمی اداروں میں ایسی نئی روایت قائم کی جس کے←  مزید پڑھیے

بدلتا سیاسی منظر نامہ۔۔اسلم اعوان

نئی جدلیات پی ڈی ایم نے آخرکار پیپلزپارٹی سے راہیں جدا کر کے اُس طویل المدتی سیاسی جدلیات کی بنیاد رکھ دی،جس کا مقصد سویلین بالادستی کا حصول ہو گا،لاریب، اسی کشمکش میں پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم کے پاو¿ں←  مزید پڑھیے